50 ہزار روپے لگیں گے تو معاملات درست ہو جائیں گے محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ کا ریٹائرڈ ٹیچر کو جواب

رحیم یار خان() محکمہ تعلیم کا نرالی منتق، مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہونے والے سکول ٹیچر کے تقرری آرڈرز کی جعلی قرار دے دیئے، بزرگ سکول ٹیچر اپنے واجبات کی وصولی اور حصول انصاف کیلئے سرکاری شخصیات ، محکمہ تعلیم افسران اور کلرکوں کے درمیان شٹل کاک بن گیا، تفصیلات کے مطابق شاہ بیگ کے رہائشی پرائمری سکول ٹیچر ماسٹر کریم بخش نے بتایا کہ 1983 میں انکی ملازمت ہوئی تقریبآ 38 سال بعد ریٹائرمنٹ مل گئی سروس بک کی تکمیل اور پنشن بنوانے کیلئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مردانہ کے دفتر گیا تو کلرک نے کہا کہ تمہارے تقرری آرڈرز پر کٹنگ ہے 50 ہزار روپے لگیں گے تو معاملات درست ہو جائیں گے ورنہ اعتراض لگے گا جس پر میں نے یکے بعد دیگر محکمہ تعلیم کے تمام متعلقہ افسران کو درخواستیں مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کو بھی درخواست دی جسکی انکوائری کے آرڈر بھی ہوئی جو تاحال ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے گئے اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں سے بھی کہا تو انہوں نے کہا کہ رشوت دو اور کام نکلوا لو، چار ماہ سے حصولِ انصاف کیلئے دھکے کھا رہا ہوں 38 سال سروس کے بعد جعلی تقرری کا کہکر مجھے بلیک میل کیا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان اور حکومت پنجاب نے تمام سرکاری محکموں کو استاد کی عزت اور کال ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی ہدائت کر رکھی ہے اگر رشوت کی رقم کے بغیر کام نہیں ہونا تو وزیراعظم عمران خان صاحب مجھے بتا دیں تاکہ میں اپنے جائز حقوق کیلئے رشوت کی رقم جمع کر سکوں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.