ایدھی سنٹر خطرے میں،چھاپے کی تیاریاں ، بلقیس ایدھی بے ہوش،بلقیس ایدھی کا خصوصی انٹرویو

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک بہت ہی دکھی کہانی آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں،پاکستان کا کیا ایشیا کا کیا، دنیا کا بہت بڑا نام، عبدالستار ایدھی، آج انکے جتنے احسانات ہیں اس ملک ،قوم پر ، ان کا تذکرہ شروع کروں تو دو گھنٹے لگ جائیں گے کہ جوجو کام انہوں نے کیا،لیکن وہ شخص جس کو قائداعظم کے بعد سٹیٹ نے گن سلیوٹ دیا انکی آرگنائزیشن کے ساتھ یہ ہو رہا ہے کہ انکے ورکرز کو پکڑا جا رہا ہے، ایدھی سنٹرز پر پولیس کے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جن بچیوں کی شادیاں کروائیں انکو گھروں میں جا کر تفصٰیلات مانگی جا رہی ہیں، بچوں کے والدین کے پاس جایا جا رہا ہے، بلقیس ایدھی ساتھ موجود ہیں

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ اس طرح انٹرویو لے رہا ہوں، اطلاع ملی کی ایدھی سنٹر پر پولیس کے حملے ہو رہے ہیں کیا یہ سچ ہے اسکی تفصیل بتائیں گے جس پر بیگم بلقیس ایدھی نے کہا کہ ساٹھ سال سے حکومت کی اجازت سے کام کر رہے تھے، میاں بیوی دونوں، اگر لڑکیوں کی شادی کی انکی اپنی مرضٰ سے تو انکو بلا بلا کر ،ایف آئی اے والوں نے بلایا، پتہ نہین کیوں بلاتے ہیں، ایدھی صاحب اور میں نے یہ کام اسلئے نہیں کیا کہ اس نیتجے پر پہنچا دیں گے، جن کی شادیاں کروائیں تھیں انکے بچوں کی بھی شادیاں ہو گئی ہیں، 15 15 لڑکیوں کو ایف آئی اے والے بلاتے ہیں پتہ نہیں کیا پوچھتے ہیں، لوگ ڈر رہے ہیں

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ چلا کہ آپ بے ہوش ہو گئی تھیں کچھ دن پہلے جس پر بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے میں بے ہوش ہو گئی تھی، حوصلہ ختم ہو گیا،ہاتھ پاؤں کانپ رہے ہیں،پریشانی ہی پریشانی ہے، دن میں دس بارہ فون آ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ آ جاؤ، بچیوں کی شادیاں ہو گئیں، پتہ نہیں کیوں بلاتے ہیں، حکومت کی اجازت سے یہ کام شروع کیا تھا ساٹھ سال ہو گئے ،دو چار دن کی کوئی بات نہیں

بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیا کریں، ہم نے جن گھروں کو آباد کیا انکو مت اجاڑیں،میں پڑھی لکھی نہیں کسی بڑے سے دعا سلام نہیں، کوئی وجہ نہیں بتائی جاتی، لڑکیوں کے گھروں میں فون کئے جاتے ہیں کہ پیش ہوں، وہ کہتی ہیں کہ ہم کیوں جائیں ، دھمکی دی جاتی ہے کہ پولیس اٹھا لے گی،ساٹھ سال میں کبھی ایسا نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے، کوئی غلط کام نہیں کیا، بچے سکولوں میں پڑھتے ہیں، ہم پریشان ہیں، نیند نہیں آتی،پتہ نہیں کس بات کا بدلہ لے رہے ہیں

سعد فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹریشن وغیرہ کروانی تھی، کورٹ نے آرڈر دیئے کہ سب انکوائری کریں اس وجہ سے ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے، صرف ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے، مین ٹارگٹ ہم ہیں، باقی کسی کو تنگ نہین کیا جا رہا، ریکارڈ مانگا ہم نے دیا، شادیوں کا ریکارڈ مانگا وہ دیئے پھر بچوں کا ریکارڈ مانگا ہم نے وہ دیا، اب وہ کہتے ہیں کہ سب کو آفس بلواؤ، اس ٹایم تک نہین بلواؤ گے تو ہم پولیس سے اٹھوا لیں گے

سعد فیصل ایدھی کا مزید کہنا تھا کہ عدالت میں جو کیس چل رہا ہے اس میں ہم جاتے بھی ہیں، ہم نے سب ریکارڈ دے دیا ہے،

مبشر لقمان کا آخر میں کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، پاکستان میں پھیلے ایدھی سنٹر پر چھاپے پڑ رہے ہیں، کئی سنٹر کو بند کیا جا چکا ہے، بچے لینے والوں کے گھروں پر چھاپے پڑ رہے ہیں، جن بچیوں کی شادیاں ہوئیں انکو کہا جا رہا ہے کہ تھانوں میں آئیں، کوئی عجیب سا کورٹ کیس ہے کہ سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹریشن ہے یا نہیں، مجھے اتنا پتہ ہے کہ اگر ایدھی ویلفیر کو سوشل ویلفیر سے رجسٹر کروانا ہے تو پھر اسکا اللہ حافظ ہے، دنیا ایدھی کا نام مانتی ہے، سندھ اور وفاق سے درخواست ہے کہ کم از کم دیکھ تو لیں سوچ لیں کہ کس گھر پر کیا کرنے جا رہے ہیں، حرمت والا گھر ہے ہمارے لئے پاکستانیوں کے لئے، دنیا کو ایک طرف کہتے ہیں کہ پاکستان میں زیادہ لوگ زکوۃ دہتے ہیں، سب سے زیادہ چیریٹی کرنے والے کے ساتھ ہم کیا کر رہے ہیں، اس ویڈیو کو شیئر کریں تا کہ ہر ایک تک پہنچ جائے، میں خود وزیراعظم سے رابطہ کر کے میسج دوں گا کہ اسکو روکا جائے، ہمیں بلقیس ایدھی کی حرمت کا پاس کرنا ہے، انکوائری ضرور کریں، قانونی تقاضے پورے کریں لیکن انکو تنگ نہ کریں، سوتیلے پن کا سلوک مت کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.