عید اور کچھ یادیں تحریر:جویریہ بتول

عید اور کچھ یادیں…!!!
(تحریر:جویریہ بتول)۔
عید رشتہ داروں کے ملنے کا بھی ایک موقع فراہم کرتی ہے…
آپس میں مل بیٹھنے اور پیاری پیاری یادیں شیئر کرنے کا بھی نام ہے…
میرے بڑے ماموں عید ملنے آئے تو ان کے ساتھ دوستانہ گپ شپ ہونے کی وجہ سے میں زیادہ دیر اُن کے پاس بیٹھتی ہوں…
ویسے بھی مجھے اپنی عمر کی نسبت بڑے بزرگوں کی مجلس کرنا بہت پسند ہے،اور عمومًا ایسا ہی ہوتا ہے،اس سے آپ کے اندر حسِ مشاہدہ،خود اعتمادی اور اُن کے تجربات سے بہت کُچھ سیکھنے کو ملتا ہے…
گھر میں بھی والدین کے پاس بیٹھ کر ماضی کے تجربات کو کریدنا بہت اچھا لگتا ہے،یہی وجہ ہے کہ بھائی اور بہن کی نسبت خاندانی معلومات میرے پاس زیادہ ہوتی ہیں…
آج بھی بات یونہی نکلی کہ پہلے وقت کے لوگ پر سکون،سادہ مزاج اور مخلصی پر مبنی تعلق رکھتے تھے…
اُن میں ریا،بناوٹ اور دھوکہ دہی کم تھی جو کہ آج اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ایک گھر کے افراد بھی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے نہیں چوکتے…
میرے نانا میرے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے لیکن اُن کو یاد کرنا،دعائے مغفرت اور اُن کے انداز و کردار کی کہانیاں سننا مجھے آج بھی بہت پسند ہیں…
بچپن میں نانا نانی کے ہاں جانا اور اُن کی آنکھوں میں پیار کی چمک کبھی نہیں بھولتی…
نانا مرحوم کی دوستی اور اخلاص کے تعلق کے واقعات اکثر امی بھی سناتی ہیں اور آج بھی دل کھول کر شیئر کیئے گئے…
واقعی انسان کی اصل قیمت اس کا کردار ہوتا ہے نہ کہ مال و دولت کے انبار…اور ظاہری ٹیپ ٹاپ۔
ماموں بتا رہے تھے کہ نانا جی ایک دفعہ کسی کام سے فیصل آباد گئے تو واپسی پر ضلع کے تحصیلدار نے کہا کہ بزرگو میری بیوی اور بچے بھی اسی گاڑی میں آپ کے شہر جا رہے ہیں جہاں وہ رہتے تھے تو ان کا بھی سفر میں خیال رکھیئے گا.
تو نانا جی نے نہ صرف پورے رستہ میں بچوں کو اُس وقت کے مطابق ٹافی،بسکٹ خرید کر دیا بلکہ ان سب کا کرایہ بھی ادا کیا…
انہیں منزل پر پہنچا کر گھر کا رُخ کر لیا…
تحصیلدار کی بیوی نے کہا کہ بابا جی آپ رات ہمارے یہاں گزاریں اور خدمت کا موقع دیں ہماری بیٹھک خالی ہے…
مگر وہ نہ مانے،وقت گزر گیا کافی وقت بعد تحصیلدار نے کسی مجلس میں نانا جی کا تذکرہ کیا کہ اس نام کے شخص کو کوئی جانتا ہے تو ایک شخص نے ہاں کہی…
اس سے کہا گیا کہ جاؤ انہیں بلا کے لاؤ میں تو اُن سے ملنا چاہتا ہوں پھر مجھے وہ نظر نہیں آئے…!!!
جب نانا جی گئے تو خوب خاطر مدارت کے بعد علاقہ کے دو جھگڑوں کا فیصلہ بھی اُن کی رائے کے مطابق کر کے عزت افزائی کی…!!!
اُن کے تعلقات دور دور تک تھے اور ارد گرد کے دیہات میں ہر جگہ ان کے دوست تھے جو اپنی اولادوں کو بھی اچھے رویے اور حسن سلوک کی تلقین کرکے گئے جن کے فوائد ماموں کے بقول وہ آج بھی اُٹھاتے ہیں…!!!
بات کو بہت خوب صورتی سے ناقابلِ تردید انداز میں کرنے کا ملکہ حاصل تھا…
ایک دفعہ کی بات ہے کہ اپنے ننھیال گئے تو وہاں ایک رشتہ دار سے راستے میں ملاقات ہوئی،ان کے گھر جانے کا وقت میسر نہیں تھا،
سب گھر والوں کی خیریت وہیں دریافت کر لی رشتہ دار نے کہا والد صاحب کی طبیعت ناساز رہتی ہے…
نانا جی چونکہ ان پڑھ تھے لیکن بہت زیرک انسان،سمجھ گئے کہ بہانے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ وہ پڑھے لکھے کزن تو شاید اسے معصومیت ہی سمجھیں گے اور شکوہ بھی باقی نہیں رہے گا…
جھٹ بولے "اچھا ناساز ہیں وہ الحمدللہ…”
رشتہ دار سٹپٹایا…
کہ جی ناساز کا مطلب خراب طبیعت ہوتی ہے…!!!
