fbpx

مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی کو حرام قرار دیا

مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی کو دینِ اسلام میں رائج شادی کے نظریات کے برخلاف اور حرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ’جز وقتی‘ شادیوں کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مصر میں سوشل میڈیا پر جز وقتی یا پارٹ ٹائم شادی سے متعلق ہونے والی بحث پر ملک کی اسلامی افتاء کونسل نے بیان جاری کیا ہے “پارٹ ٹائم” شادی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ملک کی افتاء کونسل نے خبردار کیا کہ ایسی ’جز وقتی‘ شادیوں کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں۔

مصری دارالافتاء کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ ہمیں شادی کے لیے جدید اصطلاحات کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے .حالیہ دنوں میں شادی کے عمل کو جدید اصطلاحات سے منسوب کرنا، نمود ونمائش، شہرت ، دینی اقدار کو عدم استحکام اور منفی تاثر سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں الجھن پیدا کرنے کا سبب ہے لہٰذا اسلام ایسے قوانین کی اجازت نہیں دیتا۔

دارالافتاء کونسل کا کہنا ہےکہ کچھ لوگ نکاح نامے کو نئے نام دے کر یا مخصوص وقت کے لیے مختص کرکے جو کچھ بھی کرتے ہیں ایسی کوششیں اس معاہدے کو باطل کرنے کا باعث بنتی ہیں، قانونی شادی ایک ایسا معاہدہ ہے جو مستقل اور تسلسل پر مبنی ہو ناکہ کسی مخصوص وقت تک محدود ہو، بصورت دیگر یہ شادی حرام ہے۔

دارالافتاء کونسل کے اس بیان کے بعد جامعہ الازہر کے پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ کی جانب سے جز وقتی (پارٹ ٹائم) شادی کو جائز قرار دینے کے بعد مصر میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی اور اس نئے رحجان کی حمایت اور مخالفت میں آرا سامنے آنے لگیں۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے جامعہ الازہر کے فقہ کے پروفیسر کریمہ نے کہا کہ باہمی رضامندی، گواہ اور جہیز کی بنیادی شرائط مکمل ہونے پر جز وقتی شادی میں کوئی حرج نہیں ایک بار جب یہ شرائط پوری ہوجائیں تو شادی جائز ہو جاتی ہے اور اس میں مشترکہ وراثت، رہائش اور قانونی طریقے سے لطف اندوز ہونے کے حقوق شامل ہوتے ہیں۔

پروفیسر کریمہ نے زور دے کر کہا جب تک شادی کا معاہدہ شرائط کو پورا کرتا ہے جزوقتی شادی میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “عارضی شادی” کے برعکس جو ایک یا دو ماہ تک محدود ہوتی ہے کو اسلام میں باطل ہے جبکہ پارٹ ٹائم شادی جائز ہے۔