آخرحکومت کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی جعل سازی کوکیوں تحفظ دے رہی ہے:خصوصی رپورٹ

لاہور:آخرحکومت کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی جعل سازی کوکیوں تحفظ دے رہی ہے:خصوصی رپورٹ،اطلاعات کے مطابق پچھلے کئی سال سے لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں‌ ایک طاقت ور ڈاکٹرکی خلاف پالیسی تقرری پربڑی پریشان کن رپورٹس آرہی ہیں‌ لیکن اس کے باوجود اس ڈاکٹرکے خلاف نہ توانکوائری کی گئی اورنہ ہی عوام کوبتایا گیا کہ آخرحکومت کی کیا مجبوری ہے ،کیاڈاکٹر کسی طاقت سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے یا پھرڈاکٹرنقشب چوہدری کے لمبے ہاتھ ہیں‌

عوام ، میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ لوگ بھی حیران ہیں‌کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی تعلیمی جعل سازی سامنے آنےکے باوجود بھی اسے تحفظ دیا جارہا ہے تو پھروہ قوتیں سامنے آنی چاہیں جوتحفظ دے رہی ہیں‌

عوام کئی سال سے جاری اس تنازعے کا خاتمہ اورحل چاہتی ہے ، اب یہ حکومت پنجاب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کو نمٹاتی ہے یا الجھاتی ہے

ڈاکٹر نقشب چوہدری جن کے بارے میں‌ لوگ نہیں بلکہ حقائق بولتے ہیں‌کہ جعل سازی کے بڑے ماہر ہیں‌ یہی وجہ ہے کہ وہ جس طرح شارٹ کٹ طریقے سے بڑی بڑی منزلیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں‌ اس سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی

اب آتے ہیں‌ کہ یہ معاملہ آخر ہے کیا ؟

ڈاکٹرنقشب چوہدری کس طرح بائی پاس کرتے رہے ، اس کے بارے میں‌معلوم ہوا ہے کہ کنگ ایڈورڈ میڈکل یونیورسٹی میں بائی پاس کرتے ہوئے 21 گریڈ پرتعینات ہونے والے ڈاکٹرنقشب چوہدری نے دو میڈیکل کالجز کے جعلی سرٹیفکیٹ لگا کر اپنی منزل حاصل کی

ڈاکٹرنقشب چوہدری نے صرف ساڑھے تین سال میں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ اکیس کا سفر جس طرح طئے کیا اس کی مثال پاکستان میں نہیں ملتی

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر کے عہدے کے لیے کم از کم 9 سال کا تجربہ ہونا پہلی شرط ہے

پھر یہ ہی نہیں کہ یہ کوئی کہانی تھی بلکہ حقائق کودیکھتے ہوئے علامہ اقبال میڈیکل یونیورسٹی نے موصوف کے یہ جعلی سرٹیفکیٹ منسوخ‌کرکے پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل کورپورٹ کردی تھی کہ وہ اس جعل سازڈاکٹر کے خلاف کارروائی کرے

ڈاکٹرنقشب چوہدری نے سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اسٹنٹ پروفیسر کے طور پرکام کرنے کے لیے جعلی سرٹیفکیٹ بھی لگایا

جبکہ سچ اورحقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری نے کبھی بھی اس عہدے پرکام نہیں کیا جس کا انہوں نے سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا

یہ بھی حقیقت کھل گئی کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری تو فرانزک میڈیسن میں‌ کام کرتے رہے ہیں لیکن ڈاکٹرنقشب چوہدری کا کمال دیکھیں انہوں نے بائیو کیمسٹری میں ڈگری حاصل کرلی

یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ ڈاکٹر نقشب چوہدری 2 اکتوبر 2011 تک ڈیمانسٹریٹرکی حیثیت سے 2017 کام کرتے رہے ہیں‌

پھر یہ ہی نہیں‌بلکہ ایک طرف ڈیمانسٹریٹر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں تو ٹھیک ایک دن بعد ڈاکٹرنقشب چوہدری کو پنجاب پبلک سروس کمیشن سے گزارے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر جیسا عہدہ بھی نواز دیا اور یوں وہ بائیوکیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر بن گئے

میڈیکل کی دنیا کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے ہوتا نہیں اور نہ ہی آج تک ایسے ہوتے دیکھا ہے کہ ساڑھے تین سال میں کوئی ڈاکٹر اسسٹنٹ پروفیسر سے پروفیسر بن جائے حالانکہ اس کے لیے 5سال اورایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے 9 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے

پھر یہ ہی نہیں‌بلکہ سچ تو یہ ہے کہ نقشب چوہدری کی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی پی ایم ڈی سی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تو پھریہ طاقتورشخص کیسے چھلانگیں لگاتا رہا

میڈیکل کے شعبے میں‌ اس عہدے پربھرتی کے لیے محکمہ صحت ، ریگولیشن فنانس اورپبلک سروس کمیشن کے اراکین اورمتعلقہ شعبے کے دوپروفیسرزکا موجود ہونا اورتصدیق کرنا ضروری ہوتا ہے ، مگرچونکہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کونوازا جانا تھا توطریقے کار بھی خود ہی بدل کرنیا انداز اختیار کرتےہوئے گریڈ 20 کے افسران کے ذریعے گریڈ 21 کے افسر کی حیثیت سے ڈاکٹرنقشب چوہدری کی تقرری کی گئی

ڈاکٹرنقشب چوہدری کو بائی پاس لانے کے اس عمل سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے 40 سے زائد بڑے بڑے پروفیسرز ڈاکٹرزاورماہرین طب متاثر ہوئے

حیرانگی اس بات پر ہے کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی غیرقانونی تعیناتیوں‌پرنہ تو پی ایم ڈی سی حرکت میں آئی اورنہ ہی پنجاب حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کرکے اس تنازعے کو ہمیشہ کےلیے ختم کرنے کی مخلصانہ کوششیں کیں‌

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.