fbpx

دُعا زہرہ کا اغوا ہونا اورپھرسوشل میڈیا اکاونٹ پراس کے نام سے سامنے آنے والے محرکات:لمحہ فکریہ

کراچی :کچھ پراسرار بات ہے۔ کیوں کسی نے دعا زہرہ کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹ بنایا اور بنیادی طور پر ان کے گھر محفوظ ہونے کی جھوٹی افواہ پھیلائی ،اطلاعات کے مطابق اس وقت دعازہرہ کے نام سے بننے والے سوشل میڈیا پیجزکوبڑاحساس قراردیا جارہاہے اوریہ بھی کہا جارہاہے کہ اگرکسی نے فیک آئی ڈیز بنائے ہیں یا کوئی دعا زہرہ کو استعمال کررہا ہے تو یہ ایک قابل فکر اور قابل گرفت بات ہے ،سائبرکرائمز کو کنٹرول کرنے والے ادارے اس کا نوٹس لیں

 

ادھر اطلاعات کے مطابق ابھی تک دعا زہرہ کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ، اس سے پہلے ایف آئی اے سائبر کرائم کی ٹیم نے اغوا ہونے والی دعا زہرا کے گھر کا جائزہ لیا اور اہلخانہ سےسوالات کیے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں الفلاح کے علاقے سے 14سالہ دعا کے مبینہ اغوا کے معاملے پر ایف آئی اے سائبرکرائم کی 4 رکنی ٹیم دعا زہرا کے گھر پہنچ گئی۔

ٹیم میں 2 خواتین ،فارنزک ایکسپرٹ، ٹیکنیکل ، سائکلوجسٹ ،تفتیشی افسر شامل تھی، خصوصی ٹیم نے دعا زہرا کے گھر کا جائزہ لیا اور اہلخانہ سےسوالات کیے گئے۔سربراہ سائبرکرائم سندھ کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل میلنگ سرورسے رابطہ کر رہے ہیں۔

گذشتہ روز دعا زہرہ کے والد نے بتایا تھا کہ پولیس کی جانب سے کسی اور لڑکی کی فوٹیج دکھا کر اسے دعا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، غلط رپورٹ پر ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے۔

والد نے دعا زہرہ کے اغوا میں گلی کے ہی کسی فرد کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا دعا کبھی اکیلے گھر سے باہر نہیں نکلی، جو کوئی بھی بچی کو لے گیا ہے خدا کے لیے زندہ سلامت واپس پہنچا دے۔

یاد رہے کہ دعا زہرہ کے والدین نے اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام ’شان رمضان‘ میں شرکت کی تھی، والدین بیٹی کے اغوا کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے تھے۔

ادھر ایک اور دعا لا پتہ ہوگئی ، اطلاعات ہیں‌ کہ شہر قائد سے دعا زہرہ کے بعد ایک اور لڑکی نمرہ کاظمی لاپتا ہو گئی ہے، کئی دن گزرنے کے بعد بھی اس کا کچھ پتا نہ چل سکا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر، سعود آباد ایس وَن ایریا سے 16 سالہ طالبہ نمرہ کاظمی لا پتا ہو گئی ہے، والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی 20 اپریل کو گھر سے لا پتا ہوئی۔

والدہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ میں بیس اپریل کو گھر سے صبح 9 بجے کام سے گئی، جب واپس آئی تو میری بچی غائب تھی، خدارا مدد کریں، میری بچی کو ڈھونڈیں ڈر ہے اسے اغوا کر لیا گیا ہے۔

والدہ کے مطابق جب وہ گھر واپس آئیں تو گھر پر نمرہ موجود نہیں تھی، نمرہ کے پاس موبائل فون بھی تھا لیکن نمبر ملانے پر اس نے کال ریسیو نہیں کی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نمرہ کاظمی شاہ رخ نامی ایک لڑکے کے ساتھ گزشتہ ایک ماہ سے رابطے میں تھی، اور شاہ رخ کی لوکیشن لاہور کی آ رہی ہے۔

پولیس کو تاحال دعا زہرہ کو زبردستی لے جانے کے شواہد نہ مل سکے، پولیس کا کلیو ہونے کا انکشاف

پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لڑکی ٹریس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔

لڑکی کی والدہ نے آئی جی سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے۔

حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…