fbpx

دولے شاہ کے چوہے. تحریر: راحیلہ عقیل

سید کبیرالدین شاہ کا مزار گجرات شہر کے درمیان میں واقع ہے اس کی وجہ شہرت اس مزار پر پائے جانے والے چھوٹے سروں کے معصوم اور انتہائی مظلوم بچے بڑے ہیں آخر کیا وجہ ہے کیوں ہیں یہ بچے ایسے ؟

کہا جاتا ہے جو تحقیق سے ثابت بھی ہوا ہے کہ جو جوڑے اولاد کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس مزار پر آکر منت مانتے ہیں کہ انکے گھر جو پہلی اولاد پیدا ہوگئی چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی اس کو مزار پر دیا جائے گا کون سی ماں ایسی ہوگئی جو اپنی پیٹ سے جنمی اولاد کو ایسی جگہ چھوڑ آئے جہاں ہر طرف مظلوم دکھائی دیتے ہوں ” لیکن کہا جاتا ہے کے جس نے منت پوری نا کی انکی دوسری تیسری اولادیں بھی چھوٹے سر والے شاہ دولے کے چوہے پیدا ہونگے حالانکہ بہت سے منتی بچوں کے سر نارمل بچوں جیسے تھے وہ کہیں سے چوہے نہیں لگتے تھے پھر بھی دل پر پھتر رکھ کر والدین کو اپنی اولاد مزار کے کرتا دھرتاوں کے حوالے کرنی پڑتی،دوسرا تاثر یہ ہے کہ یہ بچے بالکل نارمل ہوتے ہیں بھکاری مافیا ان بچوں کو اغوا کرتا ہے بچپن میں ہی ان بچوں کے سروں پر لوہے کے کنٹوپ یا آہنی پتریاں لگا کر رکھا جاتا ہے تاکہ ان کے سر چھوٹے رہ جائیں اور ان کی ذہنی نشوونما نہ ہوسکے تاکہ انہیں درگاہوں پر اور بازاروں میں دولے شاہ کے چوہے کے طور پر پیش کرکے بھیک منگوائی جائے، اکثر والدین اولاد کی ممتا میں مجبور ہوکر مزار کا رخ کرتے ہیں کے اپنی اولاد کو دیکھ سکیں مگر وہاں وہ بچے دوبارہ دکھائی نہیں دیتے سالوں بعد نظر ابھی جائیں تو پہچان میں نہیں آتے،

امریکہ کے نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹیٹیوٹ (NHCRI) نے چند سال پہلے اس معاملے پر تحقیق کی تھی اور اس تحقیق میں ان 33 پاکستانی گھرانوں کو بھی شامل کیا اکثر ماہرین کو کہنا ہے خاندان میں شادیاں کرنے سے ایسے بچے پیدا ہوسکتے ہیں مگر ابھی تک اس پر مکمل اتفاق نہیں ہوا، شاہ دولے کے چوہے تو ذہنی نشوونما رک جانے پر اپنا صحیح غلط پہچان نہیں پاتے مگر کیا آپ نے سوچا ہے کتنی سیاسی جماعتیں ہیں جو عوام کو اپنے مفاد کے لیے انکے ذہنوں کو خراب کرکے اپنے حساب سے چلا رہے کوئی کارکن اپنے لیڈر کے خلاف درست بات بھی سنا برداشت نہیں کرتا، مذہبی جماعتیں ہوں یا ملک دشمن ذہنوں پر ایسی کنٹوپ لگائی ہوئی ہے کہ مرنے مارنے کو تیار رہتے ہیں ایک آواز پر دنگے فساد جلاؤ گھیراؤ یہ ہیں اصل ذہنی بیمار لوگ جنکو صحیح غلط دکھائی نہیں دیتا شاہ دولے کے چوہے نا صحیح ایسے لوگ اپنی نسلوں کو بھی غلامی کی زنجیر پہنا کر چلے جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہم پڑھے لکھے باشعور لوگ ہیں