fbpx

ڈاکٹر فاروق ستار کا بحریہ ٹاؤن واقعہ کیخلاف 11جون کو احتجاج کا اعلان

) سربراہ تنظیم ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستارنی11جون کو مزار قائد پر احتجاج کا اعلا ن کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج بحریہ ٹاؤن واقعہ اور سندھ حکومت کے خلاف ہوگا ۔خالد مقبول صدیقی سمیت تمام لوگوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں ۔ بحریہ ٹائون پرحملہ کھلی دہشت گردی ہے ،منظم منصوبہ بندی کے تحت نسل پرستوں نے حملہ کیا،قوم پرستی سے ہمیں اختلاف نہیں ہے،لیکن اگر دیگر لسانی گروہوں پر حملہ کریں گے تو یہ ناقابل قبول ہے۔
پیرکو کراچی پریس کلب میں اراکینِ او آر سی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈاکٹرفاروق ستار نے کہاکہ یہ حملہ بحریہ ٹائون پر نہیں کراچی پر حملہ تھا،یہ حملہ مہاجروں اور دیگر مظلوم قومیتوں پر حملہ ہے،یہ حملہ کراچی کے شہریوں کی شہریت پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ بحریہ ٹائون میں 50 ہزار سے زیادہ افراد تو صرف کام کاج کرنے والے ہیں۔وہاں آباد ،اس سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ نے اس حملے کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے ،گذشتہ 15 روز سے اس حملے کے لئے عام سندھیوں کو اکسایا جارہا تھا۔مجھے یقین ہے کہ یہ حملہ پیپلزپارٹی کی مکمل تائید اور سرپرستی میں ہوا ہے۔پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کی پشت پناہی کے بغیر یہ حملہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔
میں سخت ترین الفاظ میں اس دہشت گردی کی مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا یہ حملہ سندھ میں لسانی فسادات کی تیاری تو نہیں ،یہ سارے قافلے اندرون سندھ سے آئے تھے۔عام بہن بیٹیوں کو تو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ کراچی پہنچ کر کیا ہوگا۔اصل کردار اس حملے کو منظم کرنے والوں کا تھا۔وزیراعلی مراد علی شاہ نے رینجرز سے بھی درخواست نہیں کی کہ یہاں نقص امن کا خطرہ ہے۔
پولیس نے بھی بحریہ کے عام شہریوں کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔یہ بات واضح ہے کہ سندھ حکومت کی پشت پناہی میں یہ دہشت گردی ہوئی ہے۔پیپلزپارٹی جئے سندھ کا سیاسی ونگ ہے۔پیپلزپارٹی بھی سندھو دیش کی پلاننگ میں ملوث ہے۔ڈاکٹرفاروق ستار نے کہاکہ یہ حملہ بحریہ ٹان پر نہیں بلکہ شہری آبادی پرحملہ ہے ،اس حملے میں سندھ حکومت برابر کی شریک ہے،شہری سندھ میں رہنے والے مہاجروں کو مشتعل نہیں کرنا چاہتا۔
پیپلزپارٹی کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ اس حملے وہ شامل تھی۔ہمارے جلسوں میں کوئی ذرا سی غلط نعرے بازی کرے تو گرفتاری ہوجاتی ہیں ۔لیکن اتنی بڑی دہشت گردی کر کے ملزمان فرار ہوگئے ۔لگتا ہے سندھو دیش بنے گا نہیں بلکہ بن چکا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ وفاق نے سندھو دیش کو قبول کرلیا ہے۔ہمیں پیپلزپارٹی کی نسل پرست متعصب حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
میرا یہ بیانیہ کسی کو بھڑکانے یا اشتعال دلانے کے لئے نہیں ہے۔سندھی مہاجر آپس میں بھائی ہیں ۔شہری سندھ میں سندھی مہاجر کا ڈوبنا اور تیرنا ایک ساتھ ہے۔ہمیں صوبہ بنانا ہوگا تو متعلقہ سندھی بھائیوں سے بات کریں گے ۔سندھی دانشوروں سے مکالمہ کریں گے ۔انہیں سندھی بزرگوں کی مہمان نوازی یاد دلائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ سندھی وڈیرے کراچی کے اسباب لوٹ کر اندرون سندھ خرچ کرتے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔
حکمران کراچی کے وسائل لوٹ کر اپنے آپ پر خرچ کررہے ہیں ۔کراچی کے وسائل لوٹ کر ملک سے باہر منتقل کئے جارہے ہیں ۔سندھی دانشور بھی اگر قوم پرست بن گیا تو ہمارے پاس کیا راستہ رہ جائے گا ۔آج اگر بحریہ ٹائون پر حملہ ہوا ہے تو کل بلدیہ ٹائون پر ہوگااس کے بعد اورنگی ٹائون اور دیگر ٹائون میں بھی حملہ ہوسکتا ہے۔6 گھنٹے تک حملہ آوروں کو کوئی روکنے والا نہیں تھا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.