دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ بقلم؛ حافظہ قندیل تبسم

دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
حافظہ قندیل تبسم

دعا ایک عبادت اور مومن کا ہتھیار ہےجو اسے شیطان لعین کے حملوں اور کے حملوں اور پریشانیوں سے حفاظت میں رکھتی ہے۔ اور انتہائی لطف و کرم کی بات کہ خود مالک کائنات نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (سورہ غافر: آیت 60)
لیکن بعض اوقات ہم میں سے کچھ لوگ شکوہ کناں نظر آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں نہیں سنتا۔ ایک مسلمان کی یہ شان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات و فرامین پر کامل یقین رکھتا ہے اور اللہ کے فرمان کے مطابق سمجھتا ہے کہ دعا کی قبولیت میں رکاوٹ اس کی اپنی بد عملی کی وجہ سے ہو گی۔ اس مضمون میں ہم ان اسباب کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے جو ہماری دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"دعائیں، اور تعوّذات (ایسی دعائیں جن کے ذریعے اللہ کی پناہ حاصل کی جائے) کی حیثیت اسلحہ کی طرح ہے، اور اسلحے کی کارکردگی اسلحہ چلانے والے پر منحصر ہوتی ہے، صرف اسلحے کی تیزی کارگر ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو، اور اسلحہ چلانے والے بازو میں قوت ہو، اور درمیان میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو دشمن پر ضرب کاری لگتی ہے، اور ان تینوں اشیاء میں سے کوئی ایک ناپید ہو تو نشانہ متأثر ہوتا ہے۔”
("الداء والدواء ” از ابن القیم، صفحہ: 35)

امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول اس حوالے سے خصوصیت کے ساتھ اہم ہے۔ اس سے ہم جسن سکتے ہیں کہ دعا کی قبولیت میں رکاوٹیں کہاں کہاں آ سکتی ہیں۔ بعض حالات، آداب اور احکام ہیں جن کا دعائیہ الفاظ اور دعا مانگنے والے میں ہونا ضروری ہے، اور کچھ رکاوٹیں، اور موانع ہیں جنکی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی، چنانچہ ان اشیاء کا دعا مانگنے والے، اور دعائیہ الفاظ سے دور ہونا ضروری ہے۔ جب ان سب معاملات درست ہوں گے تو کوئی سبب نہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہ ہوں۔

قبولیتِ دعا کیلئے معاون اسباب میں چند اسباب یہ ہیں:

1- دعا میں اخلاص:
دعا کیلئے اہم اور عظیم ترین ادب اخلاص ہے، اللہ تعالی نے بھی دعا میں اخلاص پر زور دیتے ہوئے فرمایا: (وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ) ترجمہ: اور عبادت اللہ تعالی کیلئے خالص کرتے ہوئے (دعا میں) اسی کو پکارو۔ (الاعراف: آیت 29)
دعا میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے والا یہ نظریہ رکھے کہ صرف اللہ عز وجل کو ہی پکارا جاسکتا ہے، اور وہی اکیلا تمام ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، اور دعا کرتے ہوئے ریا کاری سے گریز کیا جائے۔

2- توبہ ، اور انابت الی اللہ:
گناہ اور معصیت دعاؤں کی عدمِ قبولیت کیلئے بنیادی اسباب ہیں، اس لئے دعا مانگنے والے کیلئے ضروری ہے کہ دعا مانگنے سے پہلے گناہوں سے توبہ و استغفار کرے، جیسے کہ اللہ عزو جل نے نوح علیہ السلام کی زبانی فرمایا:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا (12)

ترجمہ: نوح علیہ السلام کہتے ہیں اور میں نے ان سے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے (10) اللہ تعالی تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (11) اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا ۔ (نوح:آیات 10-12)

3- عاجزی، انکساری، خشوع و خضوع
قبولیت کی امید اور دعا مسترد ہونے کا خوف، حقیقت میں دعا کی روح، دعا کا مقصود ، اور دعا کا مغز ہے: فرمانِ باری تعالی ہے:( اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ)

ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (الاعراف: آیت 55)

4- دعا الحاح کیساتھ بار بار کی جائی : دو تین بار دعا کرنے سے الحاح ہوجاتا ہے، تین پر اکتفاء کرنا سنت کے مطابق ہوگا، جیسے کہ امام ابو داؤد اور امام نسائی روایت لائے ہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین، تین بار دعا اور استغفار پسند تھی۔

5- خوشحالی کے وقت دعا کرنا، اور آسودگی میں کثرت سے دعائیں مانگنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشحالی میں اللہ کو تم یاد رکھو، زبوں حالی میں وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ (رواحہ احمد)

6- دعا کی ابتداء اور انتہا میں اللہ تعالی کے اسمائے حسنی، اور صفاتِ باری تعالی کا واسطہ دیا جائے، فرمان باری تعالی ہے:

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا
ترجمہ: اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، تم انہی کا واسطہ دے کر اُسے پکارو۔ (الاعراف: آیت 180)

7- جوامع الکلم، واضح، اور اچھی دعائیں اختیار کی جائیں، چنانچہ سب سے بہترین دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعائیں ہیں، ویسے انسان کی ضرورت کے مطابق دیگر دعائیہ الفاظ سے بھی دعا مانگی جاسکتی ہے۔

اسی طرح دعا کے مستحب آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ با وضو، قبلہ رُخ ہوکر دعا کریں، ابتدائے دعا میں اللہ تعالی کی حمد وثناء خوانی کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں، اور دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا بھی جائز ہے۔

