fbpx

انگلش ۔دوست یا دشمن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

ہم پی آئ اے کی فلائیٹ پر چھ لوگ محو سفر تھے،

یہ فلائیٹ اسلام آباد سے ابو ظہبی جا رہی تھی،

ہم 6لوگوں کاتعلق ایک ہی شہر سے تھا۔

اتفاق سے ہم ایک ہی کمپنی کے ورک ویزوں پر وہاں جا رہے تھے۔

مزید اتفاق یہ کہ ہم سب کا جاب بھی ایک ہی تھا۔

ہم سب قدرے گھبراۓ ہوۓ بھی تھے کہ نہ جانے وہاں پہنچ کر ہم کلک کر پائیں گے یا نہیں؟

ہمارے اس گروپ میں ہم سب کی فنی تعلیم تو برابر تھی۔

مگر تجربے کے لحاظ سے میں اُن سب سےپیچھے تھا۔

میرا کام کا تجربہ اُن سب سے کم تھا۔

اس لحاظ سے میری گھبراہٹ کا ان سے زیادہ ہونا فطری تھا۔

یہ چیز مجھے مسلسل پریشان کیے جا رہی تھی۔

پورے سفر میں طرح طرح کے خیالات آتے رہے،

کیونکہ ایک تو ویزہ بہت مہنگا خریدا تھا تو دوسرا فیملی کی بہت زیادہ توقعات بھی ہم سب سے وابستہ تھیں۔

شام کے وقت ہم جونہی ابوظہبی 

ائیر پورٹ پر لینڈ ہوۓ تو دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں کہ اب نجانے کیا ہو؟

نہ جانے کن حالات سے گزرنا پڑے؟

ائیر پورٹ سے لینے ہمارا ایک مشترکہ دوست آیا ہوا تھا۔

اُسکی لش پش کرتی نئی گاڑی،

ہاتھ میں گولڈ لیف کا سگریٹ اور آنکھوں میں رے بین کا چشمہ دیکھ کر ہم سب کے دلوں میں بھی حسرت جاگی کہ نہ جانے کتنے کٹھن مرحلوں کے بعد ہم بھی اسی طرح کی شان وشوکت کے حامل ہوں گے؟

مگر ابھی کہاں؟

ابھی تو عشق کے کئی امتحاں باقی تھے۔

دوست کی رہاشگاہ پررات جیسے تیسے کروٹیں بدلتے گزری۔

اگلی صبح اُٹھ کر بے دلی سے ناشتہ زہر مار کیا،

کیونکہ مستقبل کو لیکر زہنی طور پر 

بے یقینی کی سے کیفیت تھی۔

جس کے باعث کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا!

اگلی صبح کپنی کے ہیڈ آفس گئے تو انہوں نے میڈیکل وغیرہ کے لئے ایک دن بعد آنے کو کہا،

یوں کرتے کراتے چند دنوں بعد ہمیں ایک ورک سائیٹ پر جانے کا پروانہ تھما دیا گیا۔

کمپنی ڈرائیور کے ہمراہ ہم سب دوست متحدہ عرب امارات کے شہر العین جا پہنچے،

جہاں پہ ہمارا پراجیکٹ تھا۔

مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شاکر نامی شخص کے کمرے میں رکھا گیا۔

شاکر بھائ انتہائ ملنسار اور تعاون کرنے والے شخص تھے۔

اُن کے ساتھ ٹائم کافی اچھا گزرا۔

اگلی صبح ہمیں بس کے زریعے پراجیکٹ کے سائیٹ آفس پہنچایا گیا،جہاں ہماری ملاقات ہمارے فلسطینی پراجیکٹ مینیجر انجینئر فتحی سے کروائ گئی۔

انجینئر فتحی پہلی ہی ملاقات میں کافی سخت آدمی لگا۔

اُس نے ملاقات کے شروع ہی میں بتا دیا کہ ہمارا اس پراجیکٹ پر رہنا کنسلٹنٹ کمپنی کے ریذیڈینٹ انجینئر مصر سے تعلق رکھنے والے امریکن  پاسپورٹ ہولڈراللہ دین میکاوی کے انٹرویو پر انحصار کرے گا!

