دوسروں کو خریدوفروخت کا طعنہ دینے والے طارق جمیل، عمران خان بارے چپ کیوں؟

0
72

گزشتہ دنوں ملک میں آڈیوز ٹیپ لیکس کی بھرمار رہی تھی اور آئے روز ہیکرز کی جانب سے نئی نئی آڈیوز لیک کی جارہی تھی انہی میں سے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بھی آڈیو ٹیپ جاری کی گئیں جس میں عمران خان کسی کو خریدنے کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اس بات کی صحیح تصدیق تو فرانزک اور تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلیں گی کہ آیا یہ اصلی ہیں یا نقلی لیکن میں نے مختلف سینئر صحافیوں اور سیاسی پنڈتوں سے اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ یہ جو عمران خان بارے آڈیوز آئی ہیں تقریبا اصلی ہی محسوس ہوتی ہیں۔

بہرحال اس بحث کو فلحال ہم آنے والے وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ اسی نے کرنا ہے لیکن یہاں پر مجھے خریدوفروخت بارے مولانا طارق جمیل کا وہ انٹرویو یاد آرہا ہے جو بول نیوز کے اینکر امیر عباس کو عیدلاالضحی کے موقع پر دیا گیا تھا جس میں غالبا پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے فرمایا تھا کہ "کس طرح انسانوں کو خریدا گیا اور ایک دھوکے سے حکومت بنائی گئی” صرف اتنا ہی نہیں حتکہ مولانا صاحب نے موجودہ حکمرانوں کو طعنہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ "کیا یہ اللہ اور اس کے نبی ص کے سامنے کھڑے ہوسکتے ہیں؟” اور پھر آپ ﷺ سے منسوب کرتے ہوئے کہا "کم بختو میں نے اولاد ذبح کروا دی مگر تم نے چند ٹکوں کی خاطر بائیس کروڑ عوام کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا۔” معروف مذہبی اسکالر طارق جمیل نے اسی انٹرویو میں مزید یہ بھی کہا تھا کہ "پاکستان کی ماوں نے اچھے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان اور اسکالر پیدا کیئے ہیں لیکن ایسے سیاستدان پیدا نہیں کیئے جو کہیں کہ مجھے اپنے نبی ﷺ کے طریقہ پر یہ نظام چلانا ہے۔” دراصل اس آخری بات کا واضح اشارہ عمران خان کی طرف تھا کیونکہ انہوں نے ہی حکومت میں آنے سے قبل اور بعد میں ریاست مدینہ کا دعوی بلند کیئے رکھا تھا۔

لیکن سوال اب یہ ہے کہ عمران خان کی ہارس ٹریڈنگ یا اراکین کی خریدوفروخت بارے آڈیوز آنے کے بعد کیا مولانا طارق جمیل انہیں اللہ، رسول ﷺ کے سامنے کھڑا ہونے اور خریدوفروخت جیسا گھناؤنا کام کرنے کا طعنہ دیں گے؟ جیسا کہ انہوں نے عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے نکالنے والی پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت پر خریدوفروخت کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا؟ لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے.

لیکن جو کچھ وہ عمران خان بارے کررہے یا انہیں مسیحا بنانے کی کوشش کرتے رہتے اس کا اثر مولانا کے ماننے والوں پر ضرور پڑتا ہے اور یہ ایسے کہ میرے ایک بھائی تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک کٹر قسم کے مولوی ہیں جن سے بحث و مباحثہ ہوا. انہوں نے مجھے کہا آپ کو بطور مصنفہ عمران خان کے حق میں لکھنا چاہئے. میں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ آپ اس حکومت کو جائز سمجھتی جو خریدوفروخت کرکے بنائی گئی؟ میں نے انہیں جواب دیا بھائی اول تو میں کسی حکومت کے بننے کے حق یا مخالفت میں نہیں اور دوئم بطور صحافی میرا کام حقیقت پر مبنی خبریا تبصرہ دینا ہے اور سوئم عدم اعتماد بارے ہمارے آئین میں واضح درج ہے لہذا آپ اسے پڑھنے کی زحمت کرلیں۔ لیکن انہوں نے میری بات مکمل سنے بغیر کہا پھر تو آپ حق و سچ کے ساتھ کے ساتھ نہیں (ان کا اشارہ عمران خان کی حمایت کرنے کی طرف تھا) انہیں جواب دیا کہ آپ بجائے مولانا فضل الرحمن یا کسی مذہبی جماعت کی حمایت کے بار بار عمران خان کی طرف داری کیوں کررہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ "مولانا طارق جمیل جو اس دور حاضر کا ولی ہے وہ عمران خان کی کھلے عام حمایت کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ میں عمران خان کو ایماندار شخص سمجھتا ہوں کیونکہ انہیں ایک بہت بڑا عالم دین اس قوم کا مسیحا سمجھتا ہے، ان کے لئے دعائیں کرتا ہے۔ مولانا طارق جمیل کے پیروکار کے بقول "یہ میں نے مولانا صاحب کے منہ سے سنا کہ کوئی ایسا رہنماء نہیں گزرا جس نے ریاست مدینہ کی بات کی ہو ماسوائے عمران خان کے۔”

قارئین اب آپ خود اندازہ لگائیں جو سادہ لوح عوام ان علماء یا مشہور شخصیات کے ہارڈ کور قسم کے فین ہوتے ہیں ان پر ان کی ہر ایک بات کس قدر اثر انداز ہوتی ہے لہذا مولانا طارق جمیل سے عاجزانہ التماس ہے کہ یا تو مکمل طور پر کھل کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں یا پھر سادہ مزاج لوگوں کے ذہن خراب یا انہیں گمراہ کرنا بند کردیں کیونکہ ان میں اتنی جرات تو ہے نہیں کہ لاپتہ افراد، جبری مذہب کی تبدیلی، مظلوموں کے بے گناہ قتل و غارت اور جنید حفیظ جیسے قیدیوں کے بارے کھل کر بات کریں یا مذمت کردیں لیکن انہیں عمران خان جو واقع ایک لیڈر ہے اور اس کے ماننے والے بھی لاکھوں میں ہیں لیکن جب وہ وزیر اعظم بنے تو ان کے دور کو میڈیا کیلئے آمر دور سے بھی برا کہا گیا صرف اتنا ہی نہیں مہنگائی آسمان کو چھونے لگی تھی اس وقت مولانا طارق جمیل کو تو خیال نہیں آیا کہ عمران خان کے دور میں اغوا ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان، گولی لگنے والے سابق چیرمین پیمرا ابصار عالم اور نو ماہ تک بغیر کسی قانون کی خلاف ورزی کے سنسرشپ کا شکار رہنے والے حامد میر بارے مذمت ہی کردیتے لیکن اچانک تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد طارق جمیل صاحب کو مہنگائی بھی نظر آنے لگی تھی اور ووٹوں کی خریدوفروخت بارے اللہ کا عذاب بھی یاد آگیا۔ لہذا میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ چاہے عمران خان ہو، مولانا طارق جمیل یا پھر کوئی شخصیت ان کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے ہاں اگر ہم کسی کے کارناموں کے مداح ہوتے بھی تو ہم میں ان کے غلط کاموں پر تنقید کرنے اور سہنے کی جرات بھی ہونی چاہئے اور آج تک وطن عزیز کی ترقی میں یہی چیزیں حائل ہیں کہ جو جس کا پیروکار ہے وہ اسی کو ہی نعوذ باللہ ولی اللہ سمجھتا ہے جو کہ بہت بڑا المیہ ہے۔

Comments are closed.