fbpx

دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

بیسویں صدی کے وسط میں راکٹ ٹیکنالوجی میں جدت سے ہم خلا میں پہنچے۔ 1969 میں پہلا انسان چاند پر گیا اور آج انسان کے بنائے سپیس کرافٹ اور روبوٹ دیگر سیاروں تک اور نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں۔

مگر کائنات بے حد وسیع ہے۔ دِکھنے والی کائنات کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور یہ بگ بینگ کے وقت سے اب تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔

آج سائنس کی مدد سے ہم خلاؤں میں سفر کر سکتے ہیں اور دوسری دنیاؤں پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات میں سورج جیسے کئی اور ستارے ہیں جنکے گرد کئی سیارے گھوم رہے ہیں۔ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ نظامِ شمسی سے باہر کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ستاروں سے اتنے فاصلے پر ہیں جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ اور ان میں سے کئی سیارے شاید زندگی کے لئے اس زمین سے بھی بہتر ہوں۔
مگر یہ سیارے زمین سے بہت دور ہیں۔ کئی تو لاکھوں نوری سالوں کی مسافت پر۔ مگر ہمارا سب سے قریبی ستارہ جسے ہم پڑوسی کہہ سکتے ہیں اسی کہکشاں ملکی وے میں جس میں ہم رہتے ہیں، میں ہم سے قریب 4.24 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں جو کہ ناممکن ہے تو ہمیں اس تلک پہنچنے میں 4.24 سال لگیں گے۔اس سرارے کا نام ہے Proxima Centauri.

اس ستارے کے گرد کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے یا مستقبل میں جہاں رہنا ممکن ہو۔ مگر ہم اس تک پہنچیں گے کیسے؟

آج تک انسان کے بنائے جدید سپیس کرافٹس میں سب سے زیادہ رفتار حاصل کرنے والا سپیس کرافٹ ناسا کا سولر پارکر پراب یے جو 2018 میں ہمارے سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ تقریبآ 5 لاکھ 35 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے قریب سے گزرا۔ مگر یہ رفتار روشنی کی رفتار جو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے نہایت کم ہے۔۔یعنی روشنی کی رفتار کا محض 0.05 فیصد!!

اب تک کا سب سے دور بھیجا جانے والا سپیس کرافٹ ناسا کا وائجر-1 ہے جو آج سے 44 سال پہلے یعنی 1977 میں نظامِ شسمی کے مشاہدے کے لئے بھیجا گیا اور یہ مشتری، اور زحل کے پاس سے گزرتا نظامِ شمسی سے باہر کی جانب نکالا مگر ہے یہ اب بھی نظامِ شمسی کی حدود میں ہے کیونکہ نظامِ شمسی پلوٹو سے بھی آگے بے حد وسیع ہے جہاں سورج کی گریوٹی اور اسکی تابکاری کا اثر موجود ہے۔

44 سال مسلسل سفر کرنے کے باوجود یہ زمین سے تقریباً 23 ارب کلومیٹر دور ہے۔ کہنے کو یہ فاصلہ بے حد زیادہ ہے مگر یہ فاصلہ ایک نوری سال نہیں بلکہ 20 گھنٹے اور 30 نوری منٹ دور ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار سے اس تک پہنچنے میں صرف 20 گھنٹے اور 30 منٹ لگیں گے۔
وائجر 1 اس وقت تقریباً 61 ہزار 2 سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور اسے ایک نوری سال کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 18 ہزار سال لگیں گے۔ گو یہ سپیس کرافٹ ہم سے نزدیکی ستارے Proxima Centauri کی جانب نہیں بڑھ رہا بلکہ اس سے مخالف سمت میں یے مگر اگر فرض کریں کہ یہ اس طرف سفر کر رہا ہوتا تو اسے وہاں تک پہنچنے میں اس رفتار سے تقریباً 76 ہزار سال لگتے۔ جبکہ انسانوں کی عمر آج اوسطاً 72 سال ہے۔ سو یہ بات تو طے ہے کہ انسانی عمر میں ہم ان ستاروں یا دوسری دنیاؤں تک نہیں پہنچ سکتے مگر کیا ان تک پہنچنے کا کوئی اور طریقہ یا راستہ ہے؟

یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے. فی الحال اتنا جان لیجئے کہ ایک ایسا ممکنہ طریقہ ہے جس سے شاید ہم محض 20 سال میں اپنے قریبی ستارے اور اسکے گرد گھومتے سیاروں تک پہنچ سکیں۔ مگر یہ طریقہ ٹیکنالوجی میں جدت اور کئی سالوں کی محنت اور پیسے سے ہی شاید ممکن ہو۔ اس پر گفتگو پھر کبھی۔