fbpx

عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر: واجد علی

شائد ہی کوئی لڑکی ہو جس کو گلی، محلے، بازار یا سکول کالج جاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ یا کم از کم کھا جانے والی اوباش نظروں کا سامنا نا کرنا پڑا ہو اور اگر زرا خود کو اس 10 بارہ سال کی لڑکی کا سوچیں اس کے معصوم ذہن میں کتنا ڈر بیٹھ جاتا ہے کتنا سہم جاتی ہو گی اور اسکو تنگ کرنے والا بھی تو انسان ہے اسکے گھر پر بھی تو ماں بہنیں ہوں گی

لیکن یہ احساس لوگوں میں نہیں پایا جاتا افسوس کے ساتھ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بنیادی طور پر تربیت ہی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ انہیں اس معاملے میں تمیز نہیں سیکھائی جاتی بازاروں گلیوں اور سڑکوں پر جانے والی خواتین کو ایسے نازیبا الفاظ سننے کو ملتے ہیں جس سے وہ ذہنی طور پر خوف کا شکار ہوجاتی ہیں

اور اجکل تو سوشل میڈیا پر بھی خواتین کو شکار بنانے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے خواتین کو گلیوں اور بازاروں، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ غرض ہرجگہ ہراساں کیے جانے کا سامنا بڑھتا ہی چلا جارہا ہے یہ عمل پاکستان میں کئی سالوں سے جاری ہے عورتوں کے تحفظ کی کئی تنظمیں بن چکی مگر وہ بھی اس میں کمی نا لا سکے

بلکہ ہمارے معاشرے میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہراساں کرنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر جس طرح ہر ایک آدمی اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اہم سمجھتا ہے اسی طرح دوسری خواتین کے احترام کو بھی لازمی سمجھے ۔۔

کچھ خواتین خوف کا شکار ذیادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے شکایات نہیں کر پاتی اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کے خلاف شکایت کرے تو اسے بدکردار سمجھا جاتا ہے افسوس ۔۔۔

آج کل ہمارے معاشرے میں بچوں اور عورتوں سے ذیادتی بہت عام ہو چکی ھے ہر ایک روز ایک نا ایک بچی یا عورت ذیادتی کا نشانہ بنتی ھے اور دو تین دن نیوز چینل پر بریکنگ چلتی ھے اس کے بعد نیوز چینل بھی خاموش ہو جاتی ھے کیا ہم نے پھر کبھی اس مظلوم عورت یا وہ بچی جو زیادتی کا شکار ہوٸی ہم نے کبھی اس سے پوچھا ھے؟ کیا ہم نے اسے انصاف دیا ھے گزشتہ کٸی ماہ پہلے قومی اسمبلی سے یہ قانون پاس ہوا کہ ذیاتی کرنے والے ملزم کو نامرد بناٸنگے کیا اس قانون پر عمل ہوا ھے؟ ذیادتی کرنا زنا کے زمرے میں آتا ھے اور اسلام مزہب میں زنا گناہ کبیرہ ھے بلکہ حرام ھے اس کا سزا یہ ھے کہ اسے سنگسار کیا جاۓ لیکن افسوس پاکستان میں اب تک کوٸی ایسی قانون نافز نہیں ہوا جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دی جاۓ یہاں امیر کےلٸے الگ قانون اور غریب کےلٸے الگ قانون چلتا ھے اگر مظلوم امیر گھرانے کا ہو تو عدالت اس کے حق میں فیصلہ کرتا ھے اور اگر غریب ہو تو تاریخ پہ تاریخ
کیا غریب صرف عدالتوں کے چکر کاٹینگے یا انصاف بھی ملے گا

لیکن یہ ختم کیسے ہوگا ؟؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس کو ختم کرنے کی شروعات ہم کرینگے؟؟ کیا کبھی آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت انہیں ہر اچھے برے عمل کی تمیز سیکھائے گے تاکہ معاشرے سے ان سب کی روک تھام کی جا سکے ۔۔۔

تحریر : واجد علی
@Munna_Wajji (twitter)