fbpx

دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

امریکا میں 30 سالوں سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا پینگوئن "موچیکا ” 31 سال کی عمر میں دنیا کو چھوڑ گیا پینگوئن کو عمر کی وجہ سے اپنے آخری وقت میں بینائی کا مسئلہ درپیش تھا-

باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق "موچیکا ” کی ایک آنکھ میں موتیا اتر آیا تھا اور دوسری آنکھ بڑھاپے سے کمزور تھی لیکن سب سے بڑھ کر وہ چلنے سے بھی معذور ہو چکا تھا جب اسے تکلیف سے نجات نہ مل سکی تو چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اسے پرسکون موت دینے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق چڑیا گھر اور ایکوریم میں رہنے والے پینگوئنز میں سے یہ دنیا کا سب سے بزرگ نر پینگوئن تھا 1990 میں اپنی پیدائش کے بعد ہی موچیکا نے لوگوں سے پیار کرنا شروع کردیا وہ لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا تھا اور دوسرے پرندوں کی بجائے انسانی ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کے ساتھ رہنا پسند کرتا تھا۔


لیکن اچانک اس کی صحت بگڑنے لگی ، اسے ادویات دینے کے ساتھ ساتھ لیزر تھراپی سے بھی گزارا گیا لیکن اس کی تکلیف کم نہ ہو سکی۔

وائلڈ ہمبولڈ پینگوئنز عام طور پر 20 سال کی عمر کے بعد زندہ نہیں رہتے۔ اخبار کے لیے خبر چڑیا گھر سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، موچیکا برسوں کی "سست روی” کے بعد عمر سے متعلقہ کئی بیماریوں میں مبتلا تھی۔ عملہ اسے آرام دہ اور پرسکون اقدامات فراہم کر رہا تھا جیسے روزانہ میلوکسیکم کی خوراک ، ایک غیر سٹیرایڈیل اینٹی سوزش والی دوا ، اس کا پائیدار سمندری غذا ناشتہ اور لیزر تھراپی سیشن۔

اوریگن چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق موچیکا کی موت کے بعد بھی ان پرندوں کو بچانے کی عالمی کوششیں جاری رہیں گی اس وقت ہمبولٹ نسل کے پینگوئن کے صرف 12000 جوڑے ہی بچے ہیں جو پیرو اور چلی کے ساحلوں پر پائے جاتے ہیں۔