fbpx

ڈاکٹرز پسماندہ علاقوں کی خدمت کے لئے اپنی خدمات پیش کریں، گورنر سندھ عمران اسماعیل

گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ ڈاکٹرزپسماندہ اورپسے ہوئے طبقات کی خدمت کے لئے اپنی خدمات کوپیش کریں، وہ امید کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے اوراپنی زندگی کو بامقصد اور معاشرے میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے اپنا مقام بنائیں گے۔
جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے اسرایونیورسٹی کراچی کیمپس کے سالانہ کانووکیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانووکیشن میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر نذیر اشرف لغاری ،بورڈ آف ڈائریکٹرز فیکلٹی ممبران کامیاب امیدوار اور ان کے والدین بھی شریک تھے۔ کانووکیشن میں مختلف مضامین میں 203طلباکواسناد دی گئیں ۔
اسناد سے پہلے طلبہ سے حلف بھی لیاگیا۔طلبامیں میڈیکل سائنسز،وژن سائنسزاورفزیکل تھراپی کی ڈگریاں دی گئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کومبارکباد دی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج آپ کے عملی کیریئر کےآغاز کادن ہے،طلبہ و طالبات اپنے مقصدکاتعین کریں اورمقصد کے حصول کے لئے مزید محنت کریں۔عمران اسماعیل نے کہا کہ ہمارے ملک میں تعلیم یافتہ ہونے کامعیارانگریزی بولنے پر ہے، ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس نے کتنی تعلیم حاصل کی ہے، ترقی یافتہ ممالک جیسے فرانس اور جرمنی میں انگریزی زبان نہیں بولی جاتی ۔
ہمیں اپنی زبان کواہمیت دینا پڑے گی۔گورنرسندھ نے کہا کہ ملکی ترقی میں اعلی تعلیم یافتہ خواتین کی خدمات کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کامیاب نوجوان سکیم سے نوجوان بھر پور فائدہ اٹھائیں ۔گروپ کی صورت میں بھی کئی کاروبارکرسکتے ہیں۔ گورنر سندھ نے کامیاب کانووکیشن کرانے پر چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اسد اللہ قاضی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نظیر اشرف لغاری کو مبارکباد بھی دی۔
تقریب میں گورنرسندھ نے پوزیشن ہولڈرزطلبہ میں سونے چاندی اورکانسی کے میڈل بھی تقسیم کئے۔کانووکیشن میں عمر طارق ، ملائکہ ، ماہین اور حسنین پاشا نے طلائی تمغے جبکہ نایاب یاسین ، مریم لیاقت ، ماہم گل اور اقصی سومرو نے چاندی کے تمغے ،ثنا باری ، حرا الفت اور مریم بی بی نے کانسی کے تمغے حاصل کئے۔بعدا زاں صحافیوں سے گفتگومیں گورنرسندھ نے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ سے صوبے کے سکولوں کی حالت زار کو بار بار دکھایا ہے جس میں واضح دیکھا گیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں تو بہت گھمبیر مسائل ہیں ،یہاں گھوسٹ اساتذہ کے ساتھ ساتھ گھوسٹ سکولز بھی ہیں ،سکولوں میں بھینسیں بھی بندھی ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتےہیں کہ حکومت سندھ اس مسئلہ کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے گی ۔ ڈیسک خریداری کے حوالے سے کئے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ہمارے غریب بچوں کاپیسہ ہے مجھے امید ہے کہ سنجیدہ انکوائری ہوگی ۔