fbpx

دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

رفیعہ شبنم عابدی

پیدائش:07دسمبر 1943ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و تعارف :. آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیعہ شبنم عابدی صاحبہ کا شمار بیسویں اور اکیسویں صدی کی بہترین اردو خواتین شاعرات میں ہوتا ہے وہ شاعرہ بنت شاعر ہیں۔ ان کا تعلق اہل سادات و علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ ڈاکٹر شبنم عابدی صاحبہ 7 دسمبر 1943 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو کے ایک صاحب دیوان شاعر سید ساجد علی شاکر اور اعلی تعلیلم یافتہ خاتون سیدہ زینب کی صاحبزادی ہیں۔ سیدہ رفیعہ شبنم نے 1960 سے اپنا تخلیقی سفر افسانہ نگاری سے شروع کیا اس کے بعد شاعری شروع کی اس وقت وہ رفعیہ شبنم منچری کے نام سے لکھتی تھیں ۔ منچری وہ اپنے واکد صاحب کے پیدائشی قصبہ منچر کی نسبت سے کہلاتی تھیں مگر سید حسن عابدی سے شادی کے بعد رفیعہ شبنم عابدی کا قلمی نام اختیار کیا۔ رفیعہ شبنم نے تمام تر تعلیم ممبئی میں حاصل کی اور وہیں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئیں ۔ وہ لیچرر سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے پر پہنچیں وہ کالج اور یونیورسٹی میں اردو اور فارسی پڑھاتی تھیں. ممبئی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی صدر کے عہدے پر فائز ہو کر 38 سال علمی خدمات سے 31 دسمبر 2003 میں سبکدوش ہوئیں۔ ان کی اولاد میں 2 بیٹیاں اور 3 بیٹے شامل ہیں اور سبھی بچے شادی شدہ ہیں۔ بڑی بیٹی سیدہ شاداب ممبئی میں مقیم ہیں دوسری بیٹی سیدہ سیماب دوبئی میں مقیم ہیں۔ دو بیٹے سید دانش رضا اور سید شارق رضا امریکہ میں مقیم ہیں اور سید کاشف رضا کینیڈا میں مقیم ہیں۔ رفیعہ شبنم عابدی نے شاعری کے علاوہ تنقید، تحقیق اور تراجم کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم بمبئی میں حاصل کی اوربمبئی یونیورسٹی میں ’کرشن چندر چیر‘سے وابستہ پروفیسر اور شعبہ اردو اور فارسی کی صدر رہیں۔ رفعیہ کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے۔

شعری مجموعے : ’موسم بھیگی آنکھوں کا‘۔’اگلی رت کے آنے تک‘ ۔’آنگن آنگن پروائی‘۔’نئی گھٹائیں اتر رہی ہیں‘۔
فکشن: افسانوی مجموعہ ’سپنے جاگے‘ اور دو ناول ’میں پاگل میرا منوا پاگل‘ ا ور ’دل ٹوٹے نا‘۔
تنقید: ’نظر نظر کے چراغ‘۔ ’نظر و نقطۂ نظر‘۔
تراجم: ’شاخ ِ بنات‘ حافظ کی غزلوں کا ترجمہ اور ’دھنک‘ مراٹھی نظموں کا ترجمہ۔
اس کے علاوہ ان کے بہت سے تحقیقی مقالے مختلف رسائل میں شائع ہوئے ہیں
ان کے فن و شخصیت پر کتابی سلسلہ ’تریاق‘بمبئی نے ایک خصوصی شمارہ ”رفیعہ شبنم عابدی نمبر‘‘، جون،2017 میں شائع کیا ہے۔ رفیعہ شبنم عابدی کی خوب صورت شاعری سے انتخاب قارئین کی نذر

غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھا
گھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھا
بجا کہ تجھ سا رفوگر نہ مل سکا لیکن
یہ تار تار وجود ایک دن تو سینا تھا
اسے یہ ضد تھی کہ ہر سانس اس کی خاطر ہو
مگر مجھے تو زمانے کے ساتھ جینا تھا
یہ ہم ہی تھے جو بچا لائے اپنی جاں دے کر
ہوا کی زد پہ تری یاد کا سفینہ تھا
ندی خجل تھی کہ بھیگی ہوئی تھی پانی میں
مگر پہاڑ کے ماتھے پہ کیوں پسینا تھا
تم ان سلگتے ہوئے آنسوؤں کا غم نہ کرو
ہمیں تو روز ہی یہ زہر ہنس کے پینا تھا
تمام عمر کسی کا نہ بن سکا شبنمؔ
وہ جس کو بات بنانے کا بھی قرینا تھا

غزل
۔۔۔۔۔
بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنا
میرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھنا
سروں کو کاٹنے کی فصل پھر سے آ گئی ہے
ان افشاں سے بھری مانگوں کو تو محفوظ رکھنا
جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا
فضاؤں میں ہزاروں باز منڈلانے لگے ہیں
ہر آنگن کی سبھی چڑیوں کو تو محفوظ رکھنا
ابھی خیمے بھی ہیں کوزے بھی ہیں پانی نہیں ہے
قسم عباس کی بچوں کو تو محفوظ رکھنا
بزرگوں کی دعائیں آج کتنی لازمی ہیں
جوانوں کے لئے بوڑھوں کو تو محفوظ رکھنا
سوا نیزے پہ سورج آ رہا ہے آ نہ جائے
ہواؤں کے خنک جھونکوں کو تو محفوظ رکھنا
سلگتی رت میں شبنمؔ یہ ترا ہی فرض ٹھہرا
چمن میں اب کے سب کلیوں کو تو محفوظ رکھنا

غزل
۔۔۔۔۔
ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھا
میز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھا
تو نے اک شام جو آنے کا کیا تھا وعدہ
میں نے دن رات چراغوں کو جلائے رکھا
کس سلیقے سے خیالوں کو زباں دے دے کر
مجھ کو اس شخص نے باتوں میں لگائے رکھا
میں وہ سیتا کہ جو لچھمن کے حصاروں میں رہی
ہم وہ جوگی کہ الکھ پھر بھی جگائے رکھا
شاید آ جائے کسی روز وہ سجدہ کرنے
اسی امید پہ آنچل کو بچھائے رکھا
چوڑیاں رکھ نہ سکیں میری نمازوں کا بھرم
پھر بھی ہاتھوں کو دعاؤں میں اٹھائے رکھا
جانے کیوں آ گئی پھر یاد اسی موسم کی
جس نے شبنمؔ کو ہواؤں سے بچائے رکھا