یہ سُنتے ہی تقریبا” ہم سب ہی کے اوسان خطا ہو گئے کہ پتہ نہیں اس انٹرویو میں کیا پوچھا جاۓ گا؟

پتہ نہیں کتنے مشکل سوالات ہوں گے؟

یہ سب باتیں ہمیں اگلی صبح تک مضطرب رکھنے کے لئے کافی تھیں۔

رات رہائشی کیمپ میں واپسی پر شاکر بھائ سے اس انٹرویو کی بابت استفسار کیا،

مگر انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ آئیڈیا نہیں کہ انٹرویو کیسا ہو گا؟

کیونکہ بقول شاکر بھائ کے۔

یہ انٹرویوز کا سلسلہ ابھی ہی شروع ہوا ہے۔

پہلے تو بغیر انٹرویو کے ہی ڈیوٹی پر لگا دیا جاتا تھا۔

یہ سُن کر اپنی قسمت پر اور زیادہ افسوس ہونے لگا کہ

یااللہ ہم سے کونسی غلطی ہوئ ہے کہ جب ہم نے آنا تھا تو انٹرویو پروگرام بھی شروع ہونا تھا۔

کاش ہم بھی اسی وقت آجاتے جب بغیر انٹرویوزکے نیا پار چڑھ جاتی تھی۔

مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا،

سواۓ انٹرویو والی پُل صراط سے گزرنے کے۔

انٹرویو سے پہلی والی اس رات ہم سب دوستوں نے ڈائریاں کھول کر کچھ نوٹس اور تھیوری و فارمولوں وغیرہ کا مطالعہ کیا مگر شومئی قسمت کہ انٹرویو کے پریشر کے باعث کچھ نیا زہن میں جانے کے بجاۓ پرانا بھی نکلتا محسوس ہوا۔

خیر کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے،

بالاخر انٹرویو کی فیصلہ کُن گھڑی آن پہنچی۔

انٹرویو کے لئے ہم سب کو باری باری اسی کنسلٹنٹ ریذیڈینٹ انجینئر اللہ دین میکاوی کے کمرے میں بھیجا گیا۔

میری باری پر جونہی میں کمرہ میں داخل ہوا تو سلام دعا کے فورا” بعد میکاوی سر نے مجھے کہا کہ 

:لگتا ہے مسٹر بخاری کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوئ؟

یہ سُن کر میرے تو جیسے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے،

مجھے لگا کہ یہ بندہ بڑا تیز ہے،

اس نے میری ہڑبڑاہٹ ہی سے اندازہ لگا لیا ہے کہ مجھ میں تجربے کی کمی ہے۔

خیر جوں توں کر کے یہ ایک گھنٹہ طویل انٹرویو اختتام پزیر ہوا۔

انٹرویو کے دوران میکاوی سر نے مجھے دس منٹ کا چاۓ پینے کے لئے وقفہ دیا تو میں نے سُکھ کا سانس لیا۔

ان غنیمت دس منٹوں میں چاۓ کا تو حلق سے اترنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،

تاہم اس وقت کو میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے اور چہرے پر تھوڑا بہت اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف کیا۔

دس منٹ کے وقفے کے بعد جب میں دوبارہ انٹرویو کے لئے کمرے میں گیا تو میری کیفیت کچھ اچھی تھی،کیونکہ انٹرویو کے پہلے مرحلے میں مجھے کچھ ان جانا سا حوصلہ ملا تھا۔

میرے بعد ہم سب چھ کے چھ دوستوں کے انٹرویو مکمل کراۓ گئے۔

انٹرویو کے خاتمے کے بعد میکاوی سر نے ہم سب کو کہا کہ اب تم چلے جاؤ اور اپنی اپنی نیند پوری کرو۔

میں کل تک انٹرویو کے رزلٹس سے آپ کے پراجیکٹ مینیجر کو آگاہ کر دوں گا۔

ہم سب شکریہ ادا کر کے ایکبار پھر کمپنی کیمپ میں واپس آگئے۔

اگلی رات ہم سب کے لئے پچھلی راتوں سے بھی بھاری تھی،

کیونکہ اگلے دن ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

اگلی صبح ہم سب کے کیرئر کے لئے بہت ہی اہم تھی۔

بس یوں سمجھیے کہ یہ رات بھی کانٹوں پر ہی گزری،

نیند تو جیسے کوسوں دور تھی۔

کروٹیں بدلتے بدلتے رات گزری اور صبح پھر ہم سائیٹ آفس جا پہنچے۔

کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں ہمارے پی ایم نے اپنے دفتر بُلایا اور انٹرویوز کے رزلٹ کے بارے میں بتاتے ہوۓ ہوۓ جو انکشاف کیا،

