fbpx

دنیا کرکٹ اور مغربی منافقت تحریر ناصر بٹ

نیوزی لینڈ کی فوج سے زیادہ فورس ان کی ٹیم سیکورٹی پر لگائی، یہ الفاظ وفاقی وزیر داخلہ کے ہیں جو ان کی جانب سے گزشتہ روز دورہ نیوزی لینڈ منسوخ ہونے کے حوالے سے کہے گئے انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ تھریٹ الرٹ دینے والے تب کہاں تھے جب ماہرین کی ٹیم یہاں دورے پر تھی، وفاقی وزیر داخلہ نے اہم ترین باتیں کیں لیکن شیخ رشید کی یہ سیکورٹی کے حوالے سے کہی گئی پہلی لائن تمام میڈیا چینلز کے ڈائریکٹر نیوز صاحبان سمیت نیوز ایڈیٹرز کو بھی جیسے بھا سی گئی کہ تمام ہیڈلائنز اور اخباری سرخیوں پر یہ الفاظ ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بن گئے جس کے بعد ہونا کیا تھا وہی جو ہمارے یہاں سوشل میڈیا صارفین کیا کرتے ہیں، اخباری تراشے اور ٹی وی کے سکرین شاٹس کو جوں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا کہ ایک نئی بحث کا آغاز ہو ہی گیا، صارفین کی جانب سے وزیر داخلہ کے بیان کو کہیں بھارت کو دھمکانے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تو کہیں نیوزی لینڈ کی اندرونی سیکورٹی پر سوالات اٹھانے کے لیے بہرحال اس ساری صورتحال میں قومی سطح پر ہوئے نقصان کا ازالہ ہونے کی بجائے اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور طے شدہ دورہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو بھی منسوخ کرنے کی خبریں گردش میں آگئیں، جبکہ آئندہ ماہ میں ہونے والی آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز بھی خطرے میں پڑ گئیں، نومنتخب چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کی جانب سے اس پر سخت ردعمل دیا گیا کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی معاملات پر مغربی دنیا اکٹھی ہوجاتی ہے 

اب اس ساری صورتحال میں سیکھنے کی دو تین اہم باتوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا کہ کس طرح پاکستان کے خلاف مغربی دنیا کی منافقت کھل کر بے نقاب ہوئی اور منفی پراپیگنڈے میں سب ممالک ایک سے بڑھ کر ایک نظر آئے، اس کی چھوٹی سی جھلک اس بات میں دیکھ لیجیے کہ انگلینڈ نیوزی لینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیمز کے مابین سیریز کا تیسرا ون ڈے شیڈول ہے لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم اسی ہوٹل میں موجود ہے جسے کچھ روز قبل بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد بظاہر ٹریننگ تو منسوخ کر دی گئی تاہم انسداد دہشتگردی کی ایجنسیز کی جانب سے خطرناک تھریٹ دئیے جانے کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت ٹس سے مس نہیں ہوئی جس سے مغربی ممالک کی آپس اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں امتیازی روئیے کی پول کھل کر سامنے آگئی اس ساری صورتحال میں دوسری جنگ عظیم کے دوران تشکیل دی گئی پانچوں ممالک جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا شامل ہیں کی مشترکہ خفیہ ایجنسی فائیو آئیز کے ذریعے پاکستان کے Absolutely NOT کو ہاں میں بدلنے کی ناکام کوشش کے بعد اس پراپیگنڈے کا آغاز کیا گیا جس کے بعد پہلے نیوزی لینڈ اور بعد میں انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے سے منع کیا گیا 

 دوسری جانب اس ساری صورتحال میں ویسٹ انڈیز سمیت کئی اہم ممالک کے کرکٹرز کی جانب سے جس طرح کھل کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت اور محفوظ پاکستان کے حق میں کھل کر بات کی گئی وہ قابل ستائش ہے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے تو اس حد تک لکھ دیا کہ بھیڑ کی کھال میں چھپے بھیڑیوں سے ہوشیار رہو، یقیناً ان کا اشارہ مغربی دوغلے پن کی طرف تھا

لیکن بحرانی کیفیت میں موقعوں کی تلاش کرنے والی قوم ہی دنیا میں ترقی کی راہ پر چل سکتی ہیں اور یہ ہی کیا پاکستان نے کہ شائقین کے ٹوٹے دل اور قومی سطح پر پست ہونے والے حوصلوں کو دوبارہ بلند کرنے کے لیے نیشنل ٹی ٹونٹی میچ کا اعلان کر دیا جس کا باقاعدہ میلہ 23 ستمبر سے سجے گا جبکہ 12 اکتوبر تک کھیلا جائے گا

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!