fbpx

انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن دورہ پاکستان ملتوی کرنے پر ای سی بی پر برس پڑے کہا کہ انگلینڈ کا پاکستان کا دورہ ملتوی کرنا ایک غلط فیصلہ ہے۔

باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مائیکل ایتھرٹن نے کہا ہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے۔

مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ دورہ منسوخ کرنے کی وجہ سیکیورٹی تھریٹ کو قرار دینا تو سمجھ آتا ہے لیکن کورونا کی وجہ سے کھلاڑیوں کی تھکاوٹ کا حوالہ دینا محض ایک بہانہ ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر بھی انگلش ٹیم کے دورے کی منسوخی پر سخت پریشان ، افسوس اوردکھ کا اظہار

انہوں نے کہا کہ ای سی بی کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ گزشتہ موسم گرما کے دوران جب برطانیہ میں کورونا وبا عروج پر تھی اس وقت پاکستان ان ٹیموں میں شامل تھی جنہوں نے انگلینڈ کا دورہ کیا اور بورڈ کو مالی تباہی سے بچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان کی آمد کے وقت اس ملک میں کوویڈ کی شرح اموات دنیا میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ تھی جو پاکستان میں شرح سے 150 گنا زیادہ ہے۔

سابق انگلش کپتان نے کہا کہ پاکستان میں غصے کا احساس قابل فہم ہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے نئے چیئرمین رمیز راجہ پہلے ہی انگلینڈ کے اچانک انخلا سے سخت سبق سیکھنے کی بات کر چکے ہیں۔

انگلینڈ پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز منسوخ نہ کرے،دنیا کے ہرملک میں سیکورٹی مسائل ہیں:مائیکل وان

دوسری جانب برطانوی صحافی جارج ڈوبل نے سیریز منسوخ کرنے کو دوہرا معیار قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ دوہرے معیار سے انگلینڈ جلد دوستوں سے محروم ہو جائے گا ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کرسچن ٹرنر نے کہا کہ برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی کا ایشو نہیں اٹھایا گیا، یہ برطانوی حکومت کا انگلش بورڈ کا فیصلہ ہے۔

پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا، ای سی بی نے واضح طور پر کہا کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے معذرت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان میں پی ایس ایل کھیلی، پھر کہتا ہوں پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ بطور سفیر میرا کام دونوں ملکوں کو قریب لانا ہے، میں صرف برطانوی حکومت کی پوزیشن پر رائے دے سکتا ہوں انگلش کرکٹ بورڈ برطانوی حکومت کا جواب دہ نہیں ہے۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی ہائی کمشنر

انہوں نے کہا کہ میں خود کو یہاں محفوظ سمجھ رہا ہوں، آج ایک افسوسناک دن ہے، کرکٹ ہمارے خون میں ہے، ہم سب افسردہ ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اپنی ٹوئٹ میں کرسچن ٹرنر کا کہنا تھاکہ افسوس ہے کہ ای سی بی نے اگلے ماہ پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے شکرگزارہیں کہ انہوں نے کافی محنت کی-

مسائل کے حل کے لئے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے سعودی وزیر خارجہ