fbpx

ڈالر پاکستان کیلئے چیلینج بن گیا،قیمت 215 روپے سے تجاوز کر گئی

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

ڈالر کی اونچی اُڑان اور روپے کی بے قدری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، منگل کو کاروبار کے آغاز پر بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کی وجہ سے امریکی ڈالر 3.24روپے اضافے سے 213.20روپے کا ہوگیا۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک روپیہ 50 پیسے اضافے سے 215 روپے 50 پیسے تک پہنچ گئی، ملک بھر میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مارچ میں تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سے لیکر اب تک ملکی کرنسی مسلسل گراوٹ کی طرف جا رہی ہے، اپریل میں امریکی ڈالر 172 روپے کے قریب تھا۔

تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ فوری طور پر رجوع کیا، عالمی ادارے کی طرف سے کہا گیا کہ فوری طور گیس، پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں بصورت دیگر کوئی رقم جاری نہیں کی جائے۔

اسی دوران آئی ایم ایف کے دباؤ پر 26 مئی سے لیکر 15 جون تک حکومت کی جانب سے مسلسل تین بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے جانے کے باوجود ملکی کرنسی بدترین گراوٹ کی طرف جا رہی ہے، زرِمبادلہ کے ذخائر بھی تیزی سے گر رہے ہیں جبکہ حکومت اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تاحال نہ ہو سکا۔عالمی ادارے کا تاحال کہنا ہے کہ گیس، بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں اور ہماری شرائط پر فوری عمل کیا جائے جس کے بعد قرض پروگرام کو بحال کیا جائے گا۔

دوسری طرف ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نذر ،ملک کی اقتصادی صورتحال خطرناک ہوتی جارہی ہے ، صورتحال کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والا طوفان سب بہا لے جائے گا.ڈالر کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمت سے مہنگائی مزید بڑھے گی، تاہم حکومت کی جانب سے اس اہم مسلئے پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے. ڈالر کی بڑگتی قیمت پر ارباب اختیار کی خاموش نشویشناک ہے.