ڈاکٹر کرونا کا شکار ہوا تو ہسپتال انتظامیہ نے بے حسی کی انتہا کردی

ڈاکٹر کرونا کا شکار ہوا تو تنخوا ہ روک لی گئی،انتظامیہ کی بے حسی کی انتہا

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق، ملک میں‌کرونا پھر سے بڑھ رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل کے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں. کرونا کی پچھلی لہر میں‌ کئی ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی کرونا کی وجہ سے جاں بحق ہوئے . . اس طرح اب بھی یہی صورت حال ہے کہ ڈاکٹر حضرات کورونا کا شکار ہو رہے ہیں. لیکن ایک ایسا وقعہ پیش آیا جسے سن کر ہسپتال انتطامیہ کی بے حسی پر رونا آتا ہےنشتر ہسپتال ملتان کا ایک ڈاکٹر کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تو اس کو 15دن کے لیے بنا تنخواہ چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے. اس پر انتظامیہ پر شدید تنقید ہور ہی ہے. اس سلسلے میں‌کہا جا رہا ہے کہ کیا جنگ جب کوئی فوجی زخمی ہو جائے تو اس کی تنخواہ روک دی جاتی ہے . ؟

ڈاکٹر حضرات اور دیگر میڈیکل کے لوگ بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستانیوں کا علاج کر رہے ہیں. لیکن کیا اگر وہ خود اس کا شکار ہو جائیں تو ان کو بجائے اس کہ تعاون کیا جائے الٹا تنخواہ روک کر گھر بھیج دیا جائے گا. اس سلسلے میں‌ انتطامیہ کو دیکھنا ہوگا. کہ ان کا یہ عمل کتنا غلط ہے اور اس عمل سے ان ڈاکٹر حضرات کو کیا پیغام جائے گا . جو اپنی جان خطرے میں‌ڈال کر خدمت کا فریضہ انجا م دے رہے ہیں.
ادھر ڈاکٹرز نے نشتر ہسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نشتر ہسپتال میں اس وقت کورونا کے سب سے زیادہ مریض داخل ہیں،کورونا مریضوں کو دیگر مریضوں سے علیحدہ کرنے کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے،نشتر ہسپتال کے ڈاکٹر اور دیگر عملہ تیزی سے کورونا میں مبتلا ہو رہا ہے،نشتر ہسپتال کے ڈاکٹروں سمیت دیگر عملے کو حفاظتی سامان فوری طور پر مہیا کیا جائے ،ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر سرکاری ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے 100 بستروں کا اضافہ کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.