fbpx

ایلون مسک نے ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کر دیا

ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا کنٹرول مضبوط کرتے ہوئےٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کردیا ہے-

باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق ایلون مسک کے اس اقدام کی خبر امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ذریعے ملی ہے، جس کے مطابق ٹوئٹر کی حوالگی کے معاہدے کی تکمیل کے تحت مسک ٹوئٹر کے واحد ڈائریکٹر بن گئے ہیں۔

اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی

ارب پتی پچھلے ہفتے کمپنی کو خریدنے کے بعد اس کے چیف ایگزیکٹو ہوں گے وہ اس فرم پر تیزی سے کنٹرول حاصل کر رہے ہیں، جسے دنیا بھر کے سیاست دان اور صحافی استعمال کرتے ہیں ایلون جن اصلاحات پر غور کر رہے ہیں اس میں تبدیلیاں شامل ہیں کہ ٹویٹر ملازمتوں میں کمی اور اکاؤنٹس کی تصدیق کیسے کرتا ہے-

بورڈ آف ڈائریکٹرز سے نکالےگئے 9 افراد میں بورڈ کے سابق چیئرمین بریٹ ٹیلر اور سابق سی ای او پراگ اگروال شامل ہیں۔

خیال رہے کہ مسک نے ٹوئٹر کی ملکیت حاصل کرتے ہی چند بڑے عہدیداران بشمول سی ای او پراگ اگروال، چیف فنانس آفیسر نیڈ سیگال سمیت لیگل افیئرز اور پالیسی چیف وجے گاڈے کو برطرف کردیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایلون مسک کچھ عرصے تک کمپنی کے سی ای او کا عہدہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور ٹوئٹر میں بنیادی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

ٹویٹرکا کنٹرول سنبھالتےہی ایلون مسک نےپاکستان مخالف بھارتی نوازوجیا گڈے کوملازمت…

امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس فائلنگ کے مطابق ٹویٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی نے اپنے 18 ملین پورے حصص، جس کی قیمت تقریباً 978 ملین ڈالر ہے، 54.20 ڈالر کی خریداری کی قیمت پر نئی نجی کمپنی میں ڈال دی ہے مسٹر ڈورسی، جنہوں نے مئی میں ٹویٹر کا بورڈ چھوڑ دیا، نے مسٹر مسک کی فرم کی خریداری کی حمایت کی۔

انہوں نے کمپنی کی سابقہ ​​انتظامی ٹیم کی طرف سے قبضے کی منظوری کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایلون واحد حل ہے جس پر مجھے بھروسہ ہے۔ میں شعور کی روشنی کو بڑھانے کے لیے اس کے مشن پر بھروسہ کرتا ہوں-

قبل ازیں ایلون مسک نے یورپی کمیشن کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کا ملکیتی سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹویٹرغیرقانونی آن لائن مواد کی روک تھام کے ضمن میں سخت یورپی قوانین کی تعمیل جاری رکھے گا ۔

چین سے مقابلے کے لیے امریکا کا بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ

گذشتہ ہفتے ایک غیررپورٹ تبادلہ خیال میں،مسک نے یورپی یونین کے صنعت کے سربراہ تھیری بریٹن کو بتایا تھا کہ وہ خطے کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کی تعمیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس ایکٹ کے تحت غیرقانونی موادکوکنٹرول نہ کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عاید کیے جاسکتے ہیں۔

یورپی یونین کے عہدے داروں نے روئٹرزکو بتایا تھا کہ خود ساختہ آزادیِ اظہار رائے کے مطلق العنان علمبردارایلون مسک نے آیندہ ہفتوں میں فرانس کے سابق وزیرخزانہ بریٹن کے ساتھ بالمشافہہ ملاقات پراتفاق کیا ہے۔

یہ تبادلہ خیال اس وقت ہوا ہے جب بریٹن نے ٹویٹرپر مسک کو جمعہ کے روز نئی یورپی قانون سازی کے بارے میں متنبہ کیا۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ یورپ میں یہ پرندہ (ٹویٹر) یورپی یونین کے قوانین کے مطابق ہی پرواز کرے گا۔

ایلون مسک کی جانب سے یورپی یونین کو یقین دہانیاں ان کےعملی رویہ کی نشان دہی کرتی ہیں حالانکہ انھوں نے اس سے قبل اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ٹویٹر کے پاس پوسٹ کیے جانے والے مواد پرکم قدغنیں ہوں گی۔

ایران کیساتھ جوہری معاہدےکی بحالی کی ناکامی پر وقتِ ضرورت فوجی آپشن زیرِغورہے،امریکی ایلچی