گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی

گلگت :گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی،اطلاعات کےمطابق بھارتی حکومت نے پاکستان کو خبردار کیا ہےکہ وہ گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت اوراس کے صدیوں پرانے ورثے کو تبدیل نہ کرے ، بھارتی حکومت کی طر ف سے یہ دھمکی دی گئی کہ بھارت اس کوشش کو نہ تو تسلیم کرتا ہے اورنہ ہی اس کی اجازت دیتا ہے ،

 

بھارتی حکومت کی طرف سے جاری بیان مٰیں کہا گیا ہےکہ چلاس اور شمالی علاقہ جات میں بدھ مت کے قدیم تاریخی ورثے موجود ہیں پاکستان ان پرکسی قسم کا حق نہیں رکھتا ، پاکستان کو چاہہے کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش سے دوررہے جس سے بھارت کی جغرافیائی اثرات پڑتے ہوں

 

ادھر دوسری طرف حکومت  پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے معاملات میں دخل اندازی کرے ، وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھارتی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان ان تاریخی ورثوں کی حفاظت کرنا چانتا ہے

 

یاد رہےکہ گلگت بلتستان میں یہ تاریخی ورثہ بہت پرانا ہے جس کو متعارف کروانے کےلیے حکومت پاکستان نے سیاحت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہی وجہ ہے  کہ ابھی فیصلہ ہی ہوا تھا کہ کورین بدھ راہبوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بدھ مذہب کے قدیم آثار کا دورہ کیا اور بدھ کے مجسمے کے سامنے مذہبی رسومات ادا کیں، جس سے سیاحت کی ترقی کے نئے در کھل گئے ہیں۔

کرتا پور راہداری کھلنے اور قدیمی ہندو مندروں کی بحالی کے حکومتی اعلان کے بعد بدھ مت کے پیروکاروں نے پاکستان کا رخ کر لیا ہے۔

گلگت بلتستان میں مذہبی سیاحت کے مواقع نے بدھ مت کے پیروکاروں کی توجہ حاصل کر لی۔ کورین بدھ راہبوں نے گوتم بدھ کے مجسمے کے سامنے مذہبی رسومات ادا کیں، جس سے سیاحت کی ترقی کے نئے در کھل گئے ہیں۔

گلگت میں آٹھویں صدی عیسوی میں پہاڑی چٹان پر بنائے گئے بدھا کے نو فٹ طویل مجسمے پر کورین بدھ راہبوں نے حاضری دی اور مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹیکسلا میں بھی موجود بدھ مت کے آثار کا بھی دورہ کیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں نے اجتماعی طور پر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا ہے۔ زائرین نے نگر اور ہنزہ میں واقع سیاحتی اور تاریخی مقامات کی سیر بھی کی اور قدیم شاہراہِ ریشم اور راکاپوشی کے نظارے کیے۔ان کے اعزاز میں صوبائی حکومت نے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا اور روایتی مہمان نوازی کی۔

گلگت بلتستان میں بدھ مت دور کے آثار بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں پہاڑی چٹانوں پر بدھ کے مجسمے، تحریریں اور نقوش شامل ہیں۔

 گلگت بلتستان میں بدھ مت دور کے آثار صدیوں بعد  بھی محفوظ حالت میں ہیں جنھیں دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے۔ ضلع دیامر میں دریائے سندھ کے اطراف چار لاکھ سے زائد تحریریں اور نقوشِ ہیں جو دنیا میں چٹانی نقاشی (راک کارونگ) کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

محقق اور کئی کتابوں کے مصنف شیرباز برچہ کے مطابق  کارگاہ بدھ دنیا میں بدھا کا دوسرا نایاب مجسمہ ہے جو آٹھویں صدی  میں بدھ مت کے پیروکاروں نے چٹان کو تراش کر بنایا تھا۔ ایسا ہی ایک مجسمہ لداخ میں بھی ہے۔

