fbpx

ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے بھی ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ اگلے دو دن میں ہماری زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

باغی ٹی وی : ماہرین نے اس خلائی پتھر کو 7482 یا ’1994 پی سی1‘ کا تکنیکی نام دیا ہے کیونکہ یہ پہلی بار 1994 میں دریافت کیا گیا تھا 3,451 فٹ قطر والا یہ شہابیہ (پاکستانی وقت کے مطابق) 19 جنوری 2022 کی علی الصبح 3 بج کر 51 منٹ پر زمین سے 19 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر دوری پر ہوگا، جو زمین سے اس کا کم ترین فاصلہ بھی ہوگا۔

چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے کی وجہ سے زمین کو اس شہابیے سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا اس شہابیے کی رفتار 76,192 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ جتنی تیزی سے زمین کے قریب پہنچے گا، اتنی ہی رفتار کے ساتھ زمین سے دور بھی ہوتا چلا جائےگا یہ ایک الگ مدارمیں گردش کررہا ہے اور ہماری زمین کے حساب سے ایک سال سات مہینوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے جبکہ 7482 کی براہِ راست نشریات ’’انورس‘‘ نامی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکیں گی۔

خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

واضح رہے کہ یہ زمین کے ’’قریب‘‘ سے گزرنے والا سب سے بڑا شہابیہ نہیں بلکہ یہ اعزاز اب تک ’’ایسٹرائیڈ 3122 فلورینس‘‘ کے پاس ہے جس کی چوڑائی 8.85 کلومیٹر معلوم کی گئی ہے اور جو ستمبر 2057 میں زمین سے صرف چند لاکھ کلومیٹر دُوری سے گزرے گا۔

نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت