کرونا کی ساخت کا پتا لگا لیا،بہت جلد ویکسین بنا لیں‌ گے ،شہد، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بہت مفید ہے: ڈاکٹرعطاء الرحمان

لاہور:کورونا کی ساخت کا پتا لگا لیا، ویکسین بنانے میں مدد ملے گی،شہد، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بہت مفید ہے: ڈاکٹرعطاء الرحمان،اطلاعات کےمطابق معروف پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے کورونا وائرس کی ساخت کا پتا لگا لیا ہے۔ وائرس کی ساخت سے ویکسین بنانے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر عطاء الرحمان ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کا ایک حد تک فائدہ ہے۔ دس سے گیارہ کروڑ لوگوں کو کھانا پہنچانا آسان کام نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس پر موسمیاتی تبدیلیاں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ مہلک وائرس سے نمٹنے کیلئے جسم میں اینٹی باڈیز اور سفید خلیات کا ہونا ضروری ہے۔ کورونا سے مضبوط قوت مدافعت والا شخص ہی بچ سکتا ہے۔ شہد، پھلوں اور سبزیوں کے استعمال بہت مفید ہے۔انہوں نے کہا کہ شہد کے استعمال سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں جوہم تصوربھی نہیں کرسکتے

اس سے قبل ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا تھا کہ عالمی وبا کورونا وائرس پر پاکستان میں ہونے والی تحقیق میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس میں پائے جانے والے کروسومز چین سے مختلف نکلے ہیں۔ ان کروموسومز کی شدت چینی وائرس میں موجود کروموسومز جتنی خطرناک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ کراچی میں کی گئی ہے جبکہ یہ سینٹر کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈبیالوجیکل سینٹر کاحصہ ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کہا کہ دوا کی تیاری میں اربوں ڈالر اور کئی سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹی موجود دوائیوں کا جائزہ لے گی۔ موجود دوائیوں کا کورونا پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹی کا اجلاس اسی ہفتے بلایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کورونا وائرس کے حوالے سے اہم سوالات کے جوابات کے لیے معروف سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عطاء الرحمان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے جو کورونا ویکسین اور اس سے متعلق دیگر امور پر ریسرچ کرے گی اور عالمی سطح پر ریسرچ اداروں کی معاونت بھی حاصل کرے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.