fbpx

عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے

غالب عرفان

21؍جنوری 2021 یوم وفات

نام #محمدغالبشریف اور تخلص #عرفانؔ تھا۔
05؍مارچ 1938ء کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔تعلیم و تربیت صوبہ بہار کے شہر جمشیدپور میں ہوئی۔ وہیں سے بے اے پاس کیا۔ اردو ان کی مادری زبان ہے۔ انگریزی پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ ہندی بھی جانتے تھے۔ 1946ء میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے وہ جمشیدپور سے سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے شہر چاٹگام ہجرت کر گئے۔ بنگال میں قیام کے دوران انھوں نے بنگالی بھی سیکھی۔ ابھی ان کے قدم چاٹگام میں اچھی طرح جمنے بھی نہ پائے تھے کہ مشرقی پاکستان آگ اور خون کی لپیٹ میں آگیا۔ چنانچہ جنوری 1974ء میں اپنے بچوں سمیت کراچی چلے گئے۔ ان کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے ادبی اور نیم ادبی جریدوں کے علاوہ اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا ہے۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ”آگہی سزا ہوئی“، ”روشنی جلتی ہوئی،“ ”م” (نعتیہ کلام)
غالب عرفانؔ 21؍جنوری 2021ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:329

عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا
حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر
اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے

مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں
خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے

خواب کو حقیقت کا روپ کوئی کیا دیتا
منعکس تصور کا انعکاس ہم ہی تھے

🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں
دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئنے میں

کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں
کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئنے میں

ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں
ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئنے میں

تہذیب کا تسلط ہے آئنے سے باہر
تاریخ کے سفر کا وجدان آئنے میں

رنگوں کی بارشوں سے دھندلا گیا ہے منظر
آیا ہوا ہے کوئی طوفان آئنے میں

زندہ حقیقتوں کی ہوتی ہے پردہ پوشی
پلتی ہے جب رعونت نادان آئنے میں

ہو روشنی کہ ظلمت صحرا ہو یا سمندر
ہوتا ہے زندگی کا عرفانؔ آئنے میں