fbpx

برخوردار:کورونا پرسیاست نہ کریں‌:انسانیت کی زندگی کاسوال ہے:اسد عمرکی بلاول کونصیحت

ٕلاہور:برخوردار:کورونا پرسیاست نہ کریں‌:انسانیت کی زندگی کاسوال ہے:اسد عمرکی بلاول کونصیحت،اطلاعات کے مطابق این سی او سی کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو صاحب کورونا وائرس کی صورتحال پر سیاست نہ کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے لاک ڈاؤن کے حوالے سے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹویٹر پر لکھا کہ بلاول بھٹو صاحب آپ نے گزشتہ سال مجھے ایک میٹنگ میں بتایا تھا کہ ملک میں ایک دن میں 78 ہزار اموات ہوئی ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے آپ بالکل نہیں سمجھتے۔ برائے مہربانی کورونا وائرس پر سیاست نہ کریں۔انسانیت کی زندگی کا سوال ہے ،

 

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے باعث اگر کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوتی ہے تو اس کے ذمے دار عمران خان ہوں گے۔

اپنے ٹویٹر پر وفاقی وزیر اسد عمر نے متواتر بار لکھا کہ بلاول صاحب آپ لاک ڈاؤن چاہتے ہیں، لیکن ایسا کرنے پر بھارت کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا، ساری دنیا نے بھارت میں ہونے والی تباہی دیکھی۔ لاک ڈاون کے اثرات سے ابھی تک بھارت کی معیشت نہیں سنبھل سکی اور 7 فیصد تک سکڑ گئی۔کروڑوں لوگ غربت میں چلے گئے۔

 

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی پالیسی انسانی جانیں اور روزگار دونوں بچانا ہے، عمران خان کی پالیسی کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔کورونا سے بھارت میں اموات پاکستان سے 3 گنا زیادہ ہیں لیکن پاکستان کی معیشت میں 4 فیصد بہتری آئی ہے۔

ایک اور ٹویٹ میں اسد عمر نے کہا ہے کہ امید ہے کل این سی او سی کے اجلاس میں سندھ حکومت لاک ڈاؤن سے متعلق معاملات پر تفصیل میں مشاورت کرے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے لکھا کہ جو سندھ میں صنعت اور ٹرانسپورٹ کی بندش کے بارے میں فیصلے کے گئے ہیں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

اسدعمر نے کہا کہ ہم نے کل بھی اور اج بھی اپنے نکتہ نظر سے آگاہ کیا تھا، جس کی بنیاد پر جزوی تبدیلی کی گئ ہے، جو خوش آئند ہے لیکن ابھی بھی مزید ترمیم کی ضرورت ہے۔

 

اسد عمر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ امید ہے کہ کل این سی او سی کے اجلاس میں سندھ حکومت ان تمام معاملات پر مزید تفصیل میں مشاورت کرے گی اور مشاورت سے ایسی حکمت عملی وضع ہو گی جس میں ریاست کے سب ستون مل کر سندھ کے عوام کی صحت اور روزگار دونوں کا دفاع کریں۔

دوسری طرف این سی او سی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے کورونا پھیلاؤ کےمدنظر31 جولائی سے8 اگست تک پابندیوں کا نفاذ کیا، وفاق کے زیر انتظام بعض سیکٹرز بھی ایس او پیز کے تحت کام کرتے رہیں گے۔