علاقائی مسائل اجاگر کرنے کیلیے ریجنل میڈیا کا کردار اہم ہے وفاقی سیکرٹری اطلاعات ونشریات

لاہور(اے پی پی) علاقائی مسائل اجاگر کرنے کے لیے ریجنل میڈیا کا اہم کردار ہے میڈیا کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے وزارت اطلاعات دن رات کوشاں ہے ، اخبارات حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے درست معلومات عوام تک پہنچا سکتے ہیں ، پریس کے زیر التواءمسائل کو حل کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ریفارمز پیکیج متعارف کروایاجا رہا ہے جس سے ریجنل میڈیا کے درینہ مسائل حل ہونگے ،وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی

تفصیلات کے مطابق وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی نے کہا ہے کہ علاقائی مسائل اجاگر کرنے کے لیے ریجنل میڈیا کا اہم کردار ہے میڈیا کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے وزارت اطلاعات دن رات کوشان ہے ۔ اخبارات حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے درست معلومات عوام تک پہنچا سکتے ہیں ۔ پریس کے زیر التواءمسائل کو حل کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ریفارمز پیکیج متعارف کروایاجا رہا ہے ۔

جس سے ریجنل میڈیا کے درینہ مسائل حل ہونگے انہوں نے سوموار کے روز پی آئی ڈی آفس لاہور کا دورہ کیا تاکہ علاقائی پریس کے بنیادی مسائل سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات کے ماتحت اداروں میں بہتری کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کی پالیسوں پر عمل پیرا ہیں جبکہ نجی اداروں کو بھی انہی اصلاحات پر عمل کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق اور وزیر اطلاعات کی رہنمائی میں وزارت اطلاعات سے منسلک اور ماتحت اداروں کی تشکیل نو اور بہتری کی ہر سطح پر بہت پذیرائی ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی پالیسی پر کامیاب عمل درآمد نے تمام سٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال کرنے میں بھرپور مدد کی ۔ دسمبر 2020کے بعد محکمہ اطلاعات کے سارے مین دفاتر ای فائلنگ پر منتقل ہو جائیں گے ۔ انہوں نے واضع کیا کہ جیسے ہی علاقائی پریس کو درپیش بڑے مسائل حل ہوں گے تو اس طبقہ سے وابستہ ورکرز کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی پریس میڈیا کے مرکزی دھارے کا ایک اہم حصہ ہے جو لوگوں کو درپیش مسائل اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ اس موقع پر سعید احمد شیخ ڈی جی پی آئی ڈی لاہور نے سیکرٹری اطلاعات کو علاقائی پریس کے مسائل سے آگاہ کیا ۔

سیکرٹری انفارمیشن نے افسران پر زور دیا کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے اپنے تعلقات مضبوط بنائے تاکہ باہمی اشتراک سے میڈیا کے مسائل حل ہو سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.