شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی محمد فہد شیروانی کا بلاگ

شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی
تحریر: محمد فہد شیروانی

29 مارچ 1952 کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے پاکستان کے نامور اداکار عابد علی 5 ستمبر 2019 کو 67 سال کی عمر میں اپنے پرستاروں کو روتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ عابد علی صاحب کی وفات سے پاکستان ایک با صلاحیت شخص، نرم خوانسان اور منجھے ہوئے اداکار سے محروم ہو گیا۔ عابد علی صاحب نے ٹی وی سکرین پر اپنی لازوال اداکاری سے ان گنت اچھوتے ڈرامائی کرداروں میں حقیقی زندگی کا رنگ سکرین بھرا۔ عابد علی صاحب نے بے شمار ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
عابد علی صاحب کے شوبز کیرئیر کا پہلا مشہور ڈرامہ ” وارث” اور آخری ڈرامہ "اپنے ہوئے پرائے” تھا۔ اسی طرح ان کی پہلی فلم "خاک اور خون” جبکہ آخری فلم "ہیر مان جا” تھی۔
بچپن سے ہی عابد علی صاحب کا رحجان فن اور آرٹ کی جانب تھا۔ جوانی میں عابد علی صاحب کہانیاں لکھتے اور پینٹنگ کیا کرتے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے عابد علی صاحب کچھ عرصہ بعد ہی لاہور شفٹ ہوگئے اور پاکستان ٹیلی ویژن اور ڈرامہ انڈسڑی سے وابستہ ہو گئے تھے۔ ابتداء میں ہی انہیں پی ٹی وی کے ڈرامہ "جھوک سیال” سے کامیابی مل گئی۔ عابد علی صاحب کو شہرت 1979 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے کلاسک ڈرامہ "وارث” کے کردار "دلاور خان” سے ملی۔
1985 میں عابد علی صاحب کو ان کی خدمات کے عوض "پرائیڈ آف پرفارمنس” ایوارڈ سے نوازا گیا۔
1993 میں عابد علی صاحب نے بطور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پاکستان کی تاریخ کا ہٹ ترین ڈرامہ "دشت” بنایا جو کہ پاکستانی ڈرامہ تاریخ کی پہلی پرائیویٹ پروڈکشن تھی۔ 1993 میں ہی انہوں نے پی ٹی وی کے لئے ڈرامہ سیریل "دوسرا آسمان” بنایا۔عابد علی صاحب کو بطور ڈائریکٹر اور ڈرامہ سیریل "دوسرا آسمان” کو بطور ڈرامہ یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ریکارڈنگ بیرون ملک کی گئی۔ اس کے بعد کامیابیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا اور ان گنت کامیابیوں نے عابد علی صاحب کے قدم چومے۔
منفرد، خوبصورت اور گرجدار آواز کے مالک عابد علی صاحب کا شمار پاکستان کے ان گنے چنے اداکاروں میں ہوتا ہے جن کی آواز نے پس پردہ رہ کر بے شمار ٹی وی کمرشلز، ڈاکومینٹری اور فلموں میں اپنا جادو جگایا۔
عابد علی صاحب کے قابل ذکر ڈراموں میں جھوک سیال، وارث، دشت، غلام گردش، مورت، مہندی، سمندر، دوسرا آسمان، بری عورت، ماسی اور ملکہ، آن، جہیز، کالا جادو، رخصتی اور دستار انا شامل ہیں۔ پروڈیوسر و ڈائریکٹر محسن طلعت کے پروڈکشن ہاؤس تلے مری میں بننے والے ڈرامہ سیریل "دستار انا” میں راقم کو بطور ایکٹر عابد علی صاحب کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ڈرامہ کی شوٹنگ کے دوران عابد علی صاحب کو جاننے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ لگ بھگ ایک ماہ ایک ہی ہوٹل میں عابد علی صاحب کے ساتھ یادگار وقت گزرا۔ شگفتہ انداز میں شائستہ گفتگو کرنے والے عابد علی صاحب ایک نہایت ہی شفیق اور نفیس انسان ثابت ہوئے۔ ان کی برجستگی کمال کی تھی۔ان کے ساتھ گزارے دنوں کی سنہری یادیں ہمیشہ دل میں زندہ رہیں گی۔ مری سے شروع ہونے والی محبت اور عقیدت کا تعلق عابد علی صاحب کے آخری وقت تک ان کے ساتھ استوار رہا اور ہمیشہ رہے گا۔
عابد علی منجھے ہوئے ڈرامہ ڈائریکٹر اور ایک انتہائ شاندار ایکٹر تھے۔ شوبز انڈسٹری کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اللہ تعالی عابد علی صاحب کی مغفرت کریں اور ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.