کورین وفد کو بریفنگ دینے والے شیرباز برچہ کے مطابق کارگاہ بدھ کو بدھ مت میں خاص مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے زائرین خصوصی طور پر یہاں زیارت کے لیے حاضری دیتے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

محمد عالم سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’ بدھ مت راہبوں کی گلگت  آمد سے علاقے میں مذہبی سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔ گلگت بلتستان میں اس حوالے سے بےپناہ مواقع موجود ہیں۔ یہاں مختلف موسموں میں بدھ مت کے ماننے والے خصوصی طور پر یہاں آتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں امن و امان کی بہتر صورت حال سے سیاحت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے اس لیے یہاں مذہبی سیاحت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔‘

محمد اشرف عشور ہوٹلنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے مذہبی سیاحت کے مواقع سے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ایسے ممالک جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کی بڑی تعداد آباد ہے وہاں ان مواقع کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کرنے اور ویزا پالیسیوں میں آسانیاں پیدا کرنے سمیت مقامی سطح پر بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے سے مذہبی سیاحت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

کورین زائرین کی آمد کو مقامی صحافیوں سے خفیہ رکھا گیا جس پر مقامی سینیئر صحافی منظر شگری کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان پرامن علاقہ ہے یہاں آنے والے وفد کی آزاد میڈیا میں کوریج کے ذریعے یہاں کے امن و امان اور مذہبی رواداری کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا اچھا موقع تھا جسے ضائع کر دیا گیا۔

ساتویں صدی کے آخر میں بدھ اِزم نے گلگت بلتستان میں قدم رکھا۔ اِسلام سے پہلے بلتستان کے لوگ بدھ مت اور بون مذہب کے ماننے والے تھے۔ آج بھی اس خطے میں کئی جگہوں پر بدھ آثار ملتے ہیں جن میں منتھل بدھا کی چٹان اور ہنزہ کی مقدس چٹان سرِ فہرست ہیں۔ اسکردو سے ست پارہ جھیل کی طرف جاتے ہوئے گرینائٹ کی ایک بڑی چٹان پر گوتم بدھا کی مختلف اشکال کندہ ہیں۔

نویں صدی کی یہ چٹان آٹھویں اور دسویں صدی کے درمیان بالائی سندھ کی وادی میں قائم بدھ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار ہے۔ اس پیلی چٹان پر کندہ شکلوں میں بدھا کو اپنے پیروکاروں کے بیچ میں مراقبے کی حالت میں دکھایا گیا ہے۔1906میں ایک اسکاٹش سیاح ایلا نے اپنی کتاب میں اس چٹان کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروائی۔

وادی ہنزہ میں کریم آباد کے ساتھ ایک چھوٹا سا قصبہ ہلدیکش کے نام سے آباد ہے جہاں ایک پہاڑی کے اوپر، دریائے ہنزہ کے کنارے بدھ مت کی یہ مقدس کندہ چٹان موجود ہے جو ہزاروں سال قدیم ہے۔ اِس چٹان کے دو حِصے ہیں اور دونوں پر مختلف تصاویر اور عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ جگہ ایک زمانے میں بدھ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے اسکو اپنی تحویل میں لے کر محفوظ کر رکھا ہے لیکن دریائے ہنزہ میں آنے والے سیلاب اس قدیم ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے رہتے ہیں۔

پندرھویں صدی میں اسلام کی آمد کے بعد بہت سے بدھسٹ، مسلمان ہو گئے اور جو چند ایک بچے تھے وہ لداخ کی طرف ہجرت کر گئے جہاں آج بھی بدھوں کی اکثریت ہے۔بامیان طرز کا کارگاہ بدھا کا مجسمہ انتہائی اونچائی پر ایک بڑے پہاڑی پتھر میں کریدا گیا ہے۔