قبولیتِ دعا کے امکان زیادہ قوی کرنے کیلئے قبولیت کے اوقات، اور مقامات تلاش کریں۔

دعا کیلئے افضل اوقات میں فجر سے پہلے سحری کا وقت، رات کی آخری تہائی کا وقت، جمعہ کے دن کے آخری لمحات، بارش ہونے کا وقت، اذان اور اقامت کے درمیان والا وقت اور سفر کے دوران کا وقت شامل ہیں۔

اور افضل جگہوں میں تمام مساجد شامل ہیں اور مسجد الحرام کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔

اور ایسے حالات جن میں دعاؤں کی قبولیت کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، روزہ دار کی دعا، مجبور اور مشکل میں پھنسے ہوئے شخص کی دعا، اور ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں دعا کرنا شامل ہے۔

دعا کی قبولیت کے راستے میں بننے والی رکاوٹوں میں درج ذیل امور شامل ہیں:

1- دعا کرنے کا انداز ہی نامناسب ہو:
مثال کے طور پر دعا میں زیادتی ہو، یا اللہ عزوجل کیساتھ بے ادبی کی جائے، دعا میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی سے ایسی دعا مانگی جائے جو مانگنا جائز نہیں ہے، جیسے کہ اپنے لیے دائمی دنیاوی زندگی مانگے، یا گناہ اور حرام اشیاء کا سوال کرے، یا کسی کو موت کی بد دعا دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ (صحیح مسلم)

2- دعا کرنے والے شخص میں کمزوری ہو، کہ اسکا دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہ ہو، یا پھر اللہ کیساتھ بے ادبی کا انداز اپنائے، مثال کے طور پر دعا اونچی اونچی آواز سے کرے، یا اللہ سے ایسے مانگے کہ جیسے اُسے اللہ تعالی سے دعا کی قبولیت کیلئے کوئی چاہت ہی نہیں ہے، یا پھر تکلّف کیساتھ الفاظ استعمال کرے، اور معنی مفہوم سے توجہ بالکل ہٹ جائے، یا بناوٹی آہ و بکا اور چیخ و پکار میں مبالغہ کیلئے تکلّف سے کام لے۔

3- دعا کی قبولیت کیلئے کوئی رکاوٹ موجود ہو مثلا اللہ کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب کیا جائے، جیسے کہ کھانے ، پینے، پہننے، جائے اقامت اور سواری میں حرام مال استعمال ہو، ذریعہ آمدنی حرام کاموں پر مشتمل ہو، دلوں پر گناہوں کا زنگ چڑھا ہوا ہو، دین میں بدعات کا غلبہ ہو، اور قلب پر غفلت کا قبضہ ہو۔

4- حرام کمائی کھانا،قبولیتِ دعا کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگو! بیشک اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ اشیاء ہی قبول کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے متقی لوگوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا ، فرمایا: (يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ) ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی کرتے ہو میں اسکو بخوبی جانتا ہوں۔ (المؤمنون: آیت51)

اور مؤمنین کو فرمایا: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ترجمہ:اے ایمان والو! ہم نے جو تم کو پاکیزہ اشیاء عنائت کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ البقرہ: (آیت 172)
پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا: جس کے لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ ، اور گرد و غبار سے اَٹے ہوئے بال ہیں، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھا کر کہتا ہے
یا رب! یا رب! اسکا کھانا بھی حرام کا، پینا بھی حرام کا، اسے غذا بھی حرام کی دی گئی، ان تمام اسباب کی وجہ سے اسکی دعا کیسے قبول ہو!!
(صحیح مسلم)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے کچھ امور بھی بیان فرمائے، جن سے دعا کی قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، مثلا کہ وہ مسافر ہے، اللہ کا ہی محتاج ہے، لیکن اس کے باوجود دعا اس لیے قبول نہیں ہوتی کہ اس نے حرام کھایا، اللہ تعالی ہمیں ان سے محفوظ رکھے، اور عافیت نصیب فرمائے۔

5- دعا کی قبولیت کے لیے جلد بازی کرنا، اور مایوس ہوکر دعا ترک کر دینا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک قبولیت دعا کیلئے جلد بازی نہ کرے، اور کہہ دے "میں نے دعائیں تو بہت کی ہیں، لیکن کوئی قبول ہی نہیں ہوتی”۔
(صحیح بخاری و مسلم)

6- مشیتِ الہی پر قبولیت دعا کو معلق کرنا:
مثال کے طور پر یہ کہنا کہ "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے” بلکہ دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ پر عزم، کامل کوشش، اور الحاح کیساتھ دعا مانگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
تم میں سے کوئی بھی دعا کرتے ہوئے ہرگز یہ مت کہے کہ "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے”، "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما” بلکہ پختہ عزم کیساتھ مانگے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔ (صحیح بخاری و مسلم)

یہاں ہم نے ایسے امور ذکر کر دیے ہیں جو دعا کی قبولیت کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کامل امید رکھتے ہوئے ان کو اختیار کیا جائے، ان میں سے چند اسباب کو اختیار کرنا بھی فائدے سے خالی نہیں ہے۔

قبولیت دعا کے حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قبولیتِ دعا کی کئی صورتیں ہیں

• اللہ تعالی بندے کی دعا قبول کرتے ہوئے اسے وہی عنائت کردے جس کی وہ تمنا کرتا ہے۔

• یا پھر اس دعا کے بدلے میں کسی شر کو رفع کردیتا ہے۔

• یا بندے کے حق میں اس کی دعا سے بہتر چیز میسر فرما دیتا ہے۔

• یا اسکی دعا کو قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ کردیتا ہے، جہاں پر انسان کو اِسکی انتہائی ضرورت ہوگی۔
اور انسان خواہش کرے گا کاش اس کی دنیا میں کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے عمل کی توفیق عطا فرمائے جو اسے پسند ہے اور ہم سے راضی ہو جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.