fbpx

دوسری جنگ عظیم میں تباہ امریکی جہاز کی باقیات برآمد۔

دوسری جنگ عظیم میں تباہ امریکی جہاز کی باقیات بر آمد۔

باغی ٹی وی: دوسری جنگ عظیم کے دوران فلپائن میں سمندر برد ہوجانے والی امریکی بحریہ کے جہاز کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔ مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ ٹیکساس میں واقعہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی جو کہ زیر سمندر ہے۔مزید ایک اور اہم خبر یہ بھی کہ آٹھ ماہ کے دوران میں غوطہ خوروں نے “سیمی بی” کے ٹوٹے پھوٹے جہاز کو فلمایا اور اس کی تصاویر بھی بنائی۔ اس بات کا باقاعدہ دعویٰ کیلاڈن اوشینک نے کیا۔

مزید برآں یہ کہ رپورٹ میں اس بات کو بھی بیان کیا گیا تھا کہ سیموئیل بی رابرٹس نامی جہاز فلپائن کے ساحلوں میں 7 ہزار میٹر کی گہرائی میں ڈوبا تھا۔اور اس جہاز کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ جہاز سمر جریزے پر 25 اکتوبر 1944 کو جاپان کی کالونی فلپائن سے لڑنے گیا تھا۔ سمر کی جنگ میں تباہ ہونے والے جہاز کا جاپانی اور امریکی بحریہ کا آمنا سامنا ہوا ۔وہاں پر ہی توپ کا گولہ لگنے سے کروز شپ ڈوبا تھا۔

امریکی بحریہ کی رپورٹ کے مطابق اس جہاز (سیموئیل بی رابرٹس) میں 224 افراد موجود تھے۔جس میں سے 89 اس حادثے کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ باقی کے جو 135 رہ گئے ان کو 50 گھنٹے کے وقفے سے بچا لیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ اس جہاز کا ملبہ جب دریافت ہوا تو پتا چلا کہ یہ اب تک کے بحری جہازوں میں سب سے زیادہ گہرائی میں پایا جانا والا ملبہ ہے۔ اور اس کو دریافت کیا گیا۔