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ رابطہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے سیاحوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کو یہاں پہنچنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کارگاہ بدھا جسے مقامی زبانی میں {یشانی کہتے ہیں بدھ مت کے منفرد آثار قدیمہ میں شمار ہوتاہے۔کارگاہ بدھا کا مجسمہ کارگاہ اور شوکوگاہ دریائی نالوں کے درمیان پہاڑی پرواقع ہے۔

یہ برماس {برساتی نالہ اور نیپورا بیسن کے قریب واقع ہے۔گلگت کے معتبر ثقافتی ورثہ اور ارد گرد کے علاقوں میں بدھ مت کا پھیلائو شاہرائے ریشم کے ساتھ سے منسلک ہوتا ہے۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بدھا کے پیروکاربدھ مت کی عبادت گاہ میں یہاں سے گزر کر قائم پذیر ہوتے تھے۔کارگاہ بدھا کا مجسمہ اور دیگر آثارقدیمہ سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ تیسری صدی سے گیارویں صدی تک گلگت بدھ مت کا بڑا مرکزتصور کیا جاتاتھا۔

گلگت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر1930میں کھدائی کے دوران بدھ مت کی عبادت گاہ اور تین عدد سٹوپہ اور سنسکرت کا مسودہ ملا ۔جس سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کارگاہ بدھ مت کی آمداور مذہبی امور ساتویں صدی میں یہاں مکمل ہوگئے تھے۔سنسکرت کی تحریر 1931 میں دریافت ہوئی جبکہ بدھ مت کا مجسمہ 1938 اور 1939 کے درمیان عبادت گاہ کے ساتھ دریافت ہوا جوکہ سطح سمندر سے 400 میٹر بلندی پر واقع ہے۔

گلگت بلتستان محکمہ سیاحت کے مطابق 19’2018 میں تقریبا پانچ لاکھ سیاحوں نے بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے لئے گلگت بلتستان کا رخ کیا۔کارگاہ بدھ کے اردگرد جو سوراخ ہے اس کے بارے میں مقامی لوگوں کے پاس عجیب غریب کہانیاں ہیں یہاں رہائیشوں کا خیال ہے کہ اس علاقے میں ایک آدم خور رہتا تھا اور وہ انسانی جسم کے گوشت کھایا کرتا تھا۔

اس آدم خور نما انسان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے لوگ گائوں کے ایک بزرگ سے مدد لینے کیلئے ان کے پاس چلے گئے اور اسے کارگاہ بدھا کے مجسمے کے اردگرد۔ جوسوراخ نظر آرہے اس میں اس آدم خور کو قید کیا گیا۔پاکستان میں عالیشان اور صدیوں پرانے بدھ کے مجسمے، کنندہ چٹانیں اور اسٹوپا موجود ہیں۔کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ کی خاک آٹھ اسٹوپوں میں محفوظ ہوئی تھی جسے بعد میں اشوک اعظم نے اس وقت کی سلطنت کے تمام بڑے شہروں میں اسٹوپے تعمیر کروا کر ان میں یہ خاک محفوظ کردی تھی۔

یوں یہ خاک84ہزار اسٹوپوں میں رکھی گئی۔ ایسے کئی اسٹوپے سوات اور ملک کے دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔کہتے ہیں کہ سوات نے بدھ مت کا عروج دیکھا ہے۔ دورِ ماضی میں دریائے سوات کے کنارے پر سیکڑوں خانقاہیں قائم تھیں جن میں ہزاروں طلبا علم حاصل کرتے تھے۔بدھ مت سے متعلق گندھارا آرٹ نہ صرف ایک فن ہے جو گوتم بدھ کے پتھروں کو عالیشان مجسموں میں ڈھالتا نظر آتا ہے بلکہ یہ ایک عظیم تہذیب کا آئینہ دار بھی ہے۔

