fbpx

بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر خاموش نہ رہ سکیں:انتہا پسند ہندووں کےرویوں کی مذمت

ممبئی : بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر خاموش نہ رہ سکیں،اطلاعات ہیں کہ حجاب کی آڑ میں مسلمان طالبات کی حمایت میں بھارتی معروف اداکارائیں بھی میدان میں آگئی ہیں ، بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی بھارتی مسلم طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے جہاں شیرنی قرار دیا وہیں طالبہ کے حق میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی آواز بلند کررہی ہیں۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر بھارتی اداکارائیں بھی خاموش نہ رہ سکیں۔اس حوالے سے بھارت کی معروف اور چوٹی کی اداکارہ پوجا بھٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمیشہ کی طرح مردوں کے ایک گروپ نے عورت کو ڈرانے کی کوشش کی۔

 

پوجا بھٹ نے اس واقعے کو انسانیت کے لیے خوفزدہ قرار دیا اور کہا کہ شالوں کو ہتھیار بنانا اپنی کمزوری کو ظلم کے ذریعے چھپانے کے مترادف ہے۔

 

ایسے ہی بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی اس واقعے کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیا۔

 

واضح رہےکہ کرناٹک میں کالج آنے والی باحجاب مسلم طالبہ مسکان کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا، انتہا پسندوں نے طالبہ کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے جس کا جواب طالبہ نے ’اللہ اکبر‘ کے نعروں سے دیا۔

 

 

اس سے پہلے آج اور کل مسکان کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے شیرنی قرار دے دیا۔

بھارتی ریاست کرناٹک میں زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد مسلمان طالبہ مسکان ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہی ہیں۔

مسکان نامی بھارتی طالبہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ مسکان اور ہیش ٹیگ اللہ اکبر سے ٹرینڈ کررہی ہیں جس میں مختلف ٹوئٹس کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین مسکان کے حق میں اور مسلم مخالف واقعات پر آواز بلند کررہے ہیں۔

جہاں مسکان کو سوشل میڈیا صارفین شاندار خراج تحسین پیش کررہے ہیں وہیں پاکستان کی سیاسی شخصیات اور وزرا نے بھی ان کی دلیری کو سراہا۔

 

وزیر مملکت زرتاج گل نے بھی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہی وہ صورتحال ہے جس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے مغرب کو خبردار کیا تھا۔زرتاج گل نے اپنی ٹوئٹ میں بھارت کو اقلیتوں اور خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ملک بھی قرار دیا۔

 

علی حسن نامی صارف نے مسکان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 100 کے مقابلے میں ایک شیرنی، آپ کسی ہیرو سے بڑھ کر ہو۔

 

ایک صارف نے مسکان اور باحجاب خواتین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے لکھا کہ حجاب صرف ہماری مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ ہمارا وقار ہے ، یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے ۔

 

حلیمہ نامی صارف نے مسکان سمیت فلسطین سے باہمت خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری خواتین ہی تمہارے لیے کافی ہیں۔

 

ایک صارف نے مسکان کی تصویر شیئر کی اور ٹوئٹ کی کہ وہ آئی ، دیکھا اور فتح کرلیا ۔

 

وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں مسکان کی بہادری کو سراہتے ہوئے سلام پیش کیا۔

 

 

بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار علی گونی جو بگ باس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی مسلم طالبہ کی انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف اداکارہ سوارہ بھاسکر نے بھی طالبہ کی ویڈیو کو ٹوئٹ کراتے ہوئے بھارت کی صارتحال کو شرمناک قرار دیا۔