fbpx

ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں نئی رگوں کی افزائش ممکن

جارجیا:ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے ذیابیطس کی کیفیت میں خون کی نئی رگیں پیدا ہوسکتی ہیں یا پھر ان کا افزائشی عمل تیز تر ہوسکتا ہے۔

باغی ٹی وی : ذیابیطس کا ہولناک مرض بالخصوص خون کی باریک رگوں کو شدید متاثر کرتا ہے اسی وجہ سے زخم مندمل نہیں ہوتے اور بینائی متاثر ہوتی ہے اب پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ ورزش سے خون کی نئی نسیجوں کی تشکیل میں بھی مدد مل سکتی ہے یعنی ورزش ذیابیطس کے منفی اثرات کو ٹھیک کرسکتی ہے۔

آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

اس سے قبل ذیابیطس میں ورزش کے فوائد سامنے آتے رہے ہیں اب جارجیا میڈیکل کالج کے سائنسدانوں نے ورزش اور نئی رگوں کی افزائش یا اینجیو جنیسس کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے اس پورے عمل میں ایکسوسومز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایکسوسومز چھوٹے اور باریک پیکٹ جیسے ہوتے ہی جو حیاتیاتی اجزا کو ایک سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں ان میں دو طرح کے ایکسوسومز کو دیکھا گیا اول اینٹی آکسیڈنٹس ایس او تھری جو ری ایکٹو آکسیجن کی مقدار کو معمول پر رکھتے ہیں اور پروٹین سگنلنگ میں نمایاں ہوتے ہیں دوم ایک خاص پروٹین ہے جس کا نام اے ٹی پی سیون اے ہےاور تانبےکے ایٹم خلیات تک پہچاتےہیں ذیابیطس ان دونوں ایکسوسومز کو شدید متاثر کرتی ہے۔

ماہرین نے ورزش اور دونوں ایکسوسومز پر غور شروع کیا تو معلوم ہوا کہ شوگر کا مرض اینڈوتھیلیئل خلیات کے پورے نظام کو درہم برہم کرتا ہے یہ خلیات خون کی نالیوں کی تشکیل کرتے ہیں اور نئی رگوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس ضمن میں ذیابیطس کےشکارچوہوں کو دو ہفتے تک گھومنے والے پہیئے پر دوڑایا گیا جبکہ درمیانی عمر کے تندرست افراد کو درمیانی شدت کی کارڈیو ورزش 45 منٹ تک کرائی گئی اس دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ ورزش کے بعد اینڈوتھیلیئل خلیات پر اے ٹی پی سیون اے کی زیادہ مقدار پہنچنا شروع ہوگئی اور ایس او ڈی تھری کی بھی وسیع مقدار دیکھی گئی ہےاس کے علاوہ رگوں کے اندرونی استر بننے میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں بھی خون کی نئی رگیں بن سکتی ہیں جو بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

ایک طرف تو ورزش کرنے سے ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی مقدار معمول پر رہتی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار خود مریضوں کی ورزش کرنے کی صلاحیت متاثر کرتی ہے اگرکوئی قبل از ذیابیطس، ٹائپ ون یا ٹائپ ٹو ذیابیطس متاثر ہو تو باقاعدہ ورزش رگوں اور نسیجوں کی تباہی، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہے اب معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس کی شدید کیفیت خود ورزش کو بھی مشکل بنادیتی ہے اور یوں اس کے مکمل فوائد نہیں مل پاتےاس کی وجہ یہ ہےکہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار کی وجہ سے مریض آکسیجن کو مکمل طور پر جلا نہیں باتے اور خود بدن ورزش کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔

یہ تحقیق اسرائیل میں واقع جوزلنِ ذیابیطس سینٹر نے کی ہے انہوں نے غور شروع کیا کہ کس طرح خون میں شکر کی بڑھی ہوئی مقدار ورزش میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور اسے کم کرکے کیسے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں ڈائبیٹس نامی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کےمطابق اگر ورزش کرنے والے افراد پہلے خون میں شکر گھٹانے والی دوا کھائیں تو ورزش کے زیادہ فوائد حاصل ہوسکتےہیں کیونکہ بدن کا استحالہ (میٹابولزم) نظام قدرے بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔

تحقیق سے وابستہ سائنسداں ڈاکٹر سارہ جے لیسرڈ کہتی ہیں کہ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر کیوں ذبابیطس کے بعض مریض کوشش کے باوجود بھی ورزش نہیں کرپاتے اور اس کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھ کر ذیابیطس قابو کرنے کی بہترحکمتِ عملی وضع کی جاسکتی ہے۔

ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

اس کے لیے چوہوں کے ماڈل کو آزمایا گیا اور انہیں کیناگلیفلوزن نامی دوا کھلائی گئی جو خون میں شکر کی مقدار کم کرتی ہے۔ یہ چوہے ہائی بلڈ شوگر کے مریض تھے اور انہیں چھ ماہ تک ورزش کے عمل سے گزارا گیا۔ دوسرے گروپ کے چوہے بھی ذیابیطس کے مریض ہی تھے لیکن انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی تھی اب جن چوہوں کو گلوکوز کم کرنے والی دوا دی گئی انہوں نے ورزش میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

پھر ماہرین نے چوہوں کی بافتوں اور ہڈیوں کا معائنہ کیا اور کم ورزش کرنے کی صلاحیت کا جسمانی جواب تلاش کرنے کی کوشش کی معلوم ہوا کہ بلند شوگر کا مسلسل عارضہ ہمارے پٹھوں کو متاثر کرکے ورزش کی صلاحیت کو ماند کرسکتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی طرح خون میں شکر کی مقدار معمول پر رکھ کر دوبارہ ورزش کی بہتر صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے۔

اگلے مرحلے پر اسی ضمن میں مزید تحقیق کی جائے گی۔

دوسری جانب جنوبی ایشیا کے دو ممالک کے سروے سے ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ کی دکانیں ہیں تو وہاں سے بار بار کھانا منگواکر کھانے کا جی کرتا ہے اور اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

امپیریئل کالج لندن کی پروفیسر میلیسا اور ان کے ساتھیوں کا اصرار ہے کہ ہماری رہائش اور اطراف کے ماحول کا ہماری غذائیت پر اثر پڑسکتا ہے اگرچہ اس پر ترقی یافتہ ممالک میں بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن اب جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک میں اس پر ایک سروے کیا گیا ہے جس کے دلچسپ نتائج سامنے آیا ہے۔

حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے…

اس کا مقصد گھر کے پاس غیرصحت بخش کھانوں کی دکانوں اور اطراف کے گھروں پر اس کے اثرات نوٹ کئے گئے ہیں اس کے لیے سال 2018 سے 2020 کے دوران بنگلہ دیش اور سری لنکا کے 12167 افراد سے ڈیٹا اور معلومات لی گئی ہیں۔

سب سے پہلے شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے افراد سے ذیابیطس کی کیفیت اور گلوکوز کی معلومات لی گئیں۔ اس کے بعد ان کے گھر کی اطراف کھانے کی دکانوں بالخصوص فاسٹ فوڈ ریستورانوں کا ایک نقشہ بنایا گیا۔ بالخصوص گھر سے 300 میٹر دور یعنی پیدل مسافت پر مرغن فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو بطورِ خاص امل کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوکانوں پر ملنے والے کھانوں کو صحت بخش اور مضرِ صحت کھانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

معلوم ہوا کہ فاسٹ فوڈ کے قریب رہنے والے افراد وقت بے وقت معمولی بھوک پر بھی باہر نکل کر کھانا لے آتے ہیں اور اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ اس لحاظ سے فاسٹ فوڈ دکانوں کی آسان دسترس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اگر گھر کی قربت میں ایک فاسٹ فوڈ دکان ہوتو اوسطاً خون میں شکر کی مقدار 2.14 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب خواتین اور بلند آمدنی والے لوگوں میں اس کا رحجان زیادہ دیکھا گیا جو اشتہا کے ہاتھوں فاسٹ فوڈ سے ہاتھ نہیں روک سکتے ایسے لوگوں میں شوگر کا رحجان زیادہ دیکھا گیا تھاتاہم اس رپورٹ میں کچھ کمی رہ گئی ہے کیونکہ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خون میں شکر کی تازہ مقدار اور ریڈنگ سے بھی آگاہ کریں اور کسی وجہ سے یہ ڈیٹا تسلسل سے خالی دکھائی دیتا ہے۔

اپنے نتائج میں ماہرین نے بتایا کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کی دکانیں ہیں تو اپنا خیال رکھنا ہوگا اور اس چکر میں آنے سے خود کو بچانا ہوگا-

ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق