محکمہ صحت کا انوکھا کارنامہ۔ ڈاکٹر حامد بٹ سروسز ہسپتال سے برطرف۔ ایم ایس کی ویڈیو لیک۔۔

0
53
سروسز اسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے مریض جاں بحق

محکمہ صحت کا انوکھا کارنامہ۔ ڈاکٹر حامد بٹ سروسز ہسپتال سے برطرف۔ ایم ایس کی ویڈیو لیک۔۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سروسز ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر افتخار احمد کی ایک ویڈیو باغی ٹی وی کو موصول ہوئی ہے جس میں وہ انکشاف کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر حامد بٹ کو نکالنے میں نہ انکا کردار ہے اور نہ وہ انکے واپس آنے میں رکاوٹ بنیں گے

ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے، ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے اور پنجاب کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہے، پنجاب میں کرونا وائرس کے 4 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں، 17 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، پنجاب کے 29 اضلاع میں‌ کرونا کے مریض ہیں ایسے میں لاہور کے ایک بڑے ہسپتال سروسز نے نہ صرف کرونا کے مریضوں کو لینے سے انکار کر دیا بلکہ ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن پاکستان کے رہنما حامد بٹ کو نوکری سے نکال دیا گیا

سروسز ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر افتخار احمد کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر حامد بٹ کے خلاف ایف آئی آر میں بھی میں نہیں جا رہا،ابھی ابھی اٹھ کر گئے ہیں،اور ایف آئی آر کا کہا ہے، میں نے ایس پی کو کہا ہے کہ میں نے ایف آئی آر نہیں کروانی ،مجھے شرم آتی ہے، کہ میں اپنے ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر کرواؤں،میں وضو میں بیٹھا ہوں اور کہ رہا ہوں کہ اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں،

سروسز ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید بھی انکشافات کئے ہیں وہ اس ویڈیو میں سنے جا سکتے ہیں.

ھر جگہ نا انصافی کا نظام ھے،کورونا کی وباء میں جہاں پر طبی عملہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر اپنے پیشہ ورانہ فرائض سر انجام دے رھا تھا اپنی جانوں کی پرواہ کیۓ بغیر۔ساتھ ساتھ ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن پاکستان کے پلیٹ فارم سے فلاحی کاموں میں بھی بھرپور حصہ لے رھے تھے۔جسمیں اپنے طور پر PPE’s کا انتظام کرنا اور مستحق لوگوں میں راشن کا تقسیم کرنا شامل تھا۔ایسے نازک وقت میں جبکہ دشمن بھی دوست بن جایا کرتے ھیں ان حالات میں بھی ایک مذموم سازش کی گئی جسمیں کنسلٹنٹس کی نمائندہ جماعت کے سربراہ کو بلاوجہ نشانہ بنایا گیا اور ڈاکٹرز کو حکومت سے لڑانے کی کوشش کی گئی

ایسے وقت میں جبکہ ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ھے یہ کام کسی ملک دشمن کا ھی ھو سکتا ھے۔ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن نے حالات کی سنگینی کو سمجھتے ھوۓ اپنے اوپر یہ جبر بھی برداشت کر لیا اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض اسی تندھی سے انجام دیتے رھے۔ھر چیز واضح ھو کر وقت کے ساتھ سامنے آ گئی۔سروسز ھسپتال میں کرونا کے مریضوں کو داخل کرنے سے مسلسل انکار کیا جاتا رھا حتی کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو مداخلت کر کے کورونا کے مریضوں کو سروسز ھسپتال کے پرنسپل ڈاکٹر محمود ایاز کے نہ چاھتے ھوئے بھی داخل کروایا۔

اسوقت صورتحال یہ ھے کہ سربراہ ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن پاکستان کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا اور ھزاروں کنسلٹنٹس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن پاکستان نے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی بھرپور اپیل کی ہے اور کہا ہے کہہ سچ تو سامنے آ ھی چکا ھے،ہمارا مطالبہ ہے کہ کہ سروسز ہسپتال کے پرنسپل محمود ایاز کے اس مشکوک کردار کو منظر عام پر لایا جائے.

واضح رہے کہ ڈاکٹر حامد بٹ کی خدمات محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے سپرد کر دی گئی ہیں.

مریضوں کا علاج کرتے ہوئے جان کا نذرانہ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر کو امریکہ نے بھی پیش کیا خراج تحسین

قبل ازیں دو روز قبل سروسز ہسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن کےعہدیداروں نےمطالبہ کیا کہ معاملےکی انکوائری کی جائے، پیرامیڈیکل سٹاف اپنےمطالبات لے کرایم ایس کے پاس گئے تھے،پیرامیڈیکل سٹاف کا مطالبہ تھا کہ انہیں کورونا سے بچاوکے حوالے سے سامان دیا جائے،واقعہ والے روز ایم ایس سے ڈاکٹرحامد بٹ کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ایک واقعےکو وجہ بنا کر ایک بڑی تنظیم کے سربراہ کو ہسپتال سےنکال دیا گیا، ڈاکٹرحامد بٹ ہزاروں کنسلٹنٹس کی نمائندگی کرتے ہیں، ڈاکٹرحامد بٹ کے خلاف کارروائی سےکنسلٹنٹس کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے، سروسز ہسپتال کرپشن میں نمبر ایک پر ہے، سروسز ہسپتال میں کرپشن کےمعاملات پرتحقیقات کی جائیں۔ اس واقعہ کی ساری فوٹیج نکالی جائے،72 گھنٹے میں ڈاکٹرحامد بٹ کےخلاف کارروائی واپس لی جائے،اگرمطالبہ نہ مانا گیا تو بھوک ہڑتال یا کام چھوڑ ہڑتال کی طرف جا سکتے ہیں.

ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کا کرونا سے بچاؤ کے لئے ڈاکٹر اسامہ شہید کے نام سے فنڈ کے قیام کا اعلان

Leave a reply