پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور اگر افغانستان کے اندر کارروائی کرنا پڑے تو پاکستان کو ایسا کرنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ "ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے حوالے سے ہم نے افغانستان سے کئی بار بات کی ہے، لیکن گڈی گڈی برتاؤ ہمارے قومی مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ ہمیں اپنے دشمنوں کا پیچھا ہر صورت میں کرنا ہے، چاہے وہ افغانستان میں بیٹھے ہوں یا کہیں اور۔”انہوں نے مزید کہا کہ "جو شخص یہ کہے کہ افغانستان جا کر ٹی ٹی پی کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے، وہ پاکستان کے مفادات کے خلاف بات کر رہا ہے۔ ہم اپنے وطن کے دفاع میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کریں گے۔”
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ "ٹی ٹی پی کو تقریباً تین سال پہلے ایک پرائیویٹ ملیشیا کے طور پر افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی، اور اب وہ ہمارے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔” "ہمارا حکومتی ڈھانچہ یا تو غیرفعال ہے یا انتہائی کرپٹ ہے۔ ہمیں گورننس کے خلا کو پر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ ہم اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔”پاکستان کی فوج اپنے اندرونی اور بیرونی سرحدوں کا بھرپور تحفظ کر رہی ہے اور کسی بھی دشمن کے حملے کو سختی سے ناکام بنانے کے لیے تیار ہے۔”
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی ایک اہم بات کی اور کہا کہ "پی ٹی آئی کے ایک بڑے گروپ نے حالیہ اجلاس میں شرکت کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے کوئی پرانا ادھار چکایا جا رہا ہے۔”