fbpx

فافن کی ترمیمی بل میں خامیوں کی نشاندہی:انتخابی اصلاحات پر سیاسی اتفاق رائے کا مطالبہ

اسلام آباد:فافن کی ترمیمی بل میں خامیوں کی نشاندہی:انتخابی اصلاحات پر سیاسی اتفاق رائے کا مطالبہ،اطلاعات کے مطابق فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی طرف کہا گیا ہے کہ وسیع سطح پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیے بغیر الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترمیم کرنے کی کوئی مساعی آمدہ انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتی ہے، علاوہ ازیں اس پہلو کا امکان بھی ہے کہ جمہوری عمل کے استحکام کا عمل پٹڑی سے اتر جائے۔ انتخابی ترامیم پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پیدا شدہ حالیہ تنازعہ پر فافن نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوری روایات کے مطابق حکومت آئینی ترامیم اور انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے کو یقینی بناتی ہے۔ سیاسی گروہ بندی کے باوجود سیاسی جماعتوں نے تین سال کی بھر پور مشاورت کے بعد 2017 میں انتخابی اصلاحات پر کثیر جماعتی پارلیمانی کمیٹی کے زیر سایہ اتفاق رائے پیدا کر لیا تھا۔

حکومت کو ان روایات کو زندہ رکھتے ہوئے اہم انتخابی ترامیم پر آگے بڑھنا چاہیے۔ اگرچہ الیکشن( ترمیمی )بل 2020، انتخابی حلقہ بندیوں ،ووٹرز کی رجسٹریشن ، مخصوص نشستوں پر خواتین امیدواروں کی ترجیحی فہرست جمع کرانے کے طریقہ کار اور سیاسی جماعتوں کے قواعد و ضوابط میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز دیتا ہے لیکن عوامی حلقوں میں ساری بحث الیکشن (دوسرا ترمیمی ) بل2021 کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو متعارف کروانے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو ووٹنگ کے عمل پر ہے۔

فافن کا کہنا تھا کہ دونوں ترمیمی قوانین میں تجویز کی گئی تبدیلیاں انتخابی عمل پر دوررس نتائج مرتب کرنے کی اہل ہیں اور اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ اِن پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں گہرائی سے بحث کریں ، چاہے ان کی موجودہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی ہو یا نہ ہو تاکہ ایک وسیع البنیاد اتفاقِ رائے پیدا ہو سکے۔ اس طرح کے اتفاق رائے کے حصول کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں سیاسی فیصلے کرنے کی ذمہ داری مبہم قانونی تبدیلیوں ذریعے الیکشن کمیشن کو منتقل نہ کریں۔ الیکشن کمیشن کو اس طرح کے تنازعات میں گھسیٹنے سے آمدہ انتخابات اور ان کے نتائج کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

فافن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن کی استعداد بہتر بنانے اور اسے مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے قانونی اقدامات کرنے چاہییں۔ آرٹیکل 218 (3) کے تحت دیے اپنے آئینی مینڈیٹ کے تحت آزادانہ رائے دینے پر الیکشن کمیشن پر غیر ضروری تنقید آئین کے عدم احترام کے مترادف ہے اور یہ عمل الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 10 کے دائرے میں آسکتا ہے۔جو بات خاص طورپر تشویش کی حامل ہے وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو متعارف کرانے اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے سے جڑے پیچیدہ قانونی سوالات کا جواب دینے اور درکار اضافی قانون سازی کیے بغیر حکومت اس معاملے پرعملدرآمد کے لیے جارحانہ مہم چلا رہی ہے ۔

تنظیم کے مطابق مجوزہ ترمیم الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس کے قانونی ، انتظامی اثرات پر بغیر غور وفکر کیے بغیر عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین خریدنے کی اجازت دیتی ہے۔اس ترمیم کے تحت ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی قسم کا انتخاب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سپرد کردیا گیا ہیلیکن اس میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ خریدی جانے والی مشینیں ووٹنگ اور گنتی کے متعلق موجودہ قانونی شقوں پر پورا اتریں گی یا نہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 84 سے 90 تک ووٹنگ اور گنتی کے مراحل کا احاطہ کرتے ہیں۔

