fbpx

دعا زہرہ کیس؛ لڑکی کو والدین کیساتھ جانے کی اجازت مل گئی

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے لاہور جاکر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیتے ہوئے مبینہ مغویہ کی حوالگی سے متعلق والدین کی درخواست نمٹا دی۔ کم عمر بچی کے مبینہ اغوا سے متعلق کیس میں والدین کی جانب سے حوالگی کے کیس کی سماعت آج بروز جمعہ 6 جنوری کو سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔ دوران سماعت ظہیر احمد کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ یہ درخواست ناقابل سماعت ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ نے بچی کی حوالگی سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی، بچی کی حوالگی سے متعلق درخواست ٹرائل کورٹ میں بھی زیر التواء ہے، درخواست گزار کے پاس اب بھی متعلقہ فورم موجود ہے۔

ظہیر احمد کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے، عدالتی احکامات پر بچی کو شیلٹر ہوم بھیجا گیا تھا، بچی کو حبس بے جا میں نہیں رکھا گیا، بچی اس کیس کی مرکزی گواہ ہے۔ وکیل ظہیر احمد کا کہنا تھا والدین کی بچی سے پانچ ملاقاتیں ہوچکی ہیں، بچی سے پوچھ لیتے ہیں کہ وہ والدین کے پاس جانا چاہتی ہے یا نہیں، ظہیر احمد کو بھی لڑکی سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے بچی کو بلا کر پوچھا کہ بیٹا آپ کا نام کیا ہے جس پر لڑکی نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ میں ساتویں کلاس میں پڑھتی تھی، عدالت میں میرے ماں باپ اور بہن موجود ہیں، میں والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔ وکیل ظہیر احمد نے کہا کہ بچی کو باہر لے جانے سے روکا جائے، جس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ ہر کوئی ماں باپ کے گھر جانا چاہتا ہے، کوئی اپنے ماں باپ کا گھر نہیں چھوڑنا چاہتا، عدالتیں سب کے لئے کھلی ہوئی ہیں، بچی چھوٹی ہے والدین کے پاس جانا چاہتی ہے شیلٹر ہوم میں نہیں جانا چاہتی۔

عدالت نے لڑکی کے والد مہدی کاظمی سے سوال کیا کہ عدالت کو کیا گارنٹی دیں گے؟، عدالت نے لڑکی کی والدہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو بچی دے رہے ہیں آپ پر اب بھاری ذمہ داری ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے بچی کو عارضی طور پر والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی کی مستقل حوالگی کا فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے بچی کو والدین کے ساتھ بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے والدین کو لڑکی کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم بھی دیا اور کہا کہ والدین کو لڑکی کے تحفظ کیلئے دس لاکھ روپے زرضمانت جمع کرانا ہوگی۔ اس موقع پر عدالت نے چائلڈ پروٹیکشن افسر اور لیڈی پولیس افسر کو ہفتہ وار لڑکی سے ملاقات کی ہدایت بھی کی، چائلڈ پروٹیکشن افسر کو جائزہ رپورٹ ماتحت عدالت میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل  سندھ ہائیکورٹ نے کراچی سے لاہور جاکر شادی کرنے والی مبینہ مغویہ کے شوہر ظہیر کی اہلیہ کی کسٹڈی سے متعلق درخواست پر سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ڈی جی سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی، تفتیشی افسر اور مدعی مقدمہ کو نوٹسز جاری کیئے تھے.
مزید یہ بھی پڑھیں؛
ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
خیال رہے کہ کراچی سے لاہور جاکر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کے شوہر ظہیر نے اہلیہ کی کسٹڈی سے متعلق درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو درخواست کی سماعت ہوئی تھی جبکہ درخواست میں ظہیر احمد نے موقف اپنایا تھا کہ قانونی اور شرعی شوہر ہوں، شیلٹر ہوم سے کسٹڈی دی جائے۔ اہلیہ نے تمام فورمز پر میرے حق میں بیانات دیے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو جان کے خطرات لاحق ہیں۔ آئی جی سندھ، محکمہ داخلہ کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ڈی جی سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی، تفتیشی افسر اور مدعی مقدمہ کو نوٹسز جاری کردیئے اور فریقین سے 6 جنوری یعنی آج جواب کیلئے طلب کیا تھا