fbpx

انتخابی اصلاحات مسترد :الیکشن کمیشن اوراپوزیشن اتحاد جیت گیا:حکومت ہارگئی

اسلام آباد:انتخابی اصلاحات مسترد :الیکشن کمیشن اوراپوزیشن اتحاد:حکومتی اراکین کوواک آؤٹ کرنا پڑگیا ،اطلاعات کے مطابق انتخابی اصلاحات، حکومت اور اپوزیشن میں ٹھن گئی۔ انتخابی ا صلاحات سے متعلق ترامیمی بلز مسترد کر دیئے گئے،

اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن اعتراضات پر جواب د ینے کی اجازت نہ ملنے پر حکومتی اراکین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس سے واک آوٹ کر دیا۔

چیئرمین تاج حیدر کی صدارت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس ہوا، حکومتی اور الیکشن کمیشن اراکین نے کمیٹی اجلاس سے واک آوٹ کر دیا، اپوزیشن کی یکطرفہ ووٹنگ، انتخابی اصلاحات سے متعلق ترامیمی بلز مسترد کر دیئے۔

مشیرپارلیمانی امورڈاکٹر بابراعوان کو الیکشن کمیشن کے اعتراضات پر جواب اور ثمینہ ممتاز کو آن لائن وو ٹنگ کا حق نہ ملنے پر حکومت نے کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اپوزیشن ارکان نے یکطرفہ ووٹنگ کرکے چھ ووٹ بلز کی مخالفت میں دئیے۔

الیکٹرانک ووٹنگ ،سینیٹ الیکشن اوپن کرانے ،بیرون ملک پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے اور ساٹھ روز میں حلف نہ اٹھانے پر سیٹ خالی ہونے سے متعلق ترامیمی بلز مسترد کردیئے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں، پتہ نہیں کیسے الیکٹرانک مشین سے متعلق 37 اعتراضات عائد کردیئے، جواب دینا ہوگا الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کی طرف کیوں نہیں جانا چاہتا۔

ادھر وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک سیاسی جماعت بن گیا ہے جس کے رویے کی وجہ سے قوم کی خواہشات کے باوجود انتخابی اصلاحات میں ترامیم رکی ہوئی ہیں‌