وہ سواۓ میرے ،

باقی سب کے لئے بہت ہی شاکنگ تھا۔

میکاوی سر نے صرف مجھے کامیاب قرار دیا تھا،

کیونکہ بقول اُن کے،

میں ان کے سوالوں کے زبانی اور تحریری جواب دینے میں کافی حد تک کامیاب رہا تھا۔

اگرچہ ان میں پچاس فیصد جواب تو غلط تھے مگر میں ان کے سوالوں کے جواب میں بے تکان بولتا رہا اور جب انہوں نے لکھنے کا کہا تو میں لکھنے میں بھی کامیاب رہا۔

بتاتا چلوں کہ ہمارے یہ انٹرویوز انگلش زبان میں تھے۔

اور میری اکیڈمک کوالیفیکیشن دوسرے دوستوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انگلش میں جواب دیتے وقت کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئ۔

جبکہ باقی دوستوں کا ہاتھ انگلش میں بہت تنگ تھا،

جیسا کہ ہم میں سے اکثر پاکستانیوں کے ساتھ یہ مشکل رہتی ہے۔

وہ  سب میکاوی سر کے زیادہ تر سوالات اس وجہ سے سمجھ ہی نہیں پاۓ کیونکہ یہ سوالات انگریزی زبان میں پوچھے گئے تھے۔

میرا فیلڈ کا تجربہ اُن سب سے کم تھا،

ٹیکنیکی طور پروہ سب مجھ سے اچھے پروفیشنل تھے۔

مگر کمزور انگلش کی وجہ سے مار کھا گئے۔

انٹرویو کی ناکامی سے میرے اُن دوستوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،

کیونکہ پہلے تین مہینے ہم سب کا پروبیشن پیریڈ چل رہا تھا،

جس میں کمپنی کے پاس ورکرز کو اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے کے باعث تادیبی کاروائ کااختیار ہوتاہے۔

میرے ان دوستوں کے پیکیج بھی تبدیل کئے گئے،

انکی تنخواہوں میں چالیس فیصد تک کمی کر کے دوسری سائیٹ پر ٹرانسفر کر دیا گیا۔وہاں بھی انکی مشکلات کم نہ ہوسکیں اور وہ لمبا عرصہ جدوجہد میں رہے۔

میں انگلش پر قدرے عبور اور اپنی خوش قسمتی سے اکیلا آدمی تھا،

جو اسی پراجیکٹ پر سروائیو کر گیا،

جس کے لئے ہمیں پاکستان سے لایا گیا تھا۔

میں تقریبا” پراجیکٹ کے اختتام تک وہیں رہا اور الحمدللہ پراجیکٹ کی  کامیاب تکمیل میں بھرپور حصہ ڈالا۔

اس زاتی تجربے اور مشاہدے کو آپ کے گوش گزارنے پر مجھے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس بیان نےمجبور کیا،جس میں انہوں نے چند روزانگلش زبان کے بارے میں کچھ ناپسندیدگی کا تاثر دیا۔

مجھے وزیر اعظم کے اس بیان سے جزوی طور پر اختلاف ہے،

ہم انگلش سے دور نہیں رہ سکتے،

ایسا کرنے سے ہم دنیا سے دور ہو جائیں گے،

انگلش بیرون ملک خصوصا” گلف میں نوکریوں کے لئے اہم ترین ٹُول ہے۔

اس پر عبور حاصل کرنا بہت اہم اور ضروری ہے،

ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم جو کہنا چاہ رہے ہوں،

ہم ان کی بات اس تناظر میں سمجھ نہ پاۓ ہوں۔

تاہم ہو سکتاہے کہ عمران خان کا مدعا یہ ہو کہ انگلش نہ آنے کی وجہ سے اپنے آپ کو احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔

یہ بات وزن رکھتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو اتنا ہی اہم سمجھیں،

جتنا گورے اپنی بات کو سمجھتے ہیں۔

مگر انگلش ایک انٹرنیشنل زبان ہے،

اسے سیکھنا ہمارے بچوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

بیرون ملک کام کرنے کے لئے یہ زبان انکی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

اسلئے انگلش کی بطور زبان ،

قدروقیمت سے انکار ممکن ہی نہیں۔

کیا پتہ آپکی فیلڈ میں ٹیکنیکل تجربے کی کمی کو انگلش زبان دور کر کے اسی طرح قسمت کا دروازہ کھول دے۔

جس طرح مجھ پر اللہ پاک نے اپنا کرم کیا#

تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

@lalbukhari