fbpx

ڈونلڈ ٹرمپ واحد امریکی صدر:دومرتبہ مواخذہ،دونوں مرتبہ ناکام:2024 میں پوری طاقت سے پھرآنے کااعلان

واشنگٹن :ڈونلڈ ٹرمپ واحد امریکی صدردومرتبہ مواخذہ،دونوں مرتبہ ناکام:2024 میں پوری طاقت سے پھرآنے کااعلان،اطلاعات کے مطابق سابق امریکی سدر ڈونلڈ ٹرمپ واحد امریکی صدر تھے جن کو دومرتبہ مواخذے کے ذریعے ہمیشہ کےلیے صدارت کے لیے نااہل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ، ذرائع کے مطابق دنیا کے ممتاز تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ایسے لگ رہا ہےکہ مواخذے کے بریت کے بعد ٹرمپ قانون کی غیر مستقل حکمرانی کے لئے ہمیشہ اور ہمیشہ ہی چیمپئن رہیں گے

اطلاعات کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سینیٹ نے ہفتے کے روز سابق صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو دارالحکومت میں 6 جنوری کی بغاوت کو بھڑکانے کے الزام میں بری کردیا۔

مواخذے کی تحریک ناکام ہونے اورپھر اس کے نتیجے میں بری ہونے کے فورا بعد ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ "کوئی بھی صدر اس سے پہلے کبھی نہیں گذرا”۔جس کا راستہ روکنے کے لیے دو مرتبہ ایسی سازشیں کی گئیں ہوں

دنیا جانتی ہے کہ چار دن کے مواخذے کے مقدمے کی سماعت کے بعد ، 100 رکنی سینیٹ میں ٹرمپ کی مخالفت میں 57 جبکہ حمایت میں 43 ووٹ پڑے جو کہ دوتہائی سے بہت کم تھے ، باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اگرٹرمپ کے مواخذے کےلیے امریکی سینیٹ کے 67 ارکان مخالفت کرتے اورباقی حمایت میں 33 یا اس سے کم رہتے تویقینی طورپرٹرمپ کے ساتھ بہت براسلوک کیا جانا تھا لیکن ٹرمپ کے مواخذے کے لیے مزید 10 ووٹوں‌کی ابھی مزید ضرورت تھی

حالانکہ ٹرمپ کے اپنے سات سینیٹروں نے بھی ٹرمپ کی مخالفت میں ووٹ دیا یہ سات ریپبلیکن سینیٹرز- بل کیسڈی ، رچرڈ بر ، مِٹ رومنی ، سوسن کولنز ، لیزا ماروکوسکی ، بین ساسے اور پیٹ ٹومی تھے جنہوں‌نے ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

ٹرمپ وہ پہلا صدر ہیں جنھیں دو بار مواخذہ کیا گیا تھا اور وہ پہلے صدر ہیں جنھیں عہدہ چھوڑنے کے بعد مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لیکن اس کے باوجود ٹرمپ کو شکست نہ دی جاسکی جس کےبعد ٹرمپ نے دھاڑتے ہوئے کہا کہ سن لیں میں پھرآرہا ہوں اوربتاوں گا کہ کس طرح میری مخالفت کی جاتی ہے

یاد رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 6 جنوری کو اپنے حامیوں کے ذریعہ امریکی دارالحکومت پر ہونے والے مہلک حملے پر بغاوت پر اکسانے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹرمپ نے مواخذے کی سازش ناکام ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا: "یہ اوقات افسوسناک رویوں کی مذمت کرنے کا ہے کہ جہاں امریکہ میں ایک سیاسی جماعت کو قانون کی حکمرانی کی مذمت کرنے کے لیے منتخب کروایا گیا اور انصاف کو سیاسی انتقام کے ایک آلے میں تبدیل کردیا گیا ،

ٹرمپ نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ ان کو کس نے حق دیا کہ وہ سارے لوگوں اور نظریات کو جن سے یا جن میں وہ متفق نہیں ہیں ان کو ظلم و ستم بنائیں ، بلیک لسٹ کریں ، منسوخ کریں اور دبائیں۔ ”

انہوں نے کہا ، "میں ہمیشہ ہی قانون کی غیر متزلزل حکمرانی ، قانون نافذ کرنے والے ہیرو ، اور امریکیوں کے حق کے ساتھ بدانتظام اور نفرت کے بغیر پرامن اور اعزازی طور پر اس دن کے معاملات پر بحث کرنے کا ایک چیمپئن بنوں گا۔”

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کی تاریخ میں جمہوریت کے جادوگروں کا سب سے بڑے شکار کا دوسرا مرحلہ تھا

ٹرمپ نےیہ اشارہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف کیا اورکہا کہ وہ اس روایت کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ وہاں‌ سے حکومتوں کے لانے اورگھربھیجنے کا حکم نامہ آئے

ٹرمپ نے کہا کہ میرے مخالفین سن لیں کہ 77 ملین ووٹرزکونظراندازکرنا کوئی آسان کام نہیں جنہوں‌نے مجھے عزت دی

ٹرمپ نے اپنے وکلا اوردیرینہ ساتھیوں‌کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس موقع پران کا ساتھ دیا اورحق کے لیے آواز بلند کی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.