نانا جی مسکراتے ہوئے بولے:
اچھا اچھا میں سمجھا ناساز بہتر طبیعت کو کہتے ہیں…
اتنی گہری لغت کو پڑھا جو نہیں ہے،
میرا پوچھنا کیجیئے گا پھر کبھی چکر لگاؤں گا…!!!
ان کے ایک دوست ایک دفعہ اُن سے ملنے آئے تو ایک بزرگ نے اعتراض کیا کہ آپ اُن کے گھر آتے ہیں ہمارے گھر نہیں،حالانکہ واقفیت تو ہماری بھی ہے آپس میں…!!!
نانا جی کا وہ دوست بولا یہ سچ ہے کہ ہماری واقفیت ضرور ہے مگر اتنی ہی کہ ہم اکھٹے نوکری کرتے رہے دس سال تک بس منافع بانٹنے تک بات ہوتی تھی باقی کبھی کچھ نہیں پوچھا دُکھ سکھ…
جبکہ اُس شخص نے مجھے کرایہ پر مکان نہ ملنے تک زمینوں پر بنے ڈیرے میں رہائش دینے کے ساتھ ساتھ تین وقت کی روٹی بھی فراہم کی،دوستی مفاد پر نہیں بنتی،دوستی اخلاص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر بنتی ہے۔
وہ بزرگ خاموش رہ گئے…
اسی طرح ایک دفعہ ایک کمرے کی چھت کا سامان خریدنے گئے دوسرے شہر میں،
پرانے وقتوں میں لوگ مختلف چیزوں کی چھتیں ڈالتے تھے،
وہ اس سامان کو سر پر اٹھائے ہوئے گزر رہے تھے کہ ایک دوست کے بچوں اور بیوی نے دیکھ لیا وہ قریب پہنچ کر سلام دعا کرنے لگے…
نانا جی نے وہ سامان سر سے اُتارا اور پگڑی سے منہ صاف کر کے انہیں ملے اور پھر گاڑی پر بٹھا کر کرایہ بھی دیا اور بچوں کو کچھ نقدی بھی…
یعنی بناوٹ اور تکلف سے کوسوں دور حقیقت کے رنگ میں ڈھلی ہوئی زندگیاں کتنی خوب صورت ہوتی تھیں…
اُن کے تعلقات ہر شعبہ کے لوگوں سے رہتے تھے تیس سال پہلے ایک دفعہ ان کے خاندان سے کوئی شخص علاقے کی ایک سیاسی شخصیت کے پاس گئے تو اس وقت تقریبًا دو ہزار روپے میں جو آج کی بہت بڑی قیمت کے برابر تھے فورًا کھانے کا آرڈر دیا اور پھر بعد میں بتایا کہ یہ صرف نانا جی کے تعلق کی بنیاد پر تھا…!!!
اُن کے دوستی دیرپا اور گھاٹے کھانے اور قربانی والی ہوتی تھی یہ نہیں کہ صبح ادھر،شام ادھر…
اور اسی بات کی سب کو قدر بھی تھی…
گھمبیر مسائل کو اپنی قوتِ فیصلہ اور بہترین حکمتِ عملی سے طے کر لیتے تھے…
کسی کا ذہن بنانا اور آمادہ کرنا پرانے وقتوں کے جھگڑوں اور مسائل میں مشکل بات تھی جس سے وہ مالا مال تھے…واقعات تو بہت زیادہ ہیں لیکن
یہ چند مخلصانہ یادیں اچھی لگیں تو ضبطِ تحریر میں لے آئی…
واقعی وہ لوگ دور اندیش،زیرک اور مخلص لوگ تھے،ایک دوسرے کے غم اور خوشیاں شیئر کرنے والے لوگ تھے۔
آج کے تعلقات سرخی پاؤڈر تعلقات ہیں…جب پسینہ انہیں بہا لے جاتا ہے تو نیچے سے اصلی اور کھرے چہرے نکل کر اپنی اصلیت اور حقیقت دکھا دیتے ہیں…
حسد،برائی،چغل خوری عام ہو چکی ہے اور لوگ اچھے وقت تک ساتھی بنتے ہیں اور مشکل وقت میں پھنسا دیکھ کر منہ موڑ جاتے ہیں جبکہ ماضی میں لوگ مشکل اوقات میں بھی کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے رہتے تھے…
یہی اصل دوستی اور دوستی کا مقام ہے جس میں بناوٹ،ریا اور جھوٹ نہیں ہوتے…!!!
آج نانا جی کے گھر کی جگہ بہترین گھر اور دنیا کی ہر آسائش موجود ہے مگر اُن کی یادیں، باتیں اور تربیت آج بھی مشعلِ راہ اور بہترین زادِ سفر ہیں جنہوں نے اُس وقت میں کم وسائل کے ساتھ خوب صورت اور سادہ زندگی گزاری اور آج یقینًا یہ سب انہی کی دعاؤں کا ثمر ہے…!!!
اللّٰہ میرے آباء کو بخش دے،
اور انہیں جنتوں کا مستحق بنا دینا…!!!آمین ثم آمین…!!!
یہ سچ ہے کہ آنے والے آتے رہتے ہیں مگر جانے والوں کی کمی کبھی پورا نہیں ہوا کرتی…!!!
ہر رشتے کا ایک مقام اور وقار ہے،اللہ ہمیں رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ زندگی کا حُسن ہیں…!!!
===============================

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.