fbpx

ڈاکٹرعبدالرزاق سکندر نیک سیرت و فرشتہ صفت انسان تھے،مولانا اللہ وسایا

شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر عالم اسلام کے ممتاز عالم دین، بزرگ رہنما، اکابر و اسلاف کی نشانی، نیک سیرت و فرشتہ صفت انسان تھے۔ شہر کراچی میں جن علمائے کرام نے اسلام کی فضا کو بقا بخشی، ان میں محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بًنوری قدس سرہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا یوسف بًنوری ہی کے تربیت یافتہ، صحبت نشین، خصوصی تلمیذ اور جانشین و مسند نشین تھے۔
ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرمرکزیہ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بًنوری ٹاؤن کے رئیس و شیخ الحدیث، استاذ العلمائ ، رئیس المحدثین حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ تعالیٰ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔
وہ جامع مسجد فلاح (شارع حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، بلاک 14،ایف.بی.ایریا میں جمعہ مبارک کے اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ کے ساتھ میرا تعلق چالیس سے پینتالیس سالوں کو محیط ہے، آپ کے ساتھ اسفار اور مختلف مواقع پر میں شریک رہا، میں عنداللہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ کو کبھی کسی پر غصہ کرتے نہیں دیکھا۔
آپ انتہائی نیک سیرت اور فرشتہ صفت انسان تھے۔ ختم نبوت پر آپ کی خدمات کا زمانہ گواہ ہے۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف ’’قادیانی فتنہ اور ملت اسلامیہ کا مؤقف‘‘ کا عربی میں ترجمہ کر کے اسے عرب ممالک میں عام کیا اور عالم عرب قادیانی فتنہ کی زہر ناکیوں سے واقف ہوا۔
اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد قاسم، مولانا کلیم اللہ نعمان، سید انوار الحسن، مولانا مفتی محمد عمیر، حافظ اویس، حافظ یحیٰ، محمد عمر، اجمل لیاقت و دیگر بھی موجود تھے۔ آخر میں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ تعالیٰ کے لیے اجتماعی ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی گئی۔