پاکستانی فنکار جن کا ماننا ہے کہ ایوارڈز قابلیت پر نہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے جاتے ہیں

دنیا بھر کی شوبز انڈسٹریز میں بہترین کام کرنے پرفنکاروں کی خدمات کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنےکے لیے انہیں ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے جس کے لئے ہر سال ایوارڈز شوز منعقد کیے جاتے ہیں لیکن کیا واقعی ایوارڈز فنکاروں کو منصفانہ طریقے سے دئیے جاتے ہیں۔

باغی ٹی وی :دنیا بھر میں کئی بڑے فنکار ایوارڈز شوز کے معیار پر نہ صرف سوال اٹھاتے ہیں ایوارڈز قابلیت پر نہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کئی بڑے اداکار ایوارڈ شوز کی تقریب میں بھی شرکت نہیں کرتے پاکستان میں بھی کئی فنکار ایوارڈ شوز کی تقریب کو ایک شوپیس سمجھتے ہیں جن میں اداکار صبا قمر ،فائزہ حسن،بدر خلیل و دیگر شامل ہیں-

اداکارہ و ماڈل صبا قمر ایوارڈز اور ایوارڈ شوز کے خلاف ہیں۔ 2017 میں جب صبا قمر کو لکس اسٹائل ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا تو انہوں نے یہ نامزدگی قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا اگرچہ میں تین مختلف ڈراموں کے لیے نامزد ہوئی ہوں لیکن میں احتجاج کے طور پر ایوارڈ کی تقریب میں شرکت نہیں کروں گی۔

صبا قمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ان لوگوں نے مجھے کبھی عزت دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اور اب جب مجھ پر بالی وڈ کا اسٹیمپ لگ گیا ہے تو سب نے اچانک مجھے تسلیم کرنا شروع کردیا ہے۔ میں پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں سال 2004 سے کام کررہی ہوں لیکن کسی ایوارڈ شو یا برانڈ نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا لیکن اب جب کہ میں بھارت سے واپس آگئی ہوں تو ہر برانڈ اور ہر ایوارڈ شو میرے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

صبا قمر نے اپنے طور پر ایوارڈ شوز میں ہونے والی نامزدگیوں پر بھی سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس سسٹم سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔

اداکارہ فائزہ حسن بھی ایوارڈ شوز کے خلاف ہیں انہوں نے احسن خان کے شو میں ایوارڈز کی تقریبات میں نہ جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا وہ ایک ایوارڈ شو میں مدعو تھیں جہاں وہ نامزد بھی تھیں لیکن جب وہ ایوارڈ کی تقریب میں گئیں تو کسی نے بھی انہیں نہیں پہچانا اور بہت مشکل کے بعد جب انہوں نے اپنی سیٹ ڈھونڈی تو اس پر کوئی اور بیٹھا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایوارڈ شوز کی انتظامیہ بہت بدتمیز تھی جس کی وجہ سے انہیں بہت برا تجربہ ہوا اور اسی لیے وہ ایوارڈ شو میں نہیں جاتیں۔

اسی شو میں اداکار شمعون عباسی بھی موجود تھے انہوں نے بھی ایوارڈ شوز کے دوران ہونے والا برا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک تو وہ ان ایوارڈ شوز کے برے انتظامات سے ناخوش ہیں دوسرا انہیں وہاں موجود لوگوں کے رویوں سے پریشانی ہوتی ہے اسی لیے وہ ایورڈز کی تقریبات میں نہیں جاتے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کوکسی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جاتا ہے تو یہ آپ کے لیے خاص رات ہوتی ہے لیکن ایوارڈ تقریب میں موجود ہر شخص آپ کے لیے خوش نہیں ہوتا ۔

شمعون کو لگتا ہے کہ نامزد ہونے والے اداکار کے ساتھی اداکار اُن سے حسد کرنے لگتے ہیں اور آپ کے آس پاس کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ ایوارڈ شو کبھی بھی مناسب طریقے سے منعقد نہیں ہوتا ہے جو واقعی مایوس کن بھی ہوسکتا ہے۔

