ہمارے دل فرانسیسی صدراورعوام کے ساتھ ہیں:’’انتہاپسنداسلامی دہشت گردی کےحملے‘‘ فوری طورپرروکےجائیں: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن :ہمارے دل فرانسیسی صدراورعوام کے ساتھ ہیں:’’انتہاپسنداسلامی دہشت گردی کےحملے‘‘ فوری طورپرروکےجائیں::اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے شہر نیس میں ایک چرچ میں چاقو حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے واقعہ کی مذمت کی اور اس کو ’’ریڈیکل اسلامی دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ہمارے دل فرانسیسی عوام کےساتھ ہیں۔امریکا اس جنگ میں اپنے دیرینہ اتحادی کے ساتھ کھڑا ہے۔ان ریڈیکل اسلامی دہشت گردوں کے حملوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔فرانس یا کوئی بھی اور ملک اس کو گوارا نہیں کرسکتا۔‘‘

 

 

قبل ازیں فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک نیس میں ایک چرچ میں چاقو حملے کے بعد اپنی اقدار سے دستبردار نہیں ہوگا۔انھوں نے بھی واقعہ کو ’’اسلامی دہشت گردی کاشاخسانہ‘‘ قرار دیا ہے۔

صدر ماکروں نے چرچ میں چاقو حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں کیتھولک مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے اور تمام مذاہب کے پیروکاروں سے کہا ہے کہ ’’وہ متحد رہیں اور تقسیم کا شکار نہ ہوں۔‘‘

نیس میں چاقو سے مسلح ایک شخص نے تاریخی نوترے ڈیم چرچ میں تین افراد کو ہلاک کیا ہے۔اس نے ان میں ایک عورت کا سرقلم کیا ہے اور دو افراد کو چاقو کے پے درپے وار کرکے موت کی نیند سلا دیا ہے۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

نیس کی میئرکرسٹیئن اریسٹروسی نے سب سے پہلے اس واقعہ کو دہشت گردی قراردیا تھا اور کہا کہ حملہ آور ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔ پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس اہلکاروں نے اس کو پکڑنے کے لیے گولی مار دی تھی لیکن اس کی جان بچ گئی ہے ،وہ زخمی ہوا ہے اور اس وقت ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔فرانسیسی تفتیش کاروں کے مطابق نیس میں چاقو سے حملہ کرنے والے مشتبہ ملزم کی عمر21 سال اور تُونس کا تارک وطن ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.