fbpx

شرمندہ ہجوم/ بےحس عوام تحریر: محمد عمران خان

Twitter Handle: @ImranKBloch

کہاں سے لکھوں کہاں تک لکھوں میرے دیس کا تو ہر ہر لمحہ تار تار ہے، ہر روز اِک نیا عذاب جس سے ہجوم چیخ اُٹھتا ہے، فیس بک ٹیوٹر سوشل سائٹس پہ خوب واویلا کیا جاتا ہے، اپنے باشعور ہونے کا احساس چیخ چیخ کے دلانے والے اس ہجوم کا ضمیر اندر ہی اندر ہنس رہا ہوتا ہے کیسا چونا لگا رہا ہے لوگوں کو، اس ہجوم کے ہر تماشائی کی مثال اُس مزدور سی ہے جو مالک کو چونا لگانے کے چکر میں ایک ہی سیمنٹ کی بوری چھت پہ لے کے جاتا اور وہی واپس نیچے لے کے آتا صبح سے شام کر دیتا ہے، اس ہجوم کے غریب لاچار کی خود سے ہمدردی اُس مسافر کی سی ہے جو واپسی کا ٹکٹ بھی لے کر ٹرین پہ سوار ہو گیا ہے اور دل ہی دل میں اس خیال سے محضوظ ہو رہا ہے کہ واپسی تو میں نے کرنی نہیں، اس ہجوم کا ایک ایک فرد ملک و ملت سے اتنا وفادار ہے، غریب بے کس پسی عوام کا اتنا درد اس کے اندر سمویہ ہے کے کام کاج سے تھکا ہارا گھر لوٹ کر شام چھ سے رات بارہ ایک بجے تک پوری تندہی سے سوشل میڈیا سائٹس پہ مفکرانہ، مفسرانہ، قرآن حدیث اقوال ذریں پہ مبنی اسلامی پوسٹس کرتا ہے،  وطن سے محبت کے ترانے الاپتا ہے، حکمرانوں کی سمت درست کرواتا ہے، کرپٹ سیاستدانوں کی ماں بہن ایک کرتا ہے، بیوروکریسی کے کالے کارناموں پہ ہزار لعنتیں بھیجتا غریب دکھیاری پریشان عوام کے دکھ کا مداوا کر کے سکون کی نیند سو جاتا ہے کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا الحمداللہ،

ہم بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں سے شرمندہ، دہشتگردوں کے ہاتھوں گولیوں سے چھلنی ہونے والوں سے شرمندہ، اے پی ایس کے معصوم فرشتوں سے شرمندہ، بلدیہ ٹاون، ماڈل ٹاؤن، ساہیوال، جیسے کئی سانحوں کی لپیٹ میں آنے والے معصوم لوگوں سے شرمندہ، شاہ رُخ جتوئی کے ہاتھوں قتل ہونے والے  شاہ زیب سے شرمندہ، ایان علی کیس کے تفتیشی کسٹم آفیسر اعجاز چودھری سے شرمندہ، نقیب اللہ، ننھی زینب، صلاح الدین، جیسے ہزار ہا ناحق مارے جانے والوں، وڈیرے سرمایہ داروں کے ہاتھوں مارے جانے والے مظلوموں، مہنگائی، بیروزگاری، انصاف کی عدم دستابی کے ہاتھوں مجبور ہو کر فیملیز سمیت خودکشیاں و خود سوزیاں کرنے والوں سے شرمندہ ہیں، ہم ایک ایسا شرمندہ ہجوم ہیں جن کی شرمندگی دکھاوے کے سواء کچھ بھی نہیں، جن کے بیان سالہاسال سے اس فرسودہ نظام اور اس سے مستفید کرپٹ عناصر کے خلاف پورے جوش خروش والے ہوتے ہیں مگر جب ہر ہر بربریت سے بھرپور سانحہ پہ نکلنے کا موقع آتا ہے تو یہی عوام نکلنے والوں کی پکار پہ لبیک کہنے کی بجائے ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھ کر نکلے ہووں پہ ٹھٹھے اور جگتیں کسنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں، یہی ہجوم پانچ سال دل کھول کے گالیوں سے نوازنے کے بعد اُنہی کرپٹ ظالم بھتہ، قبضہ مافیا کو الیکشن کے دنوں میں اپنی پلکوں پہ بیٹھتا ہے، لائنوں میں لگ کر اُنہیں اگلے پانچ سال کیلئے کرپشن ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے کا لائسنس دیتا ہے، اے زندہ لاشو تم کب تک شرمندہ ہوتے رہو گے تمہارے مقدر کی گولی تو اس فرسودہ کرپٹ نظام میں تیار ہو چکی بس انتظار کرو  کسی نا کسی دن پولیس کی وین آئے گی اور تمہارے لواحقین پوسٹ مارٹم زدہ لاش وصولنے کیلئے مردہ گھر کے باہر منتظر ہوں گے، بے فکر رہو ایک تلاتم خیز سمندر تمہارے نام پہ ہزاروں لاکھوں پوسٹس کرے گا، ہو سکتا ہے ٹیویٹر پہ ٹرینڈ بھی بن جائے، زندہ تھے تو ٹی وی چینلز پہ لوگوں کی خبریں سنتے تھے پولیس گردی کے نتیجہ میں مرو گے تو ٹی وی چینلز کے بلیٹن، ٹاپ سٹوریز، ٹاک شوز، میں تمہارا نام جگمگائے گا، قوم بن کے بوسیدہ دیمک زدہ کرپٹ نظام کو زمین بوس کرنے کیلئے نکلنے کا کیا فائدہ گولیوں سے چھلنی کر بھی دیے گئے تو نیوز بلٹن میں بس اتنی سی خبر آنی ہے پاکستان کو کرپٹ نظام اور اُن کے چیلوں سے واگزار کرواتے ہوئے دس بیس ہزارافراد شہید