عمران خان چھوڑبھی دے میں عمران خان کونہیں چھوڑوں گا کیوں کہ وہ میری نسلوں کے لیے لڑرہا ہے:جہانگیرترین

لاہور:عمران خان چھوڑ بھی دے میں عمران خان کو نہیں چھوڑوں گا کیوں کہ وہ میری نسلوں کے لیے لڑرہا ہے:اطلاعات کے مطابق جہانگیر ترین نے وزیراعظم کیساتھ اپنی وفاداری ثابت کر دی۔ جہانگیر خان ترین کہتے ہیں کہ عمران خان مجھے چھوڑ بھی دے لیکن زندگی میں کبھی عمران خان کونہیں چھوڑوں گا

جہانگیر خان ترین اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے عمران خان سے ہزاراختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اس بات کا مجھے یقین ہے کہ عمران خان اس ملک اوراپنی قوم کوبحرانوں سے نکال کرایک زندہ تابندہ قوم دیکھنا چاہتا ہے ، وہ میری آپ کی ساری قوم کی آنے والی نسلوں کے لیے جنگ لڑرہا ہے ، اس لیے میں عمران خان کوکبھی بھی نہیں چھوڑوں گا

دوسری طرف جہانگیرخان ترین کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ انہوں نے عمران خان سے دور کرنے کی کچھ سازشیوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے ، ادھر اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں۔

جہانگیر ترین شوگر اسکینڈل کی وجہ سے حکمراں جماعت سے دور ضرور ہوئے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے وزیراعظم کیساتھ اپنی وفاداری ثابت کر دی ہے۔
اس حوالے سے سینئر صحافی حبیب اکرم کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے کئی رہنما جہانگیر ترین سے ملے اور اپنے شکوے شکایات کا اظہار کیا۔ تاہم جہانگیر ترین نے ان سب رہنماوں کو بلا امتیاز یہی مشورہ دیا کہ تحریک انصاف کی تمام تر جدوجہد ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے خلاف رہی ہے، لہذا ان دو پارٹیوں سے کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔

حبیب اکرم کا مزید بتانا ہے کہ ان کی حال ہی میں جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات کے دوران ان سے سوال کیا کہ آیا وہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے کوئی کردار ادا کریں گے یا نہیں، اس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں پاکستان تحریک انصاف کیخلاف کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے لگے کہ میں تحریک انصاف کی توڑ پھوڑ میں شامل ہوں۔

چونکہ تحریک انصاف نے 22 سال تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیخلاف جدوجہد کی، لہذا اگر کوئی ایسی جماعت ہے جہاں ہماری جگہ بنتی ہے، تو وہ تحریک انصاف ہی ہے۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی غیر حاضری تحریک انصاف کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا باعث تو بن سکتی ہے، لیکن ترین صاحب خود سے پارٹی کا کوئی الگ دھڑا بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.