ان شقوں میں ترمیم کیے بغیر صرف مشینیں خریدنے سے الیکشن میں ان کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مشینوں کی خرید کے بعد ووٹنگ اور گنتی کے قوانین کو مشین کی محدودات کے مطابق تبدیل کرنا صائب نہیں ہو گا اور نہ ہی ان مراحل کو محض رولز میں ترامیم کر کے مشین کے تابع بنایا جانا چاہیے۔ ایسا کرنا پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار میں مداخلت ہو گا۔ مجوزہ ترمیم میں یہ بھی واضح نہیں کہ کیا خریدی جانے والی ٹیکنالوجی میں ووٹ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی توثیق اور تصدیق کی سہولت بھی شامل ہو گی یا نہیں۔ اس بارے میں موجودہ انتخابی قانون کے سیکشن 84 کے ذیلی سیکشن 2 میں پہلے ہی صراحت موجود ہے ۔

ووٹ ڈالنے کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ووٹرز کی تصدیق کی ٹیکنالوجی سے ممکنہ طور پر ووٹر کی رازداری کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے ذریعے ووٹرز کی پسند اور اس کے انتخاب کا پتہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ مزید، مشینیں خریدنے کے عمل سے پہلے مشینیں فروخت کرنے والی کمپنیوں کے کسی بھی کردار پر ممنوع قرار دیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح مجوزہ ترمیم میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے اپنے رہائشی ملک میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے قابل بنانے کے لیے انتخابی قوانین کے بہت سے پہلوں میں تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے جن کے بغیر ہی یہ حق استعمال نہیں ہو سکتا۔ اس ترمیم میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں خاص طور پر محنت کش ووٹرز کی اہلیت طے کرنے کی ذمہ داری جیسے پیچیدہ سوالات کا جواب موجود نہیں ہے ۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 94(2) میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کی تعریف موجود ہے مگر اس ترمیم کے تحت ان میں ووٹنگ کے لیے اہل کون سے لوگ ہوں گے اور کون سے نہیں؟ اسی طرح ان کا بطور ووٹر اندراج اور انکے حلقوں کا تعین کرنے کی ذمہ داری کا سوال بھی تشنہ ہے کہ وہ اپنی مرضی کے پتے اپنا ووٹ درج کرا سکیں گی یا صرف یا نائیکوپ پر درج مستقل پتہ پر ؟سیکشن 30 اور سیکشن 37 کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے لیے قانونی ضروریات پوری کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ موجودہ انتخابی قانون کے سیکشن 41 کے ذیلی سیکشن 2 کے تحت امیدواروں کو انتخابی فہرستوں کی فراہمی کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ ان فہرستوں میں ووٹروں کے صرف وہی پتے درج ہوتے ہیں جہاں انکا ووٹ درج ہے لیکن اگر ووٹرز ان پتوں پر رہائش پذیر ہونے کی بجائے بیرون ملک مقیم ہیں تو امیدوار اپنے ووٹرز سے رابطہ کیسے کر پائیں گے اور اور انہیں بیرون ملک جا کر انتخابی مہم چلانا پڑے تو مہم اور امیدواروں کے اخراجات کی حد کیا ہوگی؟

پولنگ کے دن ووٹروں کی تصدیق جو کہ سیکشن 84(1) کے تحت لازمی ہے، اوورسیز ووٹوں کی گنتی عبوری نتائج کی تیاری کے وقت کی جائیگی یا حتمی نتائج کے دوران کی جائیگی؟ بیرون ملک مختلف ٹائم زونز میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے ووٹ ڈالنے کا وقت کیا ہوگا؟ کیا ایڈوانس یا قبل از ووٹنگ متعارف کروائی جائے گی ؟ اوورسیز ووٹرز کی فہرست کیسے بنائی جائیگی، حلقے کی بنیاد پر ایک لسٹ یا پولنگ سٹیشنز پر مہیا کی جانیوالی فہرست کے مطابق جیسا پوسٹل بیلٹ کا طریقہ کار ہے ؟ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ووٹنگ پر امیدواروں کی نگرانی کا کیا نظام اپنایا جائیگا؟ ان تمام سوالوں کے جواب انتخابی قانون کے متعلقہ سیکشنز میں ترامیم کی صورت میں پارلیمان کو دینے چاہییں تبھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے رہائشی ملکوں میں حق دینے کا قانون قابل عمل ہو سکتا ہے۔