fbpx

روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

باغی ٹی وی : ڈالر ایک بار پھر نیچے آنے لگا ہے .ڈالر کی کمی اور تنزلی کا سلسلہ جاری ہے جب کہ روپیہ اس کے مقابلے میں تکڑا ہوا رہا ہے . انٹربینک میں ڈالر 22 ماہ کی کم ترین سطح پر بند ہوا۔ ڈالر سستا ہونے سے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اب تک 1700 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق ڈالر کمزور اور روپیہ جان پکڑنے لگا، انٹربینک میں ڈالر مزید 95 پیسے کمی کے بعد 22 ماہ کی کم ترین سطح 152 روپے 9 پیسے پر بند ہوا، اس قبل ڈالر 13 جون 2019 کو اس سطح پر ٹریڈ ہوا تھا ۔۔

موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس وقت ڈالر 124 روپے 50 پیسے پر تھا جبکہ 23 اگست 2020 کو انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 168 روپے 43 پیسے پر پہنچ گیا تھا۔ اگست سے اب تک ڈالر کی قیمت میں 9 فیصد کم ہوچکی ہے ۔۔ جبکہ صرف مارچ میں ہی ڈالر 3 اعشاریہ 2 فیصد سستا ہوا۔

واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.