fbpx

دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

دورِ فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ اب آنے والا وقت سخت سے سخت تر ہوتا جائے گا ہر نئی آنے والی مصیبت کے مقابلے میں گزشتہ مصیبت ہلکی معلوم ہوگی۔ لہٰذا نجات اِسی میں ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال کر آخرت کی تیاری کی جائے اللّه کے حضور صدقِ دل سے توبہ کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سُنتوں کو اپنایا جائے ۔ آپ آج اپنئ اِردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کتنا مشکل ہے کہ میں اِن وجوہات سے بچ سکوں مگر مشکل نظر آئے گا ،کیونکہ سب سے بڑا فتنے باز ہمارا موبائل ہی ہے جو ہر چند سیکنڈ بعد ہمیں موصول ہونے والے میسیجز ہیں جو بنا تصدیق ہم تک پہنچ جاتے ہیں اور بنا تحقیق کئے وہی میسج یا تحریر ویسے ہی آپ آگے فارورڈ کرتے ہیں ، لیکن اِن گناہوں سے بچنے کا اور خُود کو اِن فتنوں سے بچانے کیلئے آسان سا حل ہے کے ہم دین کے اُن ارکان اُن باتوں کو اپنائیں جن اعمال کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، اب یہاں بات آتی ہے کہ ہمارے علماء کا کردار کتنا ضروری ہے اور کیا وہ اپنا کردار ٹھیک سے ادا کر رہے ہیں ۔۔؟ اگر نہیں تو ہمیں خُود چاہئے کے اپنے محلے کی مسجد کے عالم یا مولوی سے سوال کریں کے کہ جناب اِس طرف بھی کچھ بیان کیا کریں ، ہمارے مُعاشرے میں بُرائی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی رہی ہے کے ہم نے اپنے علماء سے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے ، اُس سے ہُوا کیا۔۔؟ اُس سے یہ ہُوا کے علماء بھی ڈھیلے پڑ گئے اپنی اصل ذمہ داری سے ، اب اگر اِن مسائل پر بات کی جائے تو مجھے ایک پوری کتاب لکھنا پڑ جائے گی ، اور ہم نے کتاب کو تو ہاتھ لگانا نہیں کیوں کے زمانہ بدلتا جا رہا ہے اور اِسی بدلتے زمانے میں فتنے بپا ہوتے جائیں گے اب چند احادیث کے حوالے اور قُرآن کریم سے آیات پیشِ خدمت ہیں ۔
انِّی لَأَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ
صحیح البخاری رقم الحدیث۵۳۱۵۔صحیح مسلم رقم الحدیث۵۸۸۲
بے شک میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر یں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں
عن کعب(رض) قال أظلمتکم فتنۃ کقطع اللیل المظلم لایبقی بیت من بیوت المسلمین بین المشرق والمغرب الادخلتہ
الفتن لنعیم بن حماد:ج۱ص۴۵۲رقم الحدیث۴۱۷
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اندھیری رات کے مانند تم پر ایسا فتنہ آئے گا جو نہیں چھوڑے گا کوئی گھر مسلمانوں کے گھروں میں سے مشرق و مغرب کے درمیان مگر یہ کہ وہ ہو امیں داخل ہوجائے گا
ہر صاحب بصیرت جس کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم اور اپنے دین کے صحیح فہم سے نوازا ہو ، وہ اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایسے گونگے اور بہرے ،گھٹا ٹوپ اور تیرہ و تاریک فتنے ظہور پذیر ہوں گے جو ایسے رگڑا دیں گے جیسے چمڑے کو زمین پر پٹخااور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے اُدھیڑ کر رکھ دیں گے جیسے بالوں کو اُدھیڑا اور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے ریزہ ریزہ کردیں گے جیسے خشک اور سوکھی مینگنی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے یا جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ثریدمیں ڈالا جاتا ہے ،جوایسی چوٹیں لگائیں گے جن کی تاب کوئی نہ لاسکے گا،اور ان فتنوں میں سب سے بد ترین فتنہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی اُمت کو ڈرایا اور فرمایا کے مجھ سے پہلے آنے والے ہر نبی اور پیغمبر نے اپنی قوم کو ڈرایا وہ ہے ’’دجال اکبر ‘‘کا فتنہ اور اس فتنے کو دنیا میں ہونے والے ہر فتنے کا موجب اور منبع قرار دیا

وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَۃٌ مُنْذُ کَانَتْ الدُّنْیَا صَغِیرَۃٌ وَلَا کَبِیرَۃٌالَّا لِفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ
مسنداحمد:ج۵ص۹۸۳رقم الحدیث:۲۵۳۳۲۔مجمع الزوائد:ج۷ص۵۳۳رجالہ رجال الصحیح
اور آج تک دنیامیں جو کوئی چھوٹا بڑا فتنہ رونماہوتا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے
فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ دجال کے فتنے پر ہی منتج ہوگا۔سو جو اس کے فتنے سے پہلے فتنوں سے بچ گیا وہ دجال کے فتنوں سے بھی بچ جائے گا
احادیث فی الفتن والحوادث ج:۱ ص۶۵۲بحوالہ تیسری عالمی جنگ اور دجال

اس افسوس ناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا کا واحد گروہ ہے جسے ماضی ،حال اور مستقبل کا قُرآن و سنت کی صورت میں کافی علم دیا گیا ہے ،آج حیران اور ناواقف راہ ہیں اور بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعد اب ان فتنوں کے ظہور کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہورہی ہے گویا ہمیں خُود محنت کرنا ہے اِن فِتنوں سے جتنا ہو سکے خُود کو اور اپنے اردگرد دوست احباب کو ہر چھوٹے چھوٹے برے عمل سے روکنا ہے اور مسلمان وہی ہے جو برائی کو روکے اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں ہر بات ہر آنے والے دور کے بارے میں کُھلے الفاظ میں بتایا گیا ہے کیا ہم اتنے قاہل ہو گئے ہیں کے اپنے ایمان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے جبکہ قُرآن میں اللہ فرما رہا ہے۔ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
(سُورۃمحمد:۱۸)
تو کیا یہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ اِن کے پاس اچانک آجائے ،یقیناً اس کی نشانیاں تو ظاہر ہوہی چکی ہیں۔پھر جب اُن کے پاس قیامت آجائے تو انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا ۔
نشانیوں کا خروج یکے بعد دیگرے ہوگا ،اس طرح پے درپے آئیں گی جس طرح لڑی ٹوٹنے کے بعدپروئے ہوئے دانے آتے ہیں
ان حالات کا تقاضا ہے کہ قُرآن و احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے ،موجودہ حالات کی تبدیلی کو صحیح زاویہ سے دیکھاجائے اور آئندہ کے لئے صحیح نشاندہی کی جائے تاکہ اُمت اپنے فرضِ منصبی کو پیش آنے والے عظیم معرکہء خیر وشر میں کماحقہ سرانجام دے کر پوری انسانیت کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ میری اِس کوشش کو قبول فرمائے اور اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو سچی توبہ اور استقامت نصیب فرمائے ۔آمین
جزاک اللہ خیراً کثیرا