دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو تحریر: ساجدہ بٹ

0
49

دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو
تحریر: ساجدہ بٹ

آج ہم بات کریں گے عزت و وقار کے بارے میں چونکہ ہر۔ انسان دنیا میں اپنا ایک مقام و مرتبہ چاہتا ہے انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس سے پیار و محبت سے پیش آئیں اُسے اچھا جانیں مال و دولت سب کچھ ہمارے پاس ہو ہم سکون کی زندگی جیئیں ۔۔۔۔۔۔
آپ قارئین سوچیں گے یہ سب ایک ساتھ کیسے ممکن ہے ؟؟؟؟؟
جی ہاں قارئین کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا توجہ و دلچسپی سے اس تحریر کو پڑھیئے کہ ہمارے مذہب نے ہمیں ترقی کا راز کیا بتایا ہے جس پر چل کر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔۔

جی ہاں میرے عزیز ہم وطنو ترقی کا راز والدین کی خدمت میں ہے ۔۔۔
دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس نے اپنے پروکاروں کو والدین کی خدمت اور اطاعت گزاری کی تاکید نہ کی ہو۔۔
عیسائیت ہو یا یہودیت،ہندومت یا بدھ مت۔
ہر مذہب نے والدین کی تابعداری اور خدمت ضروری قرار دی ہے مگر اسلام کو دیگر مزاہب پر فوقیت حاصل ہے۔اس نے اپنی تعلیمات میں والدین کی صرف خدمت کی ہی تلقین نہیں کی۔بلکہ احسان کی تاکید کی ہے اور احسان کا درجہ خدمت سے بڑھ کر ہے
سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔۔۔
وبلوالدین احساناً
یعنی والدین کی صرف اتنی خدمت نہیں کرنی جتنی انہوں نے کی بلکہ اتنی زائد ہو کہ وہ تمہارا احسان نظر آنے لگے۔۔۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے بڑے بڑے فرائض احسان احترام،شکرگزاری اور دعائے خیر بیان کیے۔۔۔
سورۃ الاسرا میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔۔۔۔۔۔

اور تمہارے رب کا حکم ہے کہ تم صرف اس کی عبادت کرو اور ماں باپ سے احسان کرو ،
اور ان کے سامنے نرمی اور رحم سے انکساری کا پہلو جھکائے رکھو
اُنھیں اف تک نہ کہو اُنھیں نہ جھڑکو اور ان سے ادب سے گفتگو کرو
۲۳٫۲۴٫۲۶
دیکھیں کس قدر خوبصورتی سے اسلام نے والدین سے حسن سلوک کی تاکید کی ہے
*حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
،،خدا کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟فرمایا،وقت پر نماز پڑھنا ،پوچھا پھر کون سا،،فرمایا والدین سے حسن سلوک،،
سوچیں جب ہم اس قدر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں گے تو کیونکر نہ ترقی کریں گے،
کہتے ہیں مثال سے بات سمجھ آتی ہے تو چلیے مثال ہی سے بات کرتے ہیں ہم اگر اپنے اِرد گِرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔۔۔
ہمارے ہمسایوں میں جو فیملی رہتی ہیں اُن کے 6 بیٹے ہیں جن میں چار شادی ہیں گھروں میں اکثر لڑائی وغیرہ تو ہو ہی جاتی ہے لیکن یہاں میں بات صرف والدین اور اولاد کے سلوک پر کروں گی ۔۔۔
اُن کے بڑے بیٹے کی شادی ہوئی گھر میں ماں باپ بیوی کے درمیاں تلخ کلامی ہو بھی جاتی تو اُن کے بیٹے نے ماں باپ کی خدمت میں کوئی فرق نہیں آنے دیا کبھی پلٹ کے کسی بات کا غصے میں جواب نہیں دیا مسکرا کے والدین سے ملتے رہے۔۔۔۔۔پھر اُن کے بچے ہوئے الحمدللہ وہ بھی والدین کے فرمانبردار ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں بہت بہت ترقی دی بہت جلد وہ ترقی کی کئی منازل تہ کرنے لگے گاؤں کے لوگ اُس لڑکے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں میرے والدین سمیت سب اُس کی بہت عزت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
آپ کے خیال میں اُس آدمی کو یہ سب کچھ کیوں ملا ؟؟؟
آپ ذرا یہ سوچئے۔۔۔
اور میں بات کرتی ہوں اب اُن کے دیگر بیٹوں کے بارے میں تو جی ہاں قارئین کرام اُن کے باقی بیٹوں کی شادیاں ہوئی والدین میں سے کسی سے بیوی سے لڑائی جھگڑا ہو جاتا تو وہ بھائی پورا پورا والدین سے مقابلہ کرتے اُن سے ناراض ہو جاتے کھانا الگ بنانے لگے ۔۔۔حلاں کے بڑے بھائی کی نسبت یہ سب ہنر مند تھے لیکن پھر بھی کاروبار میں کمزور ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ بس دو ٹائم روٹی کھانے کو با مشکل گزارا کرتے ہیں اُن میں سے کوئی گلی میں کبھی فضول کھڑا بھی ہو جائے تو محلے والے اچھا نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہی والدین کی اولاد ہونے کے باوجود اس طرح بچوں کے درمیان کیوں ہوا؟؟؟
یقینا والدین کی خدمت اور نافرمانی کی واضح مثال میرے عزیز قارئین کرام کی سمجھ میں ضرور آئی ہو گی۔۔۔۔
بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بھی اس عمر میں آنا ہے ہم نے بھی کمزور جسم میں ڈھل جانا ہے اگر ہماری اولاد نے ہمارے ساتھ یہ سب رویہ اختیار کیا تو یقینا ہمیں بہت افسوس ہو گا ۔۔۔

شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
"””””””””””””””””””””””””””””

Leave a reply