اداکار محسن عباس حیدر بھی ان فنکاروں میں شامل ہیں جو ایوارڈ شوز پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے ایوارڈ شوز پر اس وقت عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا جب ان کے ڈرامے ’’میری گڑیا‘‘ کو لکس اسٹائل ایوارڈ میں کوئی بھی نامزدگی نہیں ملی تھی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا میرے گانے ’نا جا‘کو نامزد کرنے کے لیے شکریہ۔ لیکن میں ڈرامے ’میری گڑیا‘کو ایک بھی نامزدگی نہ ملنے سے سخت مایوس ہوا ہوں۔ جس کی وجہ سے ڈرامے کی پوری ٹیم کو بہت برا لگا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ سیریل ’میری گڑیا‘ کو نامزد نہ کیے جانے کی وجہ سے میرا یقین اور بھی پختہ ہوگیا ہے کہ صرف پیسے کماؤ اور گھر چلاؤ شکریہ۔

یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ جب سینئر اداکارہ بدر خلیل کو اپنی سیٹ سے اُٹھنے اور کہیں اور بیٹھنے کو کہا گیا تھا تواُن پر کیا گزری تھی۔ ایسا ایک نجی چینل کی تقریب کے دوران ہوا تھا جب سلطانہ صدیقی نے بدر خلیل کواپنی سیٹ سے اُٹھنے اور اُن کی جگہ فواد خان کو بیٹھنے کے لیے کہاتھا۔

یہ واقعہ ایک بڑے تنازعہ میں بدل گیا تھا اور عوام نے بدر خلیل کی حمایت کی۔اس کے بعد بدر خلیل نے کبھی بھی ایوارڈ شوز میں شرکت نہ کرنے اور اداکاری چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایوارڈز کا کوئی مطلب نہیں اگر آپ اُس شخص کو عزت نہیں دے سکتے جسے آپ ایوارڈ دے رہے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اور ورسٹائل اداکار نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایوارڈز قابلیت پر دئیے جاتے ہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے جاتے ہیں اور صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہی رواج قائم ہے۔

ثمینہ پیرزادہ کے آن لائن شو میں انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے ورسٹائل اور باصلاحیت اداکار نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی ایوارڈز کے لیے کام نہیں کیا کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ ایوارڈز قابلیت پر دئیے جاتے ہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے جاتے ہیں اور صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہی رواج قائم ہے۔

55 سالہ اداکار نعمان اعجاز نے مزید کہا ان ایوارڈز کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جس نے محنت کی اور اسے ایوارڈ نہیں دیا گیا تو اس کے اندر نفرت بھر جاتی ہے۔ نعمان اعجاز نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کون لوگ ہیں جو اس بات کا تعین کررہے ہیں کہ اس نے اچھا کام کیا ؟ یا کتنے ججز ہیں جو بیٹھ کے پوری پوری پرفارمنسز دیکھتے ہیں؟ بدقسمتی سے ان ایوارڈز کے معیار کی جانچ کرنے کا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے

انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا بس یہی دیکھ کر ایوارڈ دے دیاجاتا ہے چلو یہ اداکار سینئر ہے اسے ایوارڈ دے دیتے ہیں چاہے اس نے کتنا ہی برا کام کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایوارڈز شوز میں بھی نہیں جاتا۔ لیکن کبھی کبھی آپ کو مجبوری میں جانا پڑتا ہے کیونکہ آپ جس ادارے یا چینل کے لیے کام کرتے ہیں وہ آپ کو زبردستی چلنے پر مجبور کرتے ہیں تو میں نے جب بھی ایوارڈ شوز میں شرکت کی ہے بلیک میل ہوکر کی ہے۔

نعمان اعجاز نے کہا ایک فنکار کے لئے اس کا سب سے بڑا ایوارڈ یہ ہوتا ہے کہ سڑک پر آپ کو کوئی عزت دے دے آپ کو دیکھ کر ہنس پڑے آپ کی تعریف کرے یا پھر آپ کے لیے اچھی بات کہہ دے۔ ایک فنکار کے لیے یہی ایوارڈ ہے باقی تو کچھ بھی نہیں۔

ایوارڈز شوز میں صداقت نہیں ہوتی جب بھی ایورڈز شو میں شرکت کی بلیک میل ہو کر کی نعمان اعجاز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.