ایوان صدر میں تقریب کے دوران خاتون سے بدتمیزی

خواتین آزاد جموں و کشمیر کی سابق چیئرپرسن کمیشن ،اقلیتی حقوق یوتھ فورم برائے کشمیر اور پیپلز کمیشن اور بانی عام تعلیم ماریہ اقبال ترانہ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے نامور دفاتر میں شاہانہ منصب پر کام کرنے والے مرد عورت سے شائستگی کے ساتھ بات کرنا نہیں جانتے ہیں تو پھر کون جانتا ہے؟

باغی ٹی وی : گذشتہ روزسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ماریہ اقبال ترانہ نے اپنی ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ایوان صدر میں تقریب میں وہاں کے آفاق احمد نامی پروٹوکول آفیسر نے ان کے ساتھ بہت زیادہ مس بی ہیو کیا ہے-


انہوں نے کہا مجھے ایوان صدر میں تقریب میں مدعو کیا گیا تھا جہاں فنانشل ایکسپو چل رہا تھا اور وہاں تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر ، فنانس منسٹر شیخ حفیظ اور صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی موجود تھے تقریب شروع ہونے سے پہلے ہم سب ہال میں بیٹھے تھے اور ہال میں خاموشی تھی اچانک سے مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی پیچھے سے آ کے کان کے پاس سرگوشی کرنے لگا اور کچھ پوچھنے لگا ہے-

ماریہ اقبال ترانہ نے کہا کہ پہلی بات کہ یہ فیلنگ ہی بہت غیر آرام دہ تھی کہ اچانک سے کون ہے جو اتنے قریب آکر بات کرنے کی کوشش کررہا ہے تو مجھے اس کی کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی بس اتنی سمجھ آئی کہ اس نے کہا پلیز آپ تھوڑا سا فاصلہ رکھیں اس نے کچھ پوچھا تو پھر اس میں مجھے یہی بات سمجھ آئی کی اس نے کہا کہ آپ کی آرگنائزیشن کیا ہے میں نے کہا کہ اپ لسٹ میں چیک کر لیں اور ساتھ ہی میں نے بتا بھی دیا کہ میں کہاں سے تعلق رکھتی ہوں-

ماریہ کے مطابق ساتھ ہی میں نے انہیں 2 3 مرتبہ کہا کہ ٹھیک ہے آپ اپنی انکوائری بند کیجئے اور پیچھے ہٹ جایئے جب تقریب ختم ہو گئی تو میں جب اپنے دو تین ساتھیوں کے ساتھ نکلنے لگی تو وہ آدمی مجھے دکھائی دیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ مجھے کیا کہنے کی کوشش کر رہے تھے اس پر اس آدمی نے بجائے اس کے کہ کوئی اور بات کرتا فوراً سے یہ کہتا چلا گیا کہ یہاں پر آپ کو کوئی نہیں جانتا تھا آپ یہاں پر جھوٹ بول کر داخل ہوئیں اور ایون صدر میں بیٹھ گئیں اور ساتھ میں یہ کہا کہ یہان پر بیت ساری کُرسیاں خالی تھیں اس لئے آپ کو کچھ نہیں کہا –

ماریہ اقبال ترانہ کے مطابق میں نے کہا کہ میں 4 پروٹوکول سے گزر کر یہاں پر آئی ہوں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مجھے یہاں پر کوئی جانتا نہ ہو اور میں ایوان صدر پر بیٹھ جاؤں آپ یہ کیسی بات کر رہے ہیں تو اچانک سے کہنے لگا کہ آپ جھوٹی ہیں اور یہاں پر کُرسیاں خالی تھیں تو آپ کو یہاں بیٹھنے دیا –

ترانہ کے مطابق میں اس کی یہ بات سننے کے بعد جیسے ٹراما میں چلی گئی تو میں نے وہیں پر لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ پلیز مجھے بتائیں یہ کون شخص ہے اور میں کہاں پر کمپلین کراؤں میرے ساتھ بہت بُرے لہجے میں بات کررہا ہے تو اس شخص نے آگے ہو کر اپنا تعارف کرایا کہ کہ میں پروٹوکول آفیسر ہوں اور میرا نام آفاق احمد ہے اور آپ یہاں سے نکل جائیں-

ماریہ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ تو یہ جو ایک تکلیف دہ واقعہ ہے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کا دوسرا بڑا آفس ہے اس کے مردوں کو پتہ نہیں کہ عورت کے سارتھ برتاؤ کیسے کرنا ہے تو کسے پتہ ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.