fbpx

سابق وزیراعظم کے دورحکومت میں ڈیم فنڈز کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو نہ دیے جانے کا انکشاف

اسلام آباد:سابق وزیراعظم کے دورحکومت میں ڈیم فنڈز کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو نہ دیے جانے کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق عمران خان دور میں صرف 2019-20 کے دوران ہی وزارت آبی وسائل میں اربوں روپے کے گھپلے سامنے آگئے۔اس سلسلے میں مزید معلوم ہوا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار دور میں بھاشا ڈیم کے نام پر عوام سے وصول فنڈ کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو نہ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں وزارت آبی وسائل کی آڈٹ رپورٹ 2019-20 کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں وصول ڈیم فنڈز کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو فراہم نہ کیے جانے کیخلاف موجودہ چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کا کہنا ہے کہ ہم ملک کا کم اور ذاتی اناؤں کا زیادہ سوچتے ہیں تاکہ ہمارا کوئی احتساب نہ کر سکے۔ چیف جسٹس سے ہماری درخواست ہے کہ معاملے کو دیکھیں اور اکاؤنٹس شیئر کریں یہ پاکستان کے پیسے ہیں ڈیم پر خرچ کرنے کیلئے ہیں۔پی اے سی نے 2019-20 میں ڈیمز پراجیکٹس میں 500 سے زائد چینی شہریوں کے تحفظ کی آڑ میں بھاری تنخواہوں پر رکھے گئے کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی ہدایت کر دی۔

سال 2019-20 میں ہی مختلف منصوبوں کیلئے 114 سے زائد افراد کو چار چار لاکھ روپے تک تنخواہ پر بھرتی کیا گیا، ڈیم پراجیکٹ میں ساڑھے تین لاکھ روپے ماہانہ پر ایک گائناکالوجسٹ اور مشیر کے عہدے پر ٹی وی اداکارہ فرالس گوہر کو دو لاکھ روپے تنخواہ پر رکھ لیا گیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھاشا، داسو، مہمند ڈیمز ، نیلم جہلم پراجیکٹ اور کے فور کراچی منصوبے کا فرانزک آڈٹ کروانے کی بھی ٹھان لی۔پی اے سی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے آڈٹ پیراز کی کلیئرنس یا تصدیق کے لیئے رشوت مانگنے والے اے جی آفس عملے کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