یہ فن پہلی تا ساتویں صدی اپنے کمال پر رہا۔ ہمالیہ پہاڑوں میں منتھل کے مقام پر چٹان کے قریب ہی ایک غار موجود ہے جہاں بدھ مت کے پیروکار اب بھی نروان کے لیے مراقبہ کرتے ہیں۔ہنزہ میںکریم آباد کے قریب دریائے ہنزہ کے کنارے ایک بڑی چٹان موجود ہے جس کی قدامت ہزاروں سال بتائی جاتی ہے۔ چٹان کے دونوں حصوں میں تصاویر اور عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ جگہ بھی اب ایک محفوظ ورثہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت سوات سے ہی چین گیا تھا۔

زیادہ تر قدیم آثار بری کوٹ، سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں۔بری کوٹ سوات میں کھدائی کے دوران گھوڑے پر سوار گوتم بدھ کا بہت بڑا مجسمہ برآمد ہوا تھا جبکہ یہاں ایک چٹان پردوشیروں کے مجسمے بنے ہوئے ہیں جو بظاہر اسٹوپا کی شباہت کے حامل ہیں۔ مینگورہ سے کچھ فاصلے پر ایک اور چٹان بھی موجود ہے جس پر گوتم بدھ کا بہت بڑا مجسمہ بنا ہوا ہے۔

سوات میوزیم کے قریب بدھ مت کا ایک بہت بڑا معبد بت کدہ موجود ہے۔ یہ معبد تقریبا دوہزار سال پرانا ہے اور اسے اشوک اعظم نے تعمیر کروایا تھا۔اس کے مرکز میں ایک بلند و بالا اسٹوپا تھا اور اس کے گرد 240چھوٹے اسٹوپے بنائے گئے تھے۔ اسٹوپا کے گنبد پر ہمیشہ سات چھتریاں بنائی جاتی ہیں جو سات آسمانوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ مردان کا ضلع تخت بائی گندھارا آرٹ یا بدھ مت کا مرکز ہے۔

یہاں ایک پہاڑی پر گندھارا طرزِ تعمیر سے آراستہ پورا ایک شہر موجود ہے جو اب عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ تخت بائی میں موجود آثار کی دریافت کے لیے کھدائی کا آغاز 1836 میں کیا گیا تھا۔ہری بہلول کے آثار بھی 1980 سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ یہ آثار ایک قلعہ بند شہر کے ہیں۔مردان شہر سے کچھ دور شہباز گڑھی میں کندہ چٹان دیکھی جاسکتی ہے۔

بدھ مت کی ہر قسم کی باقیات کے حوالے سے پشاور میوزیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ دنیا بھر میں بدھ مت اور بدھ سلطنتوں سے تعلق رکھنے والے نوادارات کا امین ہے، جن میں سیکڑوں مجسمے، سکے، اسٹوپے، برتن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ناصرف سیاحوں بلکہ تاریخ دانوں اور محققین کے لیے بھی باعثِ کشش مقام ہے۔پنجاب میں بھی بدھ مت کے بے شمار آثار دریافت ہوئے ہیں مثلا ٹیکسلا، اس کے نواحی علاقے اور رحیم یار خان کا کچھ حصہ اس حوالے سے اہم ہے۔

سندھ میں بھی بدھ مت کے آثار پائے گئے ہیں ۔ضلع دیامر کے سب ڈویژن داریل ستر ہزار نفوس پر مشتمل زرخیز علاقہ ہے تیرہوں صدی میں یہ علاقہ ریاست دردستان کا ہیڈ کوارٹر اور بدھ مت دور میں داریل مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے مرکز رہا ہے داریل میں وادی پھوگچ قراقرم ہائی وے سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں پانچ سوسے750عیسوی میں بدھ مت یونیورسٹی کے نام سے آثار بغیر پتھروں کے سرخ چکنی مٹی سے بنی دیواریں ابھی تک موجود ہیں ان حالات میں جو الزمات بھارت لگا رہے وہ بالکل بے بنیاد ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.