fbpx

مقبوضہ کشمیر کی جیل میں‌ قید پاکستانی کا ماورائے عدالت قتل،قابل مذمت ہے:پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی جیل میں قید پاکستانی کی ماورائے عدالت پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حراست میں قید پاکستانی شہری ضیا مصطفیٰ کے ماورائے عدالت قتل پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں پاکستانی قیدی کے قتل پر بھارت سےوضاحت طلب کی اور ہلاکت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامورکو بتایا گیا کہ ضیامصطفیٰ2003سے مقبوضہ کشمیر کی جیل میں قیدتھا، جس کی ایک روز قبل ماورائے عدالت ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارتی ناظم الامور سے بھارت میں قید پاکستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان نے بھارت پر واضح کیا کہ ماورائے عدالت قتل کا معاملہ پہلی بار نہیں بلکہ اس سے پہلے متعدد بار پیش آچکا ہے، ماضی میں بھی پاکستانی قیدیوں کو جیلوں میں قتل کیا گیا۔

پاکستان نے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے فوری تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا

 

خیال رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کھانے کے بعد بھارتی پنجاب کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ہاسٹل کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

بعدازاں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا جشن منانے والے میڈیکل کالجز کے دو طلبہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات دائر کردیے گئے۔

طلبہ سری نگر میں گورنمنٹ میڈیکل کالج اور شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنسز میں زیر تعلیم ہیں۔

بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر رویندر رینا نے کہا تھا کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے ’دشمن ملک‘ پاکستان کے لیے خوشی کا اظہار کیا وہ جلد ہی جیل میں ہوں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو 24 اکتوبر کو ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر 12 راؤنڈ کے میچ میں 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