fbpx

عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

ہر سال کی طرح اس سال بھی جوں جوں عید الاضحی کے دن نزدیک آ رہے ہیں شہر شہر نگر نگر مویشی منڈیاں سج رہی ہیں بھاو طے پا رہے ہیں جانوروں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کے اس عظیم تہوار پر اکثر مغرب میں ‘جانوروں کے حقوق’ کے نام پر تنقید ہوتی رہتی ہے تو آج ہم مذہبی تقاضوں سےہٹ کر معاشی پہلو سے عید الضحی کی اہمیت کا جائزہ لینگے اور جانوروںکے حقوق کے نام پر مغرب کی منافقت کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کرینگے
دنیا کے ہر خطے میں مسلمان پائے جاتے ہیں اور ان تمام خطے میں مسلمانوں سے زیادہ غیرمسلم عیدِ قربانی اور اس سے منسلک کاروبار سے منسوب ہیں۔ عید قربانی پر تقریباً تمام مسلمانوں تک گوشت ضرور پہنچتا ہے جس سے انکی پروٹین کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ عید پر ناں صرف تمام آبادی تک گوشت پہنچانے کا زریعہ ہے بلکہ اس سے منسلک ہزاروں کاروبار سےلاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے جس سے دنیا کی معیشت میں اربوں ڈالرز کا اضافہ ہوتا ہے۔چمڑہ جو برآمدات میں بہت اہم مقام رکھتا ہے برینڈڈ پرس ، جیکٹس اور جوتوں سمیت بہت سی قیمتی چیزیں اس سے بنتی ہیں۔ چمڑے کی صنعت کا دارومدار عیدِ قربانی پر پیدا ہونے والی کھالوں پر ہوتا ہے سینکڑوں کارخانوں میں لاکھوں جانوروں کی کھالیں لائی جاتی ہیں جن پر لاکھوں مزدور کام کرتے ہیں اور انکے سارے خاندان کی روزی روٹی چلتی ہے۔ عید قرباں سے اور کیا کیا کاروبار چلتے ہیں اور کیسے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آتی ہے اسکی مثال ہم اپنے ملک پاکستان سے لے لیتے ہیں۔ اقتصادی شماریے پاکستان کے مطابق سال 2016 میں پاکستان میں عید قربانی کے موقع پر 3.5 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا جس میں مویشی کی خرید و فروخت میں 2.8 ارب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ کپڑوں، جوتوں اور دیگر مصارف میں 700 ملین ڈالر کا لین دین ہوا۔ دیہاتوں میں لوگ سارا سال مویشی پالتے ہیں اور عید کے موقع پر اربوں ڈالر صاحب استطاعت مسلمانوں کی جیب سے نکل کر موشی پالنے والوں کی جیب میں آ جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کا سارا سال کا خرچ نکل آتا ہے جبکہ 9 کروڑ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کیے گئے
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال عیدِ قربانی کا حجم تقریباً 400 ارب ڈالر ہے دنیا کی معیشت میں 400 ارب ڈالر عید کے تین دنوں میں ڈالے جاتے ہیں جبکہ اس تمام کاروبار میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کا حصہ ہوتا ہے اور انکو فائدہ پہنچتا ہے.
یہ تو ہو گئے عید الضحی کے اقتصادی پہلو اور اس سے ساری دنیا کو ہونے والے فائدے کی داستان اب ہم آتے ہیں عید الضحی کے خلاف بولنے والے مغرب کی منافقت پر۔۔
ویسے تو سارا سال ہی مگر خاص طور پر عید کے قریبی دنوں میں جانوروں کے حقوق کی علمبردار کئی نام نہاد تنظمیں قربانی کو ظالمانہ اقدام کہہ کر اسکی مزمت کر رہی ہوتی ہیں اور عید الضحی پر پابندی کا مطالبہ ہر رہی ہوتی ہیں ان تمام تنظیموں سے میرا سوال ہے آپکو میکڈونلڈز کا روزانہ 300 جانور ذبح کرنا نظر نہیں آتا ؟ کے ایف سی سالانہ 75 کروڑ مرغیوں کو ظالمانہ طریقے سے مارتی ہے آپکو وہ نظر نہیں آتا ؟ سپین میں کھیل کے نام پر سالانہ ہزاروں بیلوں کو ظالمانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے لاکھوں لوگ ان مناظر کو دیکھ کر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں اسی طرح نیپال میں بھی ہر پانچ سال بعد گدھیماں دیوی کیلئے لاکھوں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا ان سب پر واجبی سی تنقید کر کے جانوروں کے حقوق کے نام پر مسلمانوں کے عظیم تہوار پر حملہ آور ہو جانا کس طور پر قابل قبول نہیں