fbpx

دھمکی آمیز خط،تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ آ گیا

عمران خان منتخب وزیراعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں،عدالت

دھمکی آمیز خط،تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ آ گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی حکومت گرانے کی سازش کے مبینہ مراسلے کی تحقیقات کی درخواست خارج کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 5 صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے مبینہ مراسلے کی تحقیقات کی درخواست مسترد کردی جب کہ عدالت نے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا،فیصلے میں کہا گیا کہ کورٹ مطمئن ہے کہ غیرسنجیدہ درخواست سے ڈپلومیٹک کیبل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی سابق وزیراعظم پر درخواست میں لگائے گئے الزامات فرسودہ ہیں ڈپلومیٹک کیبل کو متنازعہ بنانا اور مقدمہ بازی میں لانا ملک اور عوامی مفاد کے خلاف ہے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ ملکی سلامتی کے حساس معاملات کو سیاسی بنائے نہ سنسنی پیدا کرے، ڈپلومیٹ اور اسکی خفیہ معلومات،تعین کو سیاسی تنازعہ میں دھکیلنا قومی مفاد کے خلاف ہے،خفیہ معلومات کو سیاسی تنازعوں میں دھکیلنا ڈپلومیسی اور بیرون ممالک سے تعلقات کے خلاف ہے،یہ طے شدہ قانون ہے کہ ملک کے خارجہ امور سے متعلق معاملات انتہائی حساس ہوتے ہیں آئین آرٹیکل 199 کے تحت غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال کر کے سماعت نہیں کی جا سکتی،دعوی ٰمبہم، تائید میں دستاویز نہیں کہ سفارتی کیبل کے موضوع پر کیس کا جواز پیش کیا جا سکے،پٹیشنر متعلقہ ممالک کے پاکستانی سفارتکاروں کی طرف سے سفارتی کیبل کی اہمیت سے آگاہ نہیں، سفارتی کیبلز اہمیت کی حامل ہیں اور ان تک رسائی محدود ہوتی ہے، سفارت کاروں کو یقین دہانی ہوتی ہے کہ ان کے تجزیے کو سنسنی خیز یا سیاسی نہیں بنایا جائے گا، سفارت کاروں کا فرض ہے کہ وہ جائزے، تجزیے اور نتائج کو ان ممالک سے شیئر کریں جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں،

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ سفارت کار کا بھیجا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، بظاہر نیشنل سیکیورٹی کمیٹی مطمئن ہے کہ کسی انکوائری کی ضرورت نہیں،ایسے حساس اور پیچیدہ معاملات کو مقدمہ بازی میں دھکیلنے کی بجائے دفتر خارجہ کو نمٹنا چاہیے ستم ظریفی ہے کہ ذمہ دار وکیل منتخب سابق وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ چلانے کی ہدایات کی استدعا کر رہا ہے،غداری کا بیان فرسودہ ہے کوئی شہری دوسرے سے زیادہ محب وطن ہونے کا دعوی ٰنہیں کر سکتا، کسی شہری کو کسی دوسرے کو غداری کا مرتکب قرار دینے کا اختیار نہیں،ہر شہری محب وطن اور ریاست کا وفادار ہے جب تک متعلقہ عدالت اسکے برعکس قرار نہ دے،

قبل ازیں درخواست میں عمران خان کا نام ای سی ایل میں شامل اور سنگین غداری کیس چلانے کی بھی استدعا کی گئی درخواست گزار مولوی اقبال حیدر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کی عدالت سے کیا استدعا ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا، معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا جائے،سیکریٹری داخلہ پابند ہیں کہ وہ مبینہ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کرائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس معاملے کو سیاسی کیوں بنا رہے ہیں؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے ، آپ کی استدعا کیا ہے ،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری تھی کہ تحقیقات کرواتے ،معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جاتے

درخؤاست گزار نے کہا کہ مشرف کیخلاف بھی سنگین غداری کیس چلایا گیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان منتخب وزیر اعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں، آپ ریاست پر اعتماد کریں، آپ اس معاملے سے متاثرہ نہیں ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ خط نہیں کیبل تھا، خط اور کیبل میں فرق ہو تا ہے ، مولوی اقبال نے کہا کہ اخبارات اور میڈیا میں ہر جگہ اسے خط لکھا جارہاہے عدالت نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے اور درخواست خارج کر دی گئی ہے

واضح رہے کہ شہری مولوی اقبال حیدر کی جانب سےدرخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، قاسم سوری اور اسد مجید کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی تھی،درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ کو وزیراعظم اور وزرا کیخلاف مبینہ خط سے متعلق انکوائری کا حکم دیا جائے درخواست پر فیصلہ ہونے تک وزیراعظم، وزرا اور اسد مجید نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،

دوسری جانب ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے رہنماوں کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیئے عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل اور شہزاد اکبر کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایف آئی اے کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس ، ڈی جی ایف آ ٓئی اے پنجاب زون ون ڈاکٹر محمد رضوان اور پی ٹی آئی کے ہیڈ آف سوشل میڈیا ارسلان